کتب حدیثالمنتقى ابن الجارودابوابباب: رسول اللہ ﷺ کی نماز کا طریقہ
حدیث نمبر: 177
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ، وَهَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى، قَالُوا: ثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ مَنْكِبَيْهِ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ وَبَعْدَمَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَلَا يَرْفَعُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ»
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔ آپ جب نماز شروع کرتے ، تو دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے ، اسی طرح جب رکوع کرتے اور رکوع سے سر اٹھاتے (تو رفع الیدین کرتے ) اور دونوں سجدوں کے درمیان رفع الیدین نہیں کرتے تھے ۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 177
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: متفق عليه
حدیث تخریج از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 735 - 736 - 738، صحيح مسلم: 290»
حدیث نمبر: 178
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: ثَنِي ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى إِذَا كَانَتَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ كَبَّرَ ثُمَّ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَهُمَا حَتَّى يَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ كَبَّرَ وَهُمَا كَذَلِكَ فَرَكَعَ ثُمَّ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْفَعَ صُلْبَهُ رَفَعَهُمَا حَتَّى يَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ثُمَّ يَسْجُدُ فَلَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي السُّجُودِ وَرَفَعَهُمَا فِي كُلِّ رَكْعَةٍ وَتَكْبِيرَةٍ كَبَّرَهَا قَبْلَ الرُّكُوعِ حَتَّى تَنْقَضِيَ صَلَاتُهُ
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے ، تو دونوں ہاتھ اٹھاتے ، جب ہاتھ کندھوں کے برابر ہو جاتے ، تو اللہ اکبر کہتے ، پھر جب رکوع جانے لگتے ، تو ان کو اٹھاتے ، یہاں تک کہ جب کندھوں کے برابر ہو جاتے ، تو اسی حالت میں اللہ اکبر کہتے ، رکوع کرنے کے بعد جب پشت اٹھانے لگتے ، تو ہاتھوں کو کندھوں کے برابر اٹھاتے ، پھر «سمع الله لمن حمده» کہتے ، پھر سجدہ کرتے ، تو سجدوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ نہیں اٹھایا کرتے تھے ، ہر رکعت اور رکوع سے پہلے ہر تکبیر میں ہاتھ اُٹھاتے تھے حتی کہ آپ کی نماز پوری ہو جاتی ۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 178
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: متفق عليه
حدیث تخریج از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 735، 736، 738، صحيح مسلم: 290»
حدیث نمبر: 179
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، وَأَبُو صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَمِّهِ الْمَاجِشُونِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ كَبَّرَ ثُمَّ قَالَ: «وَجَّهْتُ وَجْهِي لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» ، فَإِذَا رَكَعَ قَالَ: «اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعِظَامِي وَعَصَبِي» ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ قَالَ: «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ» ، فَإِذَا سَجَدَ قَالَ: «اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلْقَهُ وَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُوَرَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ» ، وَإِذَا فَرَغَ مَنْ صَلَاتِهِ فَسَلَّمَ قَالَ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَالْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ أَلَا أَنْتَ» ، قَالَ أَبُو صَالِحٍ: فِيهِمَا جَمِيعًا لَا إِلَهَ لِي إِلَّا أَنْتَ
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے ، تو «الله اكبر» کہتے: پھر یہ دعا پڑھتے: «وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ المُسْلِمِينَ ، اللهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلهَ إِلَّا أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا لَّا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» میں نے یکسو ہو کر اپنا چہرہ اس ہستی کی طرف پھیر لیا ہے ، جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ میری نماز ، میری قربانی ، میری زندگی اور میری موت اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں پہلا فرماں بردار ہوں ، اے اللہ! تو ہی بادشاہ ہے ، تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں ، تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں ، میں نے اپنے اوپر ظلم کیا اور اپنے گناہوں کا اعتراف کیا ، تو میرے سارے گناہ بخش دے ، کیوں کہ تیرے سوا گناہوں کو کوئی نہیں بخش سکتا ، مجھے سب سے اچھے اخلاق کی ہدایت دے ، کیوں کہ سب سے اچھے اخلاق کی ہدایت تیرے سوا کوئی نہیں دے سکتا ، برے اخلاق مجھ سے ہٹا دے، کیوں کہ مجھ سے برے اخلاق تیرے علاوہ کوئی نہیں ہٹا سکتا۔ میں حاضر ہوں ، حاضر ہوں ، تمام بھلائیاں تیرے ہاتھوں میں ہیں ، برائی کی نسبت تیری طرف نہیں ، میں تیرے ساتھ ہوں اور تیری طرف ہوں ، تو برکت والا اور بلند ہے ، میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں۔ جب رکوع میں جاتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِي وَعِظَامِي وَعَصَبِي» اے اللہ! میں تیرے ہی لیے جھکا ، تجھی پر ایمان لایا ، تیرا ہی فرمانبردار بنا ، میرے کان ، آنکھیں ، مغز ، ہڈیاں اور پٹھے تیرے ہی سامنے عاجز ہیں ۔ جب رکوع سے سر اٹھاتے ، تو یہ دعا پڑھتے: «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ» اللہ نے سن لیا ، جس نے اس کی تعریف کی ، اے ہمارے پروردگار ! تیرے لیے اتنی تعریف ہے ، جس سے آسمان و زمین اور ان کے بعد ہر وہ چیز بھر جائے جو تو چاہے۔ جب سجدہ کرتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلْقَهُ وَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُوَرَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ فَتَبَارَكَ اللهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ» اے اللہ ! میں نے تیرے ہی لیے سجدہ کیا ، تجھی پر ایمان لایا ، تیرا ہی فرمانبردار بنا ، میرے چہرے نے اس ہستی کے لیے سجدہ کیا ، جس نے اسے پیدا کیا ، اس کی خوبصورت شکل بنائی ، اس کے کانوں اور آنکھوں کے شگاف بنائے ، برکت والا ہے اللہ ، جو تمام بنانے والوں سے اچھا ہے۔ جب نماز سے فارغ ہو کر سلام پھیرتے ، تو یہ دعا پڑھتے: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَالْمُوَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» اے اللہ ! بخش دے جو میں نے پہلے کیا اور جو بعد میں کیا ، جو چھپ کر کیا اور جو علانیہ کیا ، جو زیادتی کی ، جسے تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے ، پہلے اور پیچھے کرنے والا تو ہی ہے ، تیرے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ ابو صالح نے سب مقامات پر یوں بیان کیا ہے: «لَّا إِلهَ لِي إِلَّا أَنْتَ» تیرے علاوہ میرا کوئی معبود نہیں۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 179
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح مسلم
حدیث تخریج از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 771»
حدیث نمبر: 180
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ: ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَنَزِيِّ، عَنِ ابْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الصَّلَاةَ قَالَ: «اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا ثَلَاثًا وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ نَفْخِهِ وَنَفْثِهِ وَهَمْزِهِ» ، قَالَ عَمْرٌو: نَفْخُهُ الْكِبْرُ، وَهَمْزُهُ الْمُوتَةُ، وَنَفْثُهُ الشِّعْرُ، وَقَالَ مِسْعَرٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ رَجُلِ مِنْ عَنَزَةَ وَاخْتُلِفَ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ فَمِنْهُمْ مَنْ قَالَ: عَنْ عَمَّارِ بْنِ عَاصِمٍ وَمِنْهُمْ مَنْ قَالَ عُمَارَةَ وَقَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَاصِمٍ
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں داخل ہوتے تو تین مرتبہ پڑھتے: «اللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا» اللہ سب سے بڑا ہے۔ اس کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں۔ اور «وَسُبْحَانَ اللهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَان الرَّحِيمِ مِنْ نَفْخِهِ وَنَفْيْهِ وَهَمْزِهِ» میں صبح و شام اللہ کی پاکیزگی بیان کرتا ہوں ، میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں ، شیطان مردود سے اس کی پھونک سے اس کی تھوک سے اور اس کے چوکے سے . عمرو کہتے ہیں: ”نفخ“ سے مراد تکبر ”ھمز“ سے مراد موت اور ”نفث“ سے مراد شعر ہیں۔ حصین سے بیان کرنے والوں نے ”عاصم عنزی“ کے نام میں اختلاف کیا ہے۔ بعض نے عمرو بن مرہ کہا ، بعض نے عمار بن عاصم ، بعض نے عمارہ اور ابن ادریس نے کہا: عمر وعن عباد بن عاصم کہا ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 180
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
حدیث تخریج از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند على بن الجعد: 105، مسند الإمام أحمد: 80/4 - 81، سنن أبى داؤد: 764، سنن ابن ماجه: 708، اس حديث كو امام ابن حبان رحمہ اللہ 1779-1780 نے ”صحيح“ كها هے، امام حاكم رحمہ اللہ 235/1 نے ”صحيح الاسناد“ كها هے، حافظ ذهبي رحمہ الله نے ان كي موافقت كي هے، حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ: [البدر المنير: 534/3] نے صحيح اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ [نتائج الافكار: 1/ 412] نے ”حسن“ كها هے. عاصم عنزي راوي ”حسن الحديث“ هے.»
حدیث نمبر: 181
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، قَالَ: ثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، وَعُقْبَةَ، وَأَبُو خَالِدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَلَمْ يَجْهَرُوا بِ {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} [الفاتحة: ١]
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابو بکر ، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم کے پیچھے نماز پڑھی ، تو انہوں نے «بسم الله الرحمن الرحيم» اونچی آواز سے نہ پڑھی ۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 181
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: متفق عليه
حدیث تخریج از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 743، صحيح مسلم: 399»
حدیث نمبر: 182
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانُوا يَفْتَتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِ {الْحَمْدِ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} [الفاتحة: ٢]
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما ، «الحمد لله رب العالمين» سے قرآت شروع کرتے تھے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 182
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: متفق عليه
حدیث تخریج از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 743، صحيح مسلم: 399»
حدیث نمبر: 183
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: ثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ: ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَلَمْ أَسْمَعْهُمْ يَجْهَرُونَ بِ {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} [الفاتحة: ١] ، قَالَ شُعْبَةُ: قُلْتُ لِقَتَادَةَ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابو بکر ، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم کے پیچھے نماز پڑھی، تو میں نے انہیں «بسم الله الرحمن الرحيم» اونچی آواز سے پڑھتے سنا۔ امام شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے امام قتادہ رحمہ اللہ سے پوچھا: آپ نے خود (سید نا انس رضی اللہ عنہ سے ) سنا ہے؟ فرمایا: جی ہاں !
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 183
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: متفق عليه
حدیث تخریج از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 743، صحيح مسلم: 399»
حدیث نمبر: 184
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: أَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: ثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ عَنِ ابْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ نُعَيْمِ الْمُجْمِرِ، قَالَ: صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَرَأَ {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} [الفاتحة: ١] ثُمَّ قَرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ حَتَّى بَلَغَ {وَلَا الضَّالِّينَ} [الفاتحة: ٧] فَقَالَ: آمِينَ وَقَالَ النَّاسُ: آمِينَ وَيَقُولُ كُلَّمَا سَجَدَ: اللَّهُ أَكْبَرُ فَإِذَا قَامَ مِنَ الْجُلُوسِ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ وَيَقُولُ إِذَا سَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَشْبَهُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
نعیم مجمر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی ، تو انہوں نے «بسم الله الرحمن الرحيم» پڑھ کر سورہ فاتحہ پڑھی ، جب «ولا الضالين» پر پہنچے ، تو ”آمین“ کہا ، لوگوں نے بھی آمین کہا۔ جب سجدے میں جاتے یا بیٹھ کر اٹھتے ، تو «الله اكبر» کہتے ، سلام پھیرنے کے بعد فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میری نماز تم سب کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ زیادہ مشابہ ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 184
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح
حدیث تخریج از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: اس حديث كو امام ابن خزيمه رحمہ الله 499 اور امام ابن حبان رحمہ اللہ 1798 نے ”صحيح“ كها هے. امام دارقطني رحمہ اللہ فرماتے هيں: هَذَا صَحِيحٌ وَرُوَاتُهُ كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ . [سنن الدارقطني: 305/1، ح: 1155]، امام حاكم رحمہ اللہ 233/1 نے اس حديث كو امام بخاري رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ كي شرط پر ”صحيح“ كها هے، حافظ ذهبي رحمہ الله نے ان كي موافقت كي هے، امام بيهقي رحمہ اللہ فرماتے هيں: هَذَا إِسْنَادُ صَحِيحٌ . [معرفة السنن والآثار: 773، 776]، امام خطيب بغدادي رحمہ اللہ فرماتے هيں: صَحِيحٌ، لَّا يَتَوَجَّهُ عَلَيْهِ تَعْلِيلٌ فِي اِتِّصَالِ سَنَدِهِ وَثِقَةِ رِجَالِهِ . [خلاصة الأحكام فى مهمات السنن وقواعد الإسلام للنووي: 371/1]»
حدیث نمبر: 185
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ، وَمَحْمُودُ بْنُ آدَمَ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، وَهَذَا حَدِيثُ ابْنِ الْمُقْرِئِ قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، رِوَايَةً وَقَالَ لِي مَرَّةً إِنَّهُ حَدَّثَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ»
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کی نماز نہیں ہوتی ، جس نے سورت فاتحہ نہ پڑھی ۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 185
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: متفق عليه
حدیث تخریج از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 756، صحيح مسلم: 394»
حدیث نمبر: 186
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ، قَالَ: ثَنَا يَحْيَى يَعْنِي الْقَطَّانَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ قَالَ: اخْرُجْ فَنَادِ فِي أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا صَلَاةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْقُرْآنِ فَمَا زَادَ» ، قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ: جَعْفَرٌ هَذَا رَوَى عَنْهُ الثَّوْرِيُّ وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا تھا: مدینہ والوں میں اعلان کر دیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: سورت فاتحہ اور کچھ زائد پڑھے بغیر نماز نہیں ہوتی ۔ ابو محمد کہتے ہیں کہ یہ جعفر ثوری اور عیسیٰ بن یونس کا شاگرد ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 186
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف
حدیث تخریج از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: مسند الإمام أحمد: 428/2، سنن أبى داود: 819-820، اس حديث كو امام ابن حبان رحمہ اللہ 1791 اور امام حاكم رحمہ اللہ 239/1 نے ”صحيح“ كها هے، حافظ ذهبي رحمہ اللہ نے ان كي موافقت كي هے، جعفر بن ميمون بصري راوي جمهور كے نزديك ”ضعيف“ هے.»
حدیث نمبر: 187
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ وَكَانَ يُسْمِعُنَا أَحْيَانًا الْآيَةَ وَكَانَ يُطِيلُ فِي الْأُولَى مَا لَا يُطِيلُ فِي الثَّانِيَةِ وَكَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَتَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ وَكَذَلِكَ فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ قَالَ: وَكَذَلِكَ فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ قَالَ: وَكَذَلِكَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ: وَرَوَاهُ مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ هَكَذَا، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ: وَصَلَاةِ الْفَجْرِ حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ عَنِ الْحُمَيْدِيِّ عَنْهُ
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں سورت فاتحہ اور مزید کوئی سورت پڑھا کرتے تھے ، کبھی کبھار کوئی آیت ہمیں سنا بھی دیا کرتے تھے۔ پہلی رکعت جس قدر لمبی کرتے ، دوسری اس قدر لمبی نہیں کرتے تھے اور آخری دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں (صرف) سورت فاتحہ پڑھا کرتے تھے۔ ابوقتادہ کہتے ہیں: نماز عصر اور فجر میں بھی آپ اسی طرح کیا کرتے تھے۔ ابومحمد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ایک اور سند سے بھی یہ روایت مروی ہے مگر اس میں نماز فجر کا ذکر نہیں ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 187
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: متفق عليه
حدیث تخریج از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 776، صحيح مسلم: 451»
حدیث نمبر: 188
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ " فِي كُلِّ صَلَاةٍ قِرَاءَةً فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ وَمَا أَخْفَى عَنَّا أَخْفَيْنَا عَنْكُمْ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: لَا صَلَاةَ إِلَّا بِقِرَاءَةٍ "
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہر نماز میں قرآت ہے ، جہاں آپ نے ہمیں سنایا ، ہم نے بھی آپ کو سنا دیا اور جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخفی رکھا ، ہم نے بھی مخفی رکھا ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: قرآت کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 188
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: متفق عليه
حدیث تخریج از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 772، صحيح مسلم: 396»
حدیث نمبر: 189
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ السَّكْسَكِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي شَيْئًا يُجْزِينِي عَنِ الْقُرْآنِ فَقَالَ: «قُلْ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ» قَالَ سُفْيَانُ: زَادَ يَزِيدُ أَبُو خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ قَالَ الرَّجُلُ: هَذَا لِرَبِّي فَمَا لِي؟ قَالَ: «قُلْ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَعَافِنِي» ، قَالَ الرَّجُلُ: أَرْبَعٌ لِرَبِّي وَأَرْبَعٌ لِي
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول ! مجھے ایسی چیز سکھا دیں، جو قرآن کی جگہ مجھے کفایت کر جائے، فرمایا: «سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ» کہیے۔ سفیان کہتے ہیں: ابو خالد واسطی کی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ اس آدمی نے کہا: یہ کلمات تو میرے رب کے لیے ہیں ، میرے لیے کیا ہے؟ فرمایا: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَعَافِنِي» اے اللہ ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت اور عافیت دے۔ ) پڑھیے۔ اس شخص نے کہا: چار کلمات میرے رب کے لیے ہیں اور چار ہی میرے لیے ہیں۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 189
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
حدیث تخریج از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 4/353، 356، سنن أبي داود: 832، سنن النسائي: 925، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (544)، امام ابن حبان رحمہ اللہ (1808، 1809، 1810) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (2411) نے امام بخاری رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔ امام سفیان ثوری رحمہ اللہ نے سماع کی تصریح کر رکھی ہے۔ ابراہیم سکسکی راوی ”حسن الحدیث“ ہے۔»
حدیث نمبر: 190
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَ: أَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَمَّنَ الْقَارِئُ فَأَمِّنُوا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُؤَمِّنُ فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ»
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب قاری (امام) آمین کہے، تو آپ بھی آمین کہیں ، کیوں کہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں۔ جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے مل گئی ، اس کے پہلے سارے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 190
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
حدیث تخریج از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري: 780، صحیح مسلم: 410»
حدیث نمبر: 191
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: ثَنَا مَالِكٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يُكَبِّرُ كُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ وَيَقُولُ: «إِنِّي لَأَشْبَهُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ (نماز میں ) جب بھی جھکتے یا اُٹھتے تو «الله اكبر» کہتے اور فرماتے: میری نماز آپ سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مشابہ ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 191
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
حدیث تخریج از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري: 785، صحیح مسلم: 392»
حدیث نمبر: 192
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: أَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ، فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدُهُمْ أَبُو قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهِم قَالَ: إِنِّي لَأَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا: لِمَ فَوَاللَّهِ مَا كُنْتَ أَكْثَرَنَا لَهُ تَبِعًا وَلَا أَبْعَدَ أَوْ قَالَ: أَطْوَلَ لَهُ مِنَّا صُحْبَةً قَالَ: بَلَى قَالُوا: فَأَعْرِضْ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ كَبَّرَ حَتَّى يَقِرَّ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلًا ثُمَّ يَقْرَأُ ثُمَّ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مِفْصَلِهِ ثُمَّ يَرْكَعُ وَيَضَعُ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ ثُمَّ يَعْتَدِلُ وَلَا يُصَوِّبُ وَلَا يُقْنِعُ ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ فَيَقُولُ: «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ، يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ مَنْكِبَيْهِ مُعْتَدِلًا قَالَ أَبُو عَاصِمٍ: أَظُنُّهُ قَالَ: حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ ثُمَّ يَقُولُ: «اللَّهُ أَكْبَرُ» ، ثُمَّ يَهْوِي إِلَى الْأَرْضِ مُجَافِيًا يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ ثُمَّ يَسْجُدُ ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ فَيُثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا وَكَانَ يَفْتَحُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ إِذَا سَجَدَ ثُمَّ يَعُودُ فَيَسْجُدُ ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ فَيَقُولُ: «اللَّهُ أَكْبَرُ» وَيُثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا مُعْتَدِلًا حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ ثُمَّ يَصْنَعُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ حَتَّى إِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ كَمَا فَعَلَ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ ثُمَّ صَنَعَ فِي بَقِيَّةِ صَلَاتِهِ مِثْلَ ذَلِكَ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الْقَعْدَةُ الَّتِي فِيهَا التَّسْلِيمُ أَخَّرَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَجَلَسَ مُتَوَرِّكًا عَلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ قَالُوا: صَدَقْتَ هَكَذَا كَانَ يَفْعَلُ
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سمیت دس صحابہ کی موجودگی میں کہا: رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو میں آپ سب سے زیادہ جانتا ہوں ، انہوں نے کہا: وہ کیسے؟ اللہ کی قسم ! نہ تو آپ ہم سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع کرنے والے تھے اور نہ ہی ہم سے زیادہ صحبت رکھنے والے تھے ، سیدنا ابو حمید رضی اللہ عنہ نے کہا: ٹھیک ہے! انہوں نے کہا: اچھا پھر پیش کریں۔ سیدنا ابو حمید رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے ، تو کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھاتے اور تکبیر کہتے حتی کہ ہر ہڈی اعتدال کے ساتھ اپنی اپنی جگہ آ جاتی ، پھر قرآت کرتے ، پھر تکبیر کہتے اور کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھاتے ، حتی کہ ہر ہڈی اپنے جوڑ پر واپس آ جاتی ، پھر رکوع کرتے اور ہتھیلیوں کو گھٹنوں پر رکھ کر بالکل سیدھے ہو جاتے ، نہ سر کو زیادہ جھکاتے ، نہ اونچا کرتے ، پھر سر اٹھاتے اور «سمع الله لمن حمده» کہتے ، پھر ہاتھوں کو کندھوں کے برابر اٹھاتے اور سیدھے کھڑے ہو جاتے ، ابو عاصم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میرے خیال میں یوں کہا تھا: حتی کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر واپس آ جاتی، پھر «الله اكبر» کہتے اور زمین کی طرف جھکتے ، دونوں ہاتھوں کو پہلوؤں سے دور رکھ کر سجدہ کرتے ، پھر سر اٹھاتے اور بایاں پاؤں موڑ کر اس کے اوپر بیٹھتے۔ جب سجدہ کرتے تو دونوں پاؤں کی انگلیاں کھلی رکھتے ، پھر دوبارہ سجدہ کرتے ، پھر «الله اكبر» کہتے اور اپنا سر اٹھاتے اور بایاں پاؤں موڑ کر اس پر اتنی دیر سیدھے بیٹھتے کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر لوٹ آتی ، پھر دوسری رکعت میں ایسے ہی کرتے ، پھر جب دو رکعتوں سے اٹھتے ، تو دونوں ہاتھ اسی طرح کندھوں کے برابر اٹھاتے ، جیسا کہ نماز شروع کرتے وقت اٹھاتے تھے ، پھر باقی نماز اسی طرح ادا کرتے ، حتی کہ جب آخری قعدہ ، جس میں سلام پھیرا جاتا ہے، میں ہوتے ، تو بائیں پاؤں کو (سرین کے نیچے سے دائیں طرف ) نکال کر بائیں کو لہے پر بیٹھتے۔ ان سب نے کہا: آپ نے سچ کہا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہی نماز پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 192
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح
حدیث تخریج از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 5/424، سنن أبي داود: 730، سنن الترمذي: 304، سنن ابن ماجه: 862، 1062، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (587)، امام ابن حبان رحمہ اللہ (1865)، حافظ خطابی رحمہ اللہ (معالم السنن: 1/194)، حافظ نووی رحمہ اللہ (خلاصة الاحکام: 1/353) اور حافظ ابن قیم رحمہ اللہ (تہذیب السنن: 2/416) نے صحیح کہا ہے، علامہ عینی حنفی رحمہ اللہ (نخب الافکار: 4/150) نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔ امام محمد بن یحییٰ ذیلی ابو عبداللہ نیساپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”جس نے یہ حدیث سن لی اور پھر وہ رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین نہ کرے، تو اس کی نماز ناقص ہے۔“ (صحیح ابن خزیمہ: 1/298، وسندہ صحیح)»
حدیث نمبر: 193
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: وثَنَا بِهِ أَبُو عَاصِمٍ، مَرَّةً أُخْرَى قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ، فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدُهُمْ أَبُو قَتَادَةَ قَالَ: إِنِّي لَأُعَلِّمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابْنُ يَحْيَى: وَسَاقَ الْحَدِيثَ
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سمیت دس صحابہ کی موجودگی میں کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو میں آپ سب سے زیادہ جانتا ہوں۔ ابن یحیٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں: آگے انہوں نے ساری حدیث بیان کی ۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 193
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح
حدیث تخریج از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده صحيح: انظر الحديث السابق»
حدیث نمبر: 194
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، قَالَ: ثَنَا هَمَّامٌ، قَالَ: ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، قَالَ: ثَنِي عَلِيُّ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمِّهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى الْقَوْمِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَعَلَيْكَ ارْجِعْ فَصَلِّهِ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ» ، قَالَ فَرَجَعَ فَصَلَّى قَالَ فَجَعَلْنَا نَرْمُقُ صَلَاتَهُ لَا نَدْرِي مَا يَعِيبُ مِنْهَا فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى الْقَوْمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَعَلَيْكَ ارْجِعْ فَصَلِّهِ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ» ، وَذَكَرَ ذَلِكَ إِمَّا مَرَّتَيْنِ وَإِمَّا ثَلَاثًا فَقَالَ الرَّجُلُ: مَا أَدْرِي مَا عِبْتَ عَلَيَّ مِنْ صَلَاتِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهَا لَا تَتِمُّ صَلَاةُ أَحَدِكُمْ حَتَّى يُسْبِغَ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ تَعَالَى فَيَغْسِلُ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ وَيَمْسَحُ بِرَأْسِهِ وَرِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثُمَّ يُكَبِّرُ اللَّهَ وَيَحْمَدُهُ وَيُمَجِّدَهُ وَيَقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا أَذِنَ اللَّهُ لَهُ فِيهِ وَتَيَسَّرَ ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَرْكَعُ فَيَضَعُ كَفَّيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ حَتَّى تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُهُ وَتَسْتَرْخِيَ ثُمَّ يَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ يَسْتَوِي قَائِمًا حَتَّى يَأْخُذَ كُلُّ عَظْمٍ مَأْخَذَهُ وَيُقِيمُ صُلْبَهُ ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَسْجُدُ فَيُمَكِّنُ جَبْهَتَهُ قَالَ هَمَّامٌ: وَرُبَّمَا قَالَ: فَيُمَكِّنُ وَجْهَهُ مِنَ الْأَرْضِ حَتَّى تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُهُ وَتَسْتَرْخِيَ ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيَسْتَوِي قَاعِدًا عَلَى مَقْعَدَتِهِ وَيُقِيمُ صُلْبَهُ فَوَصْفُ الصَّلَاةِ هَكَذَا حَتَّى فَرَغَ ثُمَّ قَالَ: «لَا تَتِمُّ صَلَاةُ أَحَدِكُمْ حَتَّى يَفْعَلَ ذَلِكَ»
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، ایک شخص مسجد میں داخل ہوا ، اس نے نماز پڑھی ، جب نماز پوری ہوئی ، تو آپ کے پاس آیا اور آپ سمیت سب لوگوں کو سلام کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جواب دیا اور فرمایا: واپس جا کر نماز پڑھیں ، کیوں کہ آپ نے نماز نہیں پڑھی۔ صحابی کہتے ہیں کہ اس نے واپس جا کر نماز پڑھی ، تو ہم اس کی نماز کو دیکھنے لگے ہمیں نہیں پتہ تھا کہ اس کی نماز میں کیا نقص ہے؟ جب نماز پوری ہوئی ، تو آپ کے پاس آیا اور آپ سمیت سب لوگوں کو سلام کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جواب دیا اور فرمایا: واپس جا کر دوبارہ نماز پڑھیں ، کیوں کہ آپ نے نماز نہیں پڑھی۔ دو یا تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا ، تو اس آدمی نے کہا: مجھے معلوم نہیں کہ آپ میری نماز میں کیا نقص پاتے ہیں؟ فرمایا: اس وقت تک کسی شخص کی نماز مکمل نہیں ہوتی ، جب تک اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق اچھی طرح وضو نہ کر لے ، اسے چاہیے کہ اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت دھوئے سر کا مسح کرے اور ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں دھوئے ، پھر تکبیر کہے، اللہ کی حمد و ثنا اور بزرگی بیان کرے ، پھر جس قدر ہو سکے، اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق قرآن کی تلاوت کرے، پھر تکبیر کہہ کر رکوع کرے اور اپنی ہتھیلیاں گھٹنوں پر رکھے ، یہاں تک کہ جوڑ اپنی جگہ پر پہنچ جائیں، پھر «سمع الله لمن حمده» کہہ کر سیدھا کھڑا ہو جائے ، یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر آ جائے اور کمر سیدھی ہو جائے، پھر تکبیر کہہ کر سجدہ کرے، تو اپنی پیشانی اچھی طرح زمین پر لگائے (ہمام رحمہ اللہ کہتے ہیں. بعض اوقات پیشانی کی جگہ چہرے کا ذکر کیا ہے ) یہاں تک کہ جوڑ اپنی جگہ پہنچ جائیں، پھر تکبیر کہہ کر سر اٹھائے اور اپنی سرین پر سیدھا بیٹھ جائے اور اپنی کمر کو سیدھا کر لے ، آپ نے پوری نماز اسی طرح بیان کی ، یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہو گئے ، پھر فرمایا: اس وقت تک کسی کی نماز پوری نہیں ہوتی، جب تک اس طرح نماز نہ پڑھے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 194
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح وللحديث طرق كثيرة
حدیث تخریج از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده صحيح وللحديث طرق كثيرة: مسند الإمام أحمد: 4/340، سنن أبي داود: 858، سنن النسائي: 1137، سنن ابن ماجه: 460، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ (302) نے حسن، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (545) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (1787) نے صحیح کہا ہے، اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ (1/241، 242) نے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے، علامہ عینی حنفی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ“ (نخب الافكار)»
حدیث نمبر: 195
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: ثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، وَيَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُجْزِي صَلَاةٌ لَا يُقِيمُ الرَّجُلُ فِيهَا صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ»
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی رکوع و سجود میں اپنی پشت سیدھی نہیں کرتا ، اس کی نماز کفایت نہیں کرتی ۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 195
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح
حدیث تخریج از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 4/119، سنن أبي داود: 855، سنن النسائي: 1027، سنن الترمذي: 265، سنن ابن ماجه: 780، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ اور حافظ بغوی رحمہ اللہ (617) نے حسن صحیح، امام ابوعوانہ رحمہ اللہ (1611)، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (591، 592) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (1892، 1893) نے صحیح کہا ہے۔ امام دارقطنی رحمہ اللہ (1/318) فرماتے ہیں: ”هَذَا إِسْنَادٌ ثَابِتٌ صَحِيحٌ“۔ امام بیہقی رحمہ اللہ (السنن الکبری: 2/88) نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے، حافظ ابونعیم اصبہانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”صَحِيحٌ ثَابِتٌ“ (حلية الأولياء: 8/16) اعمش نے سماع کی تصریح کر رکھی ہے۔»
حدیث نمبر: 196
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَ: أَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ إِدْرِيسَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ طَبَّقَ يَدَيْهِ بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ سَعْدًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: صَدَقَ أَخِي قَدْ كُنَّا نَفْعَلُ هَذَا ثُمَّ أَمَرَنَا بِهَذَا يَعْنِي الْإِمْسَاكَ بِالرُّكَبِ وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز سکھائی ، تو تکبیر کہہ کر دونوں ہاتھ اٹھائے ، جب رکوع میں گئے ، تو ہتھیلیوں کو جوڑ کر گھٹنوں کے درمیان رکھا۔ علقمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: جب یہ بات سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو پہنچی ، فرمایا: میرا بھائی سچ کہتا ہے، ہم ایسے ہی کیا کرتے تھے ، پھر ہمیں گھٹنے پکڑنے اور اور دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھنے کا حکم دیا گیا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 196
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح
حدیث تخریج از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 1/378، سنن أبي داود: 747، سنن النسائي: 1031، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (595) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (1/181، 224) نے اسے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (فتح الباری: 2/274) نے اسے قوی قرار دیا ہے۔»
حدیث نمبر: 197
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ، ح وَثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ، وَمَحْمُودُ بْنُ آدَمَ، قَالَا: ثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ قَالَ: «اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ بِمَكَّةَ اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ»
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز میں دوسرے رکوع سے سر اٹھایا تو یہ دُعا پڑھی: ”اے اللہ ! ولید بن ولید ، سلمہ بن ہشام ، عیاش بن ربیعہ اور مکہ کے کمزور مسلمانوں کو نجات دلا اور قبیلہ مضر پر اپنی گرفت سخت کر دے اور ان کو یوسف (علیہ السلام ) کے دور جیسی قحط سالی میں مبتلا کر دے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 197
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
حدیث تخریج از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري: 804، صحیح مسلم: 675»
حدیث نمبر: 198
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّدُوسِيُّ هوَ لَقَبُهُ عَارِمٌ، وَكَانَ بَعِيدًا مِنَ الْعَرَّامَةِ ثِقَةً صَدُوقًا مُسْلِمًا قَالَ: ثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو زَيْدٍ الْأَحْوَلُ قَالَ: ثَنَا هِلَالٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: " قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ وَالصُّبْحِ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ إِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ يَدْعُو عَلَى حَيٍّ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَيُؤَمِّنُ مَنْ خَلْفَهُ قَالَ: أَرْسَلَ يَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَقَتَلُوهُمْ قَالَ عِكْرِمَةُ: هَذَا مِفْتَاحُ الْقُنُوتِ
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہینہ بھر پانچوں نمازوں کے بعد مسلسل قنوت (نازلہ ) کیا ، جب آخری رکعت کے رکوع سے اٹھ کر «سمع الله لمن حمده» کہتے تو قبیلہ بنو سلیم (رعل ، ذکوان) کے خلاف بد دعا کرتے اور مقتدی آمین کہتے ، راوی کہتے ہیں: آپ نے انہیں اسلام کی دعوت دینے کے لیے (مبلغ ) بھیجے تھے ، جنہیں انہوں نے قتل کر دیا۔ عکرمہ کہتے ہیں قنوت (نازلہ) کی ابتدا یہیں سے ہوئی۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 198
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: حسن وللحديث شواهد
حدیث تخریج از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«حسن وللحديث شواهد: مسند الإمام أحمد: 1/301، 302، سنن أبي داود: 1443، اس حدیث کے بارے میں امام ابن جریر طبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”وَهَذَا خَبَرٌ صَحِيحٌ عِنْدَنَا سَنَدُهُ“ (تهذيب الآثار: 1/318- مسند ابن عباس)، نیز اسے امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (618) اور علامہ ابن القیم رحمہ اللہ (زاد المعاد: 1/271) نے صحیح کہا ہے۔ امام حاکم رحمہ اللہ (1/225) نے امام بخاری رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے، حافظ نووی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ أَوْ صَحِيحٍ“ (خلاصة الاحكام: 1/461، المجموع شرح المهذب: 3/502) حافظ منذری رحمہ اللہ (البدر المنیر لابن الملقن: 3/628)، حافظ حازمی رحمہ اللہ (الاعتبار، ص: 85) اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (نتائج الافکار: 2/130) نے اسے حسن کہا ہے۔»
حدیث نمبر: 199
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعٍ وَنَهَى أَنْ يَكُفَّ شَعْرًا أَوْ ثَوْبًا: عَلَى يَدَيْهِ وَرُكْبَتَيْهِ وَجَبْهَتِهِ وَأَطْرَافِ أَصَابِعِهِ
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات (اعضا) دو ہاتھ ، دو گھٹنے ، دونوں پاؤں کی انگلیوں کے کنارے اور پیشانی پر سجدہ کرنے کا حکم دیا ہے ، نیز بالوں اور کپڑوں کو سمیٹنے سے منع کیا ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 199
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
حدیث تخریج از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري: 809، صحیح مسلم: 490»
حدیث نمبر: 200
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ، قَالَ: ثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: ثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: وَالَّذِي أَكْرَمَهُ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا لَيْلَةً صَلَاةَ الْمَغْرِبِ وَإِنَّ جَبِينَهُ وَأَرْنَبَتَهُ لَفِي الْمَاءِ وَالطِّينِ
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس ذات کی قسم ، جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عزت دی اور آپ پر کتاب نازل کی! میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے اور آپ کی پیشانی اور ناک کی کونپل پانی اور مٹی (کیچڑ ) میں تھی ۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 200
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
حدیث تخریج از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 2040، مسند الحمیدی: 756، مسند الإمام أحمد: 3/24»
حدیث نمبر: 201
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ: ثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلْيَضَعْ يَدَيْهِ وَإِذَا رَفَعَ فَلْيَرْفَعْهُمَا فَإِنَّ الْيَدَيْنِ تَسْجُدَانِ كَمَا يَسْجُدُ الْوَجْهُ»
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی سجدہ کرے ، تو اپنے ہاتھوں کو بھی رکھے اور جب (سر ) اٹھائے ، تو ہاتھ بھی اٹھائے ، کیوں کہ چہرے کی طرح دونوں ہاتھ بھی سجدہ کرتے ہیں ۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 201
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح
حدیث تخریج از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 2/6، سنن أبي داود: 892، سنن النسائي: 1093، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (630) نے صحیح اور امام حاکم رحمہ اللہ (1/226، 227) نے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے، یہ روایت موطا امام مالک (1/163) میں بسند صحیح موقوفاً بھی ثابت ہے۔»
حدیث نمبر: 202
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ: ثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلْيَضَعْ يَدَيْهِ وَإِذَا رَفَعَ فَلْيَرْفَعْهُمَا فَإِنَّ الْيَدَيْنِ تَسْجُدَانِ كَمَا يَسْجُدُ الْوَجْهُ»
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو ضرور دیکھوں گا، بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نماز شروع کی تو تکبیر کہہ کر دونوں ہاتھ اٹھائے ، میں نے آپ کے انگوٹھوں کو کانوں کے قریب دیکھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پوری حدیث بیان کی۔ کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا ، تو اپنا سر دونوں ہاتھوں کے درمیان اتنے ہی فاصلے پر رکھا ، جتنا کہ افتتاحی تکبیر (تحریمہ) کے دوران تھا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 202
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح
حدیث تخریج از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده صحيح: سنن النسائي: 1102، سنن ابن ماجه: 912، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (691) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (1945) نے صحیح کہا ہے۔»
حدیث نمبر: 203
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، قَالَا: ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السِّتَارَةَ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ ابْنُ الْمُقْرِئِ: وَقَالَ مَرَّةً: فَأَرَادَ أَنْ يَنْقُصَ فَأَشَارَ إِلَيْهِ أَنِ امْكُثْ فَمَكَثَ فَقَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلَّا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةَ يَرَاهَا الرَّجُلُ أَوْ تُرَى لَهُ» ، ثُمَّ قَالَ: «أَلَا إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ» ، قَالَ ابْنُ الْمُقْرِئِ: وَقَالَ مَرَّةً «فَعَسَى» الْحَدِيثُ لِابْنِ الْمُقْرِئِ
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بیماری کے دوران ) پردہ ہٹایا، تو لوگ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صفیں بنائے کھڑے تھے، ابن مقریٔ کی روایت میں ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹنے لگے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکنے کا اشارہ کیا، تو وہ رُک گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! نبوت کی خوشخبریوں میں سے اب صرف نیک خواب ہی باقی رہ گئے ہیں ، جو آدمی خود دیکھتا ہے یا اس کے متعلق کسی کو دکھایا جاتا ہے۔ پھر فرمایا: مجھے حالت رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے ، چنانچہ رکوع میں اپنے رب کی عظمت بیان کریں اور سجدے میں دعا کرنے کی کوشش کریں ، کیوں کہ اس کا قبول ہونا بعید نہیں ۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 203
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
حدیث تخریج از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح مسلم: 479»
حدیث نمبر: 204
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: ثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْبَصْرِيُّ، قَالَ: ثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ: ثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَنَا فِي مَسْجِدِنَا فَصَلَّى بِنَا فَقَالَ: أُرِيدُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَالَ: «إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ جَلَسَ وَاعْتَمَدَ عَلَى الْأَرْضِ ثُمَّ قَامَ»
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
ابو قلابہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہماری مسجد میں آ کر کہنے لگے: میں تمھیں دکھانا چاہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے نماز پڑھا کرتے تھے؟ چنانچہ بیان کرنے لگے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب دوسرے سجدے سے سر اٹھاتے ، تو بیٹھ جاتے ، پھر زمین کا سہارا لے کر اٹھتے ۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 204
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
حدیث تخریج از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري: 824، صحیح مسلم: 391، مختصراً»
حدیث نمبر: 205
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: ثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا: السَّلَامُ عَلَى جِبْرِيلَ السَّلَامُ عَلَى مِيكَائِيلَ السَّلَامُ عَلَى إِسْرَافِيلَ السَّلَامُ عَلَى فُلَانٍ وَفُلَانٍ فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ فَإِذَا جَلَسْتُمْ فِي الصَّلَاةِ فَقُولُوا: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ فَإِنَّكُمْ إِذَا قُلْتُمُوهَا أَصَابَتْ كُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ثُمَّ يَتَخَيَّرُ مَا شَاءَ "
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے ، تو (تشہد میں) کہتے: جبرئیل پر سلام ہو، میکائیل پر سلام ہو، اسرافیل پر سلام ہو اور فلاں فلاں پر سلام ہو ، ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے: اللہ تعالیٰ تو خود ہی سلام ہے ، چنانچہ جب آپ نماز میں (تشہد ) بیٹھیں ، تو یوں کہیں: «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ» جب آپ یہ کلمات کہہ لیں تو زمین و آسمان اور ان دونوں کے درمیان موجود ہر نیک آدمی کو اس کا سلام پہنچ جائے گا۔ پھر کہیں: «أَشْهَدُ أَن لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» پھر جو (دعا) چاہیں، مانگیں ۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 205
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
حدیث تخریج از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري: 831، صحیح مسلم: 402»
حدیث نمبر: 206
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: ثَنِي الْحَكَمُ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: لَقِيَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: أَلَا أُهْدِي لَكَ هَدِيَّةً أَوْ أَلَا أُحَدِّثُكَ؟ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ عَرَفْنَا أَوْ قَدْ عَلِمْنَا السَّلَامَ عَلَيْكَ فَكَيْفَ الصَّلَاةُ؟ قَالَ: " قُولُوا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
ابن ابی لیلٰی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ ملے تو کہنے لگے: کیا میں تجھے تحفہ نہ دوں؟ یا یوں کہا: کیا میں آپ کو حدیث نہ بیان کروں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے، تو ہم نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ پر سلام کا طریقہ تو ہمیں معلوم ہو گیا ہے، ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟، فرمایا: یوں کہیں: اے اللہ! محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اور آل محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر رحمت نازل کر، جس طرح تو نے ابراہیم (علیہ السلام) اور آل ابراہیم (علیہ السلام) پر رحمت نازل کی ہے، بے شک تو تعریف اور بزرگی کے لائق ہے، محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اور آل محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر برکت نازل فرما، جس طرح تو نے آل ابراہیم پر برکت نازل کی، بے شک تو تعریف اور بزرگی کے لائق ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 206
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
حدیث تخریج از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري: 6357، صحیح مسلم: 406»
حدیث نمبر: 207
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَ: ثَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا تَشَهَّدَ أَحَدُكُمْ فَلْيَتَعَوَّذْ مِنْ أَرْبَعٍ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَفِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ وَمِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ ثُمَّ لَيَدَعُ لِنَفْسِهِ بِمَا بَدَا لَهُ»
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی تشہد بیٹھے، تو چار چیزوں سے پناہ مانگے، جہنم کے عذاب، قبر کے عذاب، زندگی اور موت کے فتنے اور مسیح دجال کے شر سے، پھر اپنے لیے جو چاہے، دعا مانگے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 207
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
حدیث تخریج از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري: 1377، صحیح مسلم: 588»
حدیث نمبر: 208
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ بْنِ قُدَامَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: لَأَنْظُرَنَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي قَالَ: فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ قَامَ فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا بِأُذُنَيْهِ ثُمَّ وَضَعَ كَفَّهُ الْيُمْنَى عَلَى ظَهْرِ كَفِّهِ الْيُسْرَى وَالرُّسْغِ وَالسَّاعِدِ ثُمَّ رَكَعَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ مِثْلَهَا ثُمَّ سَجَدَ فَجَعَلَ كَفَّيْهِ بِحَذَاءِ أُذُنَيْهِ ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ وَرُكْبَتِهِ الْيُسْرَى وَوَضَعَ حَدَّ مِرْفَقِهِ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى ثُمَّ قَبَضَ ثِنْتَيْنِ مِنْ أَصَابِعِهِ وَحَلَّقَ حَلْقَةً ثُمَّ رَفَعَ إِصْبَعَهُ فَرَأَيْتُهُ يُحَرِّكُهَا يَدْعُو ثُمَّ جِئْتُ بَعْدَ ذَلِكَ فِي زَمَنٍ فِيهِ بَرْدٌ فَرَأَيْتُ النَّاسَ وَعَلَيْهِمْ جَلُّ الثِّيَابِ تُحَرِّكُ أَيْدِيَهُمْ مِنْ تَحْتِ الثِّيَابِ
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو وائل رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں دیکھوں گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے نماز پڑھتے ہیں؟ پھر میں نے دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر تکبیر کہی اور دونوں ہاتھ کانوں کے برابر اٹھائے، پھر دائیں ہتھیلی کو بائیں ہتھیلی کی پشت، کلائی اور کلائی کے جوڑ پر رکھا، پھر رکوع کیا، تو اسی طرح ہاتھوں کو اٹھایا، پھر سجدے میں گئے، تو ہاتھ کانوں کے برابر رکھے، پھر جب بیٹھے، تو بائیں پاؤں کو بچھایا اور بائیں ہتھیلی کو بائیں ران اور گھٹنے پر رکھا اور دائیں کہنی کا کنارہ دائیں ران سے اٹھا کر رکھا، پھر اپنی دو انگلیوں کو بند کر کے حلقہ بنایا، پھر انگلی کو اٹھایا، دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے حرکت دے رہے تھے اور دُعا پڑھ رہے تھے۔ پھر سردی کے موسم میں آنا ہوا، تو لوگوں کو دیکھا کہ انہوں نے کپڑے کی بڑی بڑی چادریں لی ہوئی ہیں اور نیچے سے ان کے ہاتھ (رفع الیدین کے لیے) حرکت کر رہے ہیں۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 208
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح
حدیث تخریج از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 4/318، سنن أبي داود: 727، سنن النسائي: 889، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (480، 714) امام ابن حبان رحمہ اللہ (1860) اور علامہ ابن قیم رحمہ اللہ (زاد المعاد: 1/231) نے صحیح کہا ہے، حافظ نووی رحمہ اللہ (المجموع: 3/312) نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔»
حدیث نمبر: 209
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: أَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَعَنْ يَسَارِهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ مِنْ هَاهُنَا وَبَيَاضُ خَدِّهِ مِنْ هَاهُنَا
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم «السلام عليكم ورحمة الله» کہہ کر دائیں طرف سلام پھیرتے پھر «السلام عليكم ورحمته الله» کہ کر بائیں طرف سلام پھیرتے حتی کہ دونوں طرف سے رخساروں کی سفیدی نظر آتی۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 209
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
حدیث تخریج از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح: مسند الإمام أحمد: 1/408، 409، سنن أبي داود: 996، سنن النسائي: 1323-1326، سنن الترمذي: 295، سنن ابن ماجه: 914، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (728) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (1990) اور حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ (البدر المنیر: 4/471) نے صحیح کہا ہے۔ سفیان ثوری کی متابعت ہوتی ہے، ابو اسحاق نے مسند احمد (1/408) میں سماع کی تصریح کر رکھی ہے۔»