حدیث نمبر: 2255
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ كِلَاهُمَا ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " رَدِفْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا ، فَقَالَ : هَلْ مَعَكَ مِنْ شِعْرِ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ شَيْءٌ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : هِيهْ ، فَأَنْشَدْتُهُ بَيْتًا ، فَقَالَ : هِيهْ ، ثُمَّ أَنْشَدْتُهُ بَيْتًا ، فَقَالَ : هِيهْ ، حَتَّى أَنْشَدْتُهُ مِائَةَ بَيْتٍ " .
عمرو ناقد اور ابن ابی عمر، دونوں نے ابن عیینہ سے روایت کی۔ ابن ابی عمر نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی، ابراہیم بن میسرہ سے روایت ہے، انہوں نے عمرو بن شرید سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہا: ایک دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار ہوا تو آپ نے فرمایا:”کیا تمہیں امیہ بن ابی صلت کے شعروں میں سے کچھ یاد ہے؟“میں نے عرض کی، جی ہاں۔ آپ نے فرمایا:”تو لاؤ (سناؤ)۔“میں نے آپ کو ایک شعر سنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اور سناؤ۔“میں نے ایک اور شعر سنایا۔ آپ نے فرمایا:”اور سناؤ۔“میں نے ایک اور شعر سنایا۔ آپ نے فرمایا:”اور سناؤ۔“یہاں تک کہ میں نے آپ کو ایک سو اشعار سنائے۔“
حدیث نمبر: 2255
وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، جَمِيعًا ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ أَوْ يَعْقُوبَ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ الشَّرِيدِ ، قَالَ : أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ ، فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ .
یہی روایت امام صاحب کو دو اور اساتذہ نے سنائی کہ شرید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں۔ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے سوار کر لیا، آگے مذکورہ بالا روایت ہے۔
حدیث نمبر: 2255
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، كِلَاهُمَا ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّائِفِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : اسْتَنْشَدَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، وَزَادَ قَالَ : إِنْ كَادَ لِيُسْلِمُ ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : فَلَقَدْ كَادَ يُسْلِمُ فِي شِعْرِهِ .
یہی روایت امام صاحب دو اور اساتذہ کی سند سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شعر سننے کے تقاضا فرمایا، اس میں یہ اضافہ ہے، آپﷺ نے فرمایا، ”قریب تھا کہ وہ مسلمان ہو جاتا۔‘‘ ابن مہدی کی روایت میں ہے، آپﷺ نے فرمایا: ”وہ اپنے اشعار میں اسلام لانے کے قریب تھا۔‘‘
حدیث نمبر: 2256
حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ جميعا ، عَنْ شَرِيكٍ ، قَالَ ابْنُ حُجْرٍ : أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَشْعَرُ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَتْ بِهَا الْعَرَبُ كَلِمَةُ لَبِيدٍ : أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلٌ " .
شریک نے عبدالملک بن عمیر سے، انہوں نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا:”عربوں نے شعر میں جو سب سے عمدہ بات کہی وہ بات لبید کا یہ جملہ ہے: سن رکھو! اللہ کے سوا ہر چیز (جس کی عبادت کی جاتی ہے) باطل ہے۔“(دوسرا مصرع ہے: «وكلُّ نعيمٍ لا محالَةَ زائلُ» اور ہر نعمت لازمی طور پر زائل ہونے والی ہے)۔“
حدیث نمبر: 2256
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَصْدَقُ كَلِمَةٍ قَالَهَا شَاعِرٌ كَلِمَةُ لَبِيدٍ : أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلٌ " ، وَكَادَ أُمَيَّةُ بْنُ أَبِي الصَّلْتِ ، أَنْ يُسْلِمَ .
سفیان نے عبدالملک بن عمیر سے روایت کی، کہا: ہمیں ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”سب سے سچی بات جو کسی شاعر نے کہی لبید کی بات ہے: سن رکھو! اللہ کے سوا ہر چیز (جس کی عبادت کی جاتی ہے) باطل ہے۔“اور قریب تھا کہ امیہ بن ابی صلت مسلمان ہو جاتا۔“
حدیث نمبر: 2256
وحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَصْدَقُ بَيْتٍ قَالَهُ الشَّاعِرُ : أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلٌ " ، وَكَادَ ابْنُ أَبِي الصَّلْتِ أَنْ يُسْلِمَ .
زائدہ نے عبدالملک بن عمیر سے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”کسی بھی شاعر کا کہا ہوا سب سے سچا شعر وہ ہے جو لبید نے کہا ہے: سنو اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے۔“اور قریب تھا کہ امیہ بن ابی صلت مسلمان ہو جاتا۔“
حدیث نمبر: 2256
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَصْدَقُ بَيْتٍ قَالَتْهُ الشُّعَرَاءُ : أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلٌ " .
شعبہ نے عبدالملک بن عمیر سے، انہوں نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، کہ آپ نے فرمایا:”شاعروں کے کلام میں سب سے سچا شعر لبید کا ہے: سن رکھو! اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے۔“
حدیث نمبر: 2256
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا يَحْيَي بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ أَصْدَقَ كَلِمَةٍ قَالَهَا شَاعِرٌ ، كَلِمَةُ لَبِيدٍ : أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلٌ " ، مَا زَادَ عَلَى ذَلِكَ .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”سب سے سچا بول جو کسی شاعر نے بولا ہے، لبید کا قول ہے، ”خبردار، دنیا کی ہر چیز اللہ کے سوا فنا پذیر ہے۔‘‘ آپﷺ نے اس سے زائد نہیں کہا۔
حدیث نمبر: 2257
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، كِلَاهُمَا ، عَنْ الْأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ الرَّجُلِ قَيْحًا يَرِيهِ ، خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا " ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : إِلَّا أَنَّ حَفْصًا لَمْ يَقُلْ يَرِيهِ .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان کے پیٹ میں ایسی پیپ بھر جائے، جو اس کو بگاڑ دے، اس سے بہتر ہے کہ اس کا پیٹ شعروں سے بھرے۔‘‘ حفص کی روایت میں ”يريه‘‘
حدیث نمبر: 2258
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ سَعْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا يَرِيهِ ، خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا " .
حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا:”تم میں سے کسی شخص کا پیٹ پیپ سے بھر جائے وہ اس سے بہتر ہے کہ اس کا پیٹ شعر سے بھر جائے۔“
حدیث نمبر: 2259
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ يُحَنِّسَ مَوْلَى مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " بَيْنَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَرْجِ ، إِذْ عَرَضَ شَاعِرٌ يُنْشِدُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خُذُوا الشَّيْطَانَ ، أَوْ أَمْسِكُوا الشَّيْطَانَ لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ رَجُلٍ قَيْحًا ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا " .
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہا: ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عرج کے علاقے میں جا رہے تھے کہ ایک شاعر شعر پڑھتا ہوا سامنے سے گزرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”شیطان کو پکڑو، یا (فرمایا) شیطان کو روکو، انسان کے پیٹ کا پیپ سے بھر جانا اس سے بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھرے۔“