کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: سانپوں وغیرہ کو مارنے کا بیان میں۔
حدیث نمبر: 2232
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ . ح وحدثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت : " أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِقَتْلِ ذِي الطُّفْيَتَيْنِ ، فَإِنَّهُ يَلْتَمِسُ الْبَصَرَ ، وَيُصِيبُ الْحَبَلَ " .
عبدہ بن سلیمان اور ابن نمیر نے ہشام سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹھ پر دو سفید لکیروں والے سانپ کو قتل کرنے کا حکم دیا، کیونکہ وہ بصارت چھین لیتا ہے اور حمل کو نقصان پہنچاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب السلام / حدیث: 2232
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2232
وحدثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ الْأَبْتَرُ ، وَذُو الطُّفْيَتَيْنِ .
یہی روایت امام صاحب ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں، اس میں ہے، دم کٹے اور دو دھاری والے کا ذکر ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب السلام / حدیث: 2232
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2233
وحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ ، وَذَا الطُّفْيَتَيْنِ ، وَالْأَبْتَرَ فَإِنَّهُمَا يَسْتَسْقِطَانِ الْحَبَلَ وَيَلْتَمِسَانِ الْبَصَرَ " ، قَالَ : فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقْتُلُ كُلَّ حَيَّةٍ وَجَدَهَا ، فَأَبْصَرَهُ أَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ أَوْ زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ يُطَارِدُ حَيَّةً ، فَقَالَ : إِنَّهُ قَدْ نُهِيَ عَنْ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ .
سفیان بن عیینہ نے زہری سے، انہوں نے سالم سے، انہوں نے اپنے والد (حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما) سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی:”سانپوں کو قتل کردو اور (خصوصاً) دو سفید لکیروں والے اور دم بریدہ کو، کیونکہ یہ حمل گرادیتے ہیں اور بصارت زائل کردیتے ہیں۔“(سالم نے) کہا: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو جو بھی سانپ ملتا وہ اسے مار ڈالتے، ایک بار ابولبابہ بن عبدالمنذر یا زید بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کو دیکھا کہ وہ ایک سانپ کا پیچھا کر رہے تھے تو انہوں نے کہا: لمبی مدت سے گھروں میں رہنے والے سانپوں کو (فوری طور پر) مار دینے سے منع کیا گیا ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب السلام / حدیث: 2233
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2233
وحَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قال : سمعت رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْكِلَابِ ، يَقُولُ : " اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ وَالْكِلَابَ وَاقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ ، فَإِنَّهُمَا يَلْتَمِسَانِ الْبَصَرَ وَيَسْتَسْقِطَانِ الْحَبَالَى " ، قَالَ الزُّهْرِيُّ : وَنُرَى ذَلِكَ مِنْ سُمَّيْهِمَا وَاللَّهُ أَعْلَمُ ، قَالَ سَالِمٌ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : فَلَبِثْتُ لَا أَتْرُكُ حَيَّةً أَرَاهَا إِلَّا قَتَلْتُهَا ، فَبَيْنَا أَنَا أُطَارِدُ حَيَّةً يَوْمًا مِنْ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ ، مَرَّ بِي زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ أَوْ أَبُو لُبَابَةَ وَأَنَا أُطَارِدُهَا ، فَقَالَ : مَهْلًا يَا عَبْدَ اللَّهِ ، فَقُلْتُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِهِنَّ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَنْ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ .
زبیدی نے زہری سے روایت کی، کہا: مجھے سالم بن عبداللہ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ (آوارہ کتوں کو مار دینے کا حکم دیتے تھے، آپ نے فرمایا:”سانپوں اور کتوں کو مار دو اور سفید دھاریوں والے اور دم کٹے سانپ کو (ضرور) مارو، وہ دونوں بصارت زائل کردیتے ہیں اور حاملہ عورتوں کا اسقاط کرادیتے ہیں۔“زہری نے کہا: ہمارا خیال ہے یہ ان دونوں کے زہر کی بنا پر ہوتا ہے (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتانے سے اور ان سے تابعین اور محدثین نے یہی مفہوم اخذ کیا۔ یہی حقیقت ہے) واللہ اعلم۔ سالم نے کہا: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں ایک عرصہ تک کسی بھی سانپ کو دیکھتا تو نہ چھوڑتا، اسے مار دیتا۔ ایک روز میں مدت سے گھر میں رہنے والے ایک سانپ کا پیچھا کر رہا تھا کہ زید بن خطاب یا ابولبابہ رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے تو کہنے لگے: عبداللہ! رک جاؤ۔ میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مار دینے کا حکم دیا ہے، انہوں نے کہا: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدت سے گھروں میں رہنے والے سانپوں (کے قتل) سے روکا ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب السلام / حدیث: 2233
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2233
وحدثينيه حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ . ح وحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حدثنا أبى ، عَنْ صَالِحٍ كُلُّهُمْ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ صَالِحًا ، قال : حَتَّى رَآنِي أَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ وَزَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَقَالَا : إِنَّهُ قَدْ نَهَى عَنْ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ ، وَفِي حَدِيثِ يُونُسَ " اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ " ، وَلَمْ يَقُلْ : " ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ " .
یہی روایت امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ کی سندوں سے بیان کرتے ہیں، فرق یہ ہے صالح کہتے ہیں، حتیٰ کہ مجھے ابو لبابہ بن عبدالمنذر اور زید بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے دیکھ لیا اور دونوں نے کہا، واقعہ یہ ہے، آپﷺ نے گھریلو سانپوں کو قتل کرنے سے منع کر دیا ہے اور یونس کی حدیث میں ہے، ”سانپوں کو قتل کر دو۔‘‘ یہ نہیں کہا، ”دو دھاری والے اور دم کٹے کو۔‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب السلام / حدیث: 2233
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2233
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ . ح وحدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ كَلَّمَ ابْنَ عُمَرَ لِيَفْتَحَ لَهُ بَابًا فِي دَارِهِ يَسْتَقْرِبُ بِهِ إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَوَجَدَ الْغِلْمَةُ جِلْدَ جَانٍّ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : الْتَمِسُوهُ فَاقْتُلُوهُ ، فَقَالَ أَبُو لُبَابَةَ : لَا تَقْتُلُوهُ فَإِنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ الَّتِي فِي الْبُيُوتِ " .
نافع سے روایت ہے کہ ابو لبابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے، ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے گفتگو کی کہ ان کے لیے اپنے گھر میں دروازہ کھول دیں، اس سے وہ مسجد کے قریب ہو جائیں گے تو بچوں نے وہاں ایک سانپ کی کنج یا کینچلی پائی، اس پر حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، اس کو تلاش کر کے قتل کر دو تو ابو لبابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، اسے قتل نہ کرو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سانپوں کو قتل کرنے سے منع کر دیا ہے، جو گھروں میں رہتے ہیں۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب السلام / حدیث: 2233
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2233
وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، قال : كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقْتُلُ الْحَيَّاتِ كُلَّهُنَّ ، حَتَّى حَدَّثَنَا أَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ الْبَدْرِيُّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ قَتْلِ جِنَّانِ الْبُيُوتِ فَأَمْسَكَ " .
نافع بیان کرتے ہیں، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما ہر قسم کے سانپ قتل کر دیتے تھے، حتیٰ کہ ابو لبابہ عبدالمنذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھریلو سانپوں کو قتل کرنے سے منع کر دیا ہے تو وہ رک گئے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب السلام / حدیث: 2233
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2233
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَي وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا لُبَابَةَ يُخْبِرُ ابْنَ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ " .
نافع بیان کرتے ہیں کہ ابو لبابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (گھریلو) سفید باریک سانپوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب السلام / حدیث: 2233
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2233
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي لُبَابَةَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّه ، أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ أَخْبَرَهُ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ الَّتِي فِي الْبُيُوتِ " .
نافع سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ حضرت ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سانپوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا جو گھروں میں رہتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب السلام / حدیث: 2233
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2233
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ ، قال : سَمِعْتُ يَحْيَي بْنَ سَعِيدٍ ، يقول : أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ الْأَنْصَارِيَّ ، وَكَانَ مَسْكَنُهُ بِقُبَاءٍ فَانْتَقَلَ إِلَى الْمَدِينَةِ ، فَبَيْنَمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ جَالِسًا مَعَهُ يَفْتَحُ خَوْخَةً لَهُ ، إِذَا هُمْ بِحَيَّةٍ مِنْ عَوَامِرِ الْبُيُوتِ ، فَأَرَادُوا قَتْلَهَا ، فَقَالَ أَبُو لُبَابَةَ : " إِنَّهُ قَدْ نُهِيَ عَنْهُنَّ يُرِيدُ عَوَامِرَ الْبُيُوتِ ، وَأُمِرَ بِقَتْلِ الْأَبْتَرِ وَذِي الطُّفْيَتَيْنِ ، وَقِيلَ هُمَا اللَّذَانِ يَلْتَمِعَانِ الْبَصَرَ ، وَيَطْرَحَانِ أَوْلَادَ النِّسَاءِ " .
یحییٰ بن سعید کہہ رہے تھے: مجھے نافع نے خبر دی کہ حضرت ابولبابہ بن عبدالمنذر انصاری رضی اللہ عنہ، اور ان کا گھر قباء میں تھا وہ مدینہ منورہ منتقل ہو گئے۔ ایک دن حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے (ان کی خاطر) اپنا ایک دروازہ کھول رہے تھے کہ اچانک انہوں نے ایک سانپ دیکھا جو گھر آباد کرنے والے (مدت سے گھروں میں رہنے والے) سانپوں میں سے تھا۔ گھروالوں نے اس کو قتل کرنا چاہا تو حضرت ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ان کو، ان کی مراد گھروں میں رہنے والے سانپوں سے تھی، مارنے سے منع کیا گیا تھا۔ اور دم کٹے اور دو سفید دھاریوں والے سانپوں کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ کہا گیا: یہی دو سانپ ہیں جو نظر چھین لیتے ہیں اور عورتوں کے (پیٹ کے) بچوں کو گرادیتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب السلام / حدیث: 2233
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2233
وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ عِنْدَنَا ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قال : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَوْمًا عِنْدَ هَدْمٍ لَهُ ، فَرَأَى وَبِيصَ جَانٍّ ، فَقَالَ : اتَّبِعُوا هَذَا الْجَانَّ فَاقْتُلُوهُ ، قَالَ أَبُو لُبَابَةَ الْأَنْصَارِيُّ : إِنِّي سمعت رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ الَّتِي تَكُونُ فِي الْبُيُوتِ ، إِلَّا الْأَبْتَرَ وَذَا الطُّفْيَتَيْنِ فَإِنَّهُمَا اللَّذَانِ يَخْطِفَانِ الْبَصَرَ ، وَيَتَتَبَّعَانِ مَا فِي بُطُونِ النِّسَاءِ " .
نافع بیان کرتے ہیں، ایک دن، عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما اپنی گری دیوار کے پاس تھے اور انہوں نے سانپ کی چمک دیکھی تو کہا، اس سانپ کا پیچھا کرو اور اس کو قتل کر دو، ابو لبابہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ نے ان سانپوں کے قتل کرنے سے منع فرمایا جو گھروں میں ہوتے ہیں، مگر دم کٹا اور دو دھاری والا، کیونکہ وہ دونوں نظر اچک لیتے ہیں اور عورتوں کے پیٹ میں جو حمل ہوتا ہے، اس کا تعاقب کرتے ہیں، یعنی اس کو گرا دیتے ہیں۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب السلام / حدیث: 2233
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2233
وحدثنا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي أُسَامَةُ ، أَنَّ نَافِعًاحَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ مَرَّ بِابْنِ عُمَرَ وَهُوَ عِنْدَ الْأُطُمِ الَّذِي عِنْدَ دَارِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يَرْصُدُ حَيَّةً بِنَحْوِ حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ .
نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو لبابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے پاس سے گزرے، جبکہ وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر کے پاس واقع محل کے قریب ایک سانپ کی گھات میں تھے، جیسا کہ حدیث لیث بن سعد کی حدیث ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب السلام / حدیث: 2233
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2234
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَي ، قَالَ يَحْيَي وَإِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قال : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ ، وَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ وَالْمُرْسَلاتِ عُرْفًا سورة المرسلات آية 1 ، فَنَحْنُ نَأْخُذُهَا مِنْ فِيهِ رَطْبَةً ، إِذْ خَرَجَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ ، فَقَالَ : " اقْتُلُوهَا " ، فَابْتَدَرْنَاهَا لِنَقْتُلَهَا فَسَبَقَتْنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَقَاهَا اللَّهُ شَرَّكُمْ كَمَا وَقَاكُمْ شَرَّهَا " .
حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم ایک غار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور سورہ مرسلات اتر چکی تھی اور ہم آپ سے براہ راست تازہ تازہ سیکھ رہے تھے کہ اچانک ہمارے سامنے ایک سانپ نکلا تو آپﷺ نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو۔‘‘ سو ہم اس کے قتل کرنے کے لیے اس کی طرف لپکے تو وہ ہم سے نکل گیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے اس کو تمہارے شر سے بچا لیا، جیسا کہ تمہیں اس کے شر سے بچا لیا۔‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب السلام / حدیث: 2234
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2234
وحدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ .
یہی روایت امام صاحب کو ان کے دو اور اساتذہ نے سنائی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب السلام / حدیث: 2234
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2235
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ مُحْرِمًا بِقَتْلِ حَيَّةٍ بِمِنًى " .
حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک محرم کو منیٰ میں سانپ کو قتل کرنے کا حکم دیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب السلام / حدیث: 2235
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2234
وحدثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قال : بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ وَأَبِي مُعَاوِيَةَ .
عمر بن حفص بن غیاث نے کہا: ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں اعمش نے حدیث سنائی، کہا: مجھے ابراہیم نے اسود سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک غار میں تھے جس طرح جریر اور ابومعاویہ کی حدیث ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب السلام / حدیث: 2234
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2236
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ صَيْفِيٍّ وَهُوَ عِنْدَنَا مَوْلَى ابْنِ أَفْلَح ، أَخْبَرَنِي أَبُو السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فِي بَيْتِهِ ، قَالَ : فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي ، فَجَلَسْتُ أَنْتَظِرُهُ حَتَّى يَقْضِيَ صَلَاتَهُ ، فَسَمِعْتُ تَحْرِيكًا فِي عَرَاجِينَ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ ، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا حَيَّةٌ فَوَثَبْتُ لِأَقْتُلَهَا ، فَأَشَارَ إِلَيَّ أَنِ اجْلِسْ فَجَلَسْتُ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَشَارَ إِلَى بَيْتٍ فِي الدَّارِ ، فَقَالَ : أَتَرَى هَذَا الْبَيْتَ ؟ ، فَقُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : كَانَ فِيهِ فَتًى مِنَّا حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ ، قَالَ : فَخَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْخَنْدَقِ ، فَكَانَ ذَلِكَ الْفَتَى يَسْتَأْذِنُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنْصَافِ النَّهَارِ ، فَيَرْجِعُ إِلَى أَهْلِهِ ، فَاسْتَأْذَنَهُ يَوْمًا ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُذْ عَلَيْكَ سِلَاحَكَ فَإِنِّي أَخْشَى عَلَيْكَ قُرَيْظَةَ " ، فَأَخَذَ الرَّجُلُ سِلَاحَهُ ثُمَّ رَجَعَ ، فَإِذَا امْرَأَتُهُ بَيْنَ الْبَابَيْنِ قَائِمَةً ، فَأَهْوَى إِلَيْهَا الرُّمْحَ لِيَطْعُنَهَا بِهِ ، وَأَصَابَتْهُ غَيْرَةٌ ، فَقَالَتْ لَهُ : اكْفُفْ عَلَيْكَ رُمْحَكَ وَادْخُلِ الْبَيْتَ حَتَّى تَنْظُرَ مَا الَّذِي أَخْرَجَنِي ، فَدَخَلَ فَإِذَا بِحَيَّةٍ عَظِيمَةٍ مُنْطَوِيَةٍ عَلَى الْفِرَاشِ ، فَأَهْوَى إِلَيْهَا بِالرُّمْحِ فَانْتَظَمَهَا بِهِ ، ثُمَّ خَرَجَ فَرَكَزَهُ فِي الدَّارِ ، فَاضْطَرَبَتْ عَلَيْهِ ، فَمَا يُدْرَى أَيُّهُمَا كَانَ أَسْرَعَ مَوْتًا الْحَيَّةُ أَمْ الْفَتَى ، قَالَ : فَجِئْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ ، وَقُلْنَا ادْعُ اللَّهَ يُحْيِيهِ لَنَا ، فَقَالَ : " اسْتَغْفِرُوا لِصَاحِبِكُمْ " ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ بِالْمَدِينَةِ جِنًّا قَدْ أَسْلَمُوا ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهُمْ شَيْئًا ، فَآذِنُوهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، فَإِنْ بَدَا لَكُمْ بَعْدَ ذَلِكَ ، فَاقْتُلُوهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ " .
ہشام بن زہرہ کے ایک آزاد کردہ غلام ابو سائب بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس ان کے گھر گیا تو میں نے انہیں نماز پڑھتے پایا تو میں ان کے انتظار میں بیٹھ گیا تاکہ وہ اپنی نماز سے فارغ ہو جائیں، سو میں نے گھر کے ایک کونے میں پڑی کھجور کی چھڑیوں میں حرکت سنی، میں متوجہ ہوا تو وہاں سانپ تھا، میں اس کو قتل کرنے کے لیے جھپٹا تو انہوں نے مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا، سو میں بیٹھ گیا، جب انہوں نے سلام پھیرا تو انہوں نے گھر میں ایک کمرے کی طرف اشارہ کیا یا حویلی کے ایک گھر کی طرف اشارہ کیا اور کہا، کیا تم یہ گھر دیکھ رہے ہو؟ میں نے کہا، جی ہاں، انہوں نے کہا، اس میں نئی نئی شادی والا ہمارا ایک نوجوان تھا، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خندق کی طرف چلے گئے، وہ نوجوان دوپہر کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے کر، اپنی بیوی کے پاس لوٹ آتا، اس نے ایک دن آپ سے اطازت طلب کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”ہتھیار بند کر جاؤ، کیونکہ مجھے تیرے بارے میں بنو قریظہ سے خطرہ محسوس ہوتا ہے۔‘‘ اس آدمی نے اپنا اسلحہ لے لیا، پھر واپس گھر پہنچا تو اس کی بیوی دروازے کے دونوں کواڑوں کے درمیان کھڑی تھی تو اس نے اس کی طرف، اسے مارنے کے لیے نیزہ جھکایا، کیونکہ اسے غیرت آ گئی تھی (کہ یہ باہر کیوں کھڑی ہے) تو اس کی بیوی نے کہا، اپنا نیزہ روکو اور گھر میں داخل ہو کر دیکھو، میں کیوں نکلی ہوں، وہ داخل ہوا تو اس نے ایک بہت بڑا سانپ بستر پر کنڈلی مارے ہوئے پایا، اس نے اس کی طرف نیزہ جھکایا اور اسے اس میں پرو لیا، پھر باہر نکل کر اسے حویلی میں گاڑ دیا، وہ سانپ اس کی طرف لوٹا تو پتہ نہ چل سکا، ان میں سے پہلے کون مرا، سانپ یا نوجوان؟ تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو یہ واقعہ سنایا اور عرض کیا، اللہ سے دعا کیجئے، اللہ اس کو ہماری خاطر زندگی عطا فرما دے، آپﷺ نے فرمایا: ”اپنے ساتھی کے لیے بخشش طلب کرو۔‘‘ پھر فرمایا: ”مدینہ میں کچھ جن اسلام لا چکے ہیں، اس لیے جب تم ان میں سے کسی کو دیکھو تو اسے تین دن آگاہ کرو، اگر اس کے بعد پھر تمہارے سامنے آئے تو اسے قتل کر دو، کیونکہ وہ شیطان ہے۔‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب السلام / حدیث: 2236
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2236
وحدثني مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، حدثنا أبى ، قَالَ : سَمِعْتُ أَسْمَاءَ بْنَ عُبَيْدٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ السَّائِبُ وَهُوَ عِنْدَنَا أَبُو السَّائِبِ ، قال : دَخَلْنَا عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، فَبَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ إِذْ سَمِعْنَا تَحْتَ سَرِيرِهِ حَرَكَةً ، فَنَظَرْنَا فَإِذَا حَيَّةٌ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ نَحْوَ ، حَدِيثِ مَالِكٍ ، عَنْ صَيْفِيٍّ ، وَقَالَ فِيهِ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِهَذِهِ الْبُيُوتِ عَوَامِرَ ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْهَا ، فَحَرِّجُوا عَلَيْهَا ثَلَاثًا فَإِنْ ذَهَبَ ، وَإِلَّا فَاقْتُلُوهُ فَإِنَّهُ كَافِرٌ " ، وَقَالَ لَهُمْ : " اذْهَبُوا فَادْفِنُوا صَاحِبَكُمْ " .
جریر بن حازم نے کہا: میں نے اسماء بن عبید کو ایک آدمی سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، جسے سائب کہا جاتا تھا۔ وہ ہمارے نزدیک ابوسائب ہیں۔ انہوں نے کہا: ہم حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوئے، ہم بیٹھے ہوئے تھے جب ہم نے ان کی چارپائی کے نیچے (کسی چیز کی) حرکت کی آواز سنی۔ ہم نے دیکھا تو وہ ایک سانپ تھا، پھر انہوں نے پورے واقعے سمیت صیفی سے امام مالک کی روایت کردہ حدیث کی طرح حدیث بیان کی، اور اس میں کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”ان گھروں میں کچھ مخلوق آباد ہے۔ جب تم ان میں سے کوئی چیز دیکھو تو تین دن تک ان پر تنگی کرو (تاکہ وہ خود وہاں سے کہیں اور چلے جائیں) اگر وہ پہلے جائیں (تو ٹھیک) ورنہ ان کو مار دو کیونکہ پھر وہ (نہ جانے والا) کافر ہے۔“اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:”جاؤ اور اپنے ساتھی کو دفن کردو۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب السلام / حدیث: 2236
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2236
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، حَدَّثَنِي صَيْفِيٌّ ، عَنْ أَبِي السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قال : سَمِعْتُهُ قَالَ : قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِنَّ بِالْمَدِينَةِ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ قَدْ أَسْلَمُوا ، فَمَنْ رَأَى شَيْئًا مِنْ هَذِهِ الْعَوَامِرِ ، فَلْيُؤْذِنْهُ ثَلَاثًا ، فَإِنْ بَدَا لَهُ بَعْدُ ، فَلْيَقْتُلْهُ فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ " .
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ میں کچھ جن ہیں، جو مسلمان ہو چکے ہیں تو جو ان گھروں کو آباد کرنے والے کسی جن کو دیکھے تو اسے تین دن تک اجازت دے، اگر اس کے بعد سامنے آئے تو اسے قتل کر دے، کیونکہ وہ شیطان ہے۔‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب السلام / حدیث: 2236
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»