حدیث نمبر: 2241
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، قالا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وأبي سلمة بن عبد الرحمن عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عن رسول الله صلى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّ نَمْلَةً قَرَصَتْ نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ ، فَأَمَرَ بِقَرْيَةِ النَّمْلِ ، فَأُحْرِقَتْ ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ أَفِي أَنْ قَرَصَتْكَ نَمْلَةٌ أَهْلَكْتَ أُمَّةً مِنَ الْأُمَمِ تُسَبِّحُ " .
سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”(پہلے) انبیاء میں سے ایک نبی کو کسی چیونٹی نے کاٹ لیا، انہوں نے چیونٹیوں کی پوری بستی کے بارے میں حکم دیا تو وہ جلا دی گئی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ ایک چیونٹی کے کاٹنے کی وجہ سے آپ نے امتوں میں سے ایک ایسی امت (بڑی آبادی) کو ہلاک کر دیا جو اللہ کی تسبیح کرتی تھی؟“
حدیث نمبر: 2241
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيَّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " نَزَلَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ تَحْتَ شَجَرَةٍ ، فَلَدَغَتْهُ نَمْلَةٌ ، فَأَمَرَ بِجِهَازِهِ فَأُخْرِجَ مِنْ تَحْتِهَا ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا ، فَأُحْرِقَتْ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ فَهَلَّا نَمْلَةً وَاحِدَةً " .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک درخت کے نیچے انبیاء میں سے کوئی نبی اترا تو اسے ایک چیونٹی نے کاٹ لیا، سو اس نے اپنے سامان کو اس کے نیچے سے نکال لینے کا حکم دیا۔ پھر اس کو جلانے کا حکم دیا تو اسے جلا دیا گیا، اس پر اللہ نے اس کی طرف وحی کی، ایک ہی چیونٹی کو سزا کیوں نہیں دی؟‘‘
حدیث نمبر: 2241
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قال : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عن رسول الله صلى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَزَلَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ تَحْتَ شَجَرَةٍ ، فَلَدَغَتْهُ نَمْلَةٌ فَأَمَرَ بِجِهَازِهِ ، فَأُخْرِجَ مِنْ تَحْتِهَا وَأَمَرَ بِهَا فَأُحْرِقَتْ فِي النَّارِ ، قَالَ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ فَهَلَّا نَمْلَةً وَاحِدَةً " .
ہمام بن منبہ نے کہا: یہ احادیث ہیں جو ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں، پھر انہوں نے کچھ احادیث ذکر کیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”(پہلے) انبیاء علیہم السلام میں سے ایک نبی ایک درخت کے نیچے فروکش ہوئے انہیں ایک چیونٹی نے کاٹ لیا، انہوں نے ان کی پوری آبادی کے بارے میں حکم دیا، اسے نیچے سے (کھود کر) نکال لیا گیا، پھر اس کے بارے میں حکم دیا تو اس (پوری آبادی) کو آگ سے جلا دیا گیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی: (اس ایک ہی کو کیوں (سزا) نہ (دی؟)“