کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: طاعون، بدفالی اور کہانت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2218
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قال : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، وأبي النضر مولى عمر بن عبيد الله ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَسْأَلُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْد مَاذَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الطَّاعُونِ ؟ فَقَالَ أُسَامَةُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " الطَّاعُونُ رِجْزٌ أَوْ عَذَابٌ أُرْسِلَ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ أَوْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ " ، وقَالَ أَبُو النَّضْرِ : لَا يُخْرِجُكُمْ إِلَّا فِرَارٌ مِنْهُ .
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہ سے دریافت کیا، آپ نے طاعون کے بارے میں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا سنا ہے؟ تو حضرت اسامہ رضی اللہ تعالی عنہ نے جواب دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”طاعون ایک قسم کا رجز یا عذاب ہے، جو بنی اسرائیل یا تم سے پہلے لوگوں پر بھیجا گیا، اس لیے جب تم کسی زمین میں اس کے موجود ہونے کے بارے میں سن لو تو وہاں نہ جاؤ، اور جب ایسی زمین میں پایا جائے، جہاں تم ہو تو اس سے ڈر کر نہ نکلوئ‘ ابو نضر کہتے ہیں، ”تمہیں اس سے فرار ہی نہ نکالے۔‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب السلام / حدیث: 2218
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2218
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قالا : أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ ، وَنَسَبَهُ ابْنُ قَعْنَبٍ فَقَالَ : ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قال : قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الطَّاعُونُ آيَةُ الرِّجْزِ ابْتَلَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ نَاسًا مِنْ عِبَادِهِ ، فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِ ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَفِرُّوا مِنْهُ " . هَذَا حَدِيثُ الْقَعْنَبِيِّ وَقُتَيْبَةَ نَحْوُهُ .
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب اور قتیبہ بن سعید نے کہا: ہمیں مغیرہ بن عبدالرحمن قرشی نے ابونضر سے حدیث بیان کی، انہوں نے عامر بن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”طاعون عذاب کی علامت ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں میں کچھ لوگوں کو طاعون میں مبتلا کیا، جب تم طاعون کے بارے میں سنو تو وہاں مت جاؤ اور جب اس سرزمین میں طاعون واقع ہو جائے جہاں تم ہو تو وہاں سے مت بھاگو۔“ یہ قعنبی کی حدیث ہے، قتیبہ نے بھی اس طرح بیان کیا ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب السلام / حدیث: 2218
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2218
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حدثنا أبى حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أُسَامَةَ ، قال : قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ هَذَا الطَّاعُونَ رِجْزٌ سُلِّطَ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ أَوْ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ ، فَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا فِرَارًا مِنْهُ ، وَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوهَا " .
سفیان نے محمد بن منکدر سے، انہوں نے عامر بن سعد سے، انہوں نے اسامہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ طاعون ایک عذاب ہے جو تم سے پہلے لوگوں پر مسلط کیا گیا تھا، یا (فرمایا:) بنی اسرائیل پر مسلط کیا گیا تھا، اگر یہ کسی علاقے میں ہو تو تم اس سے بھاگ کر وہاں سے نہ نکلنا اور اگر کسی (دوسری) سرزمین میں (طاعون) موجود ہو تو تم اس میں داخل نہ ہونا۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب السلام / حدیث: 2218
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2218
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ عَامِرَ بْنَ سَعْدٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ عَنِ الطَّاعُونِ ، فَقَالَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَا أُخْبِرُكَ عَنْهُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هُوَ عَذَابٌ أَوْ رِجْزٌ أَرْسَلَهُ اللَّهُ عَلَى طَائِفَةٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَوْ نَاسٍ كَانُوا قَبْلَكُمْ ، فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوهَا عَلَيْهِ ، وَإِذَا دَخَلَهَا عَلَيْكُمْ فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا فِرَارًا " .
حضرت عامر بن سعد بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ سے طاعون کے بارے میں دریافت کیا تو حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہما کہنے لگے، اس کے بارے میں میں تمہیں بتاتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک عذاب اور دکھ ہے، جو اللہ نے بنی اسرائیل کے ایک گروہ یا تم سے پہلے کچھ لوگوں پر بھیجا، سو جب تم کسی زمین میں اس کا پایا جانا سنو تو وہاں نہ جاؤ اور جب یہ تمہارے علاقہ میں پڑ جائے تو اس سے بھاگتے ہوئے نہ نکلو۔‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب السلام / حدیث: 2218
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2218
وحدثنا أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ كِلَاهُمَا ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ بِإِسْنَادِ ابْنِ جُرَيْجٍ نَحْوَ حَدِيثِهِ .
یہی روایت امام صاحب کو تین اور اساتذہ نے سنائی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب السلام / حدیث: 2218
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2218
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، قالا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عن رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ هَذَا الْوَجَعَ أَوِ السَّقَمَ رِجْزٌ عُذِّبَ بِهِ بَعْضُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمْ ، ثُمَّ بَقِيَ بَعْدُ بِالْأَرْضِ فَيَذْهَبُ الْمَرَّةَ وَيَأْتِي الْأُخْرَى ، فَمَنْ سَمِعَ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا يَقْدَمَنَّ عَلَيْهِ ، وَمَنْ وَقَعَ بِأَرْضٍ وَهُوَ بِهَا فَلَا يُخْرِجَنَّهُ الْفِرَارُ مِنْهُ " .
یونس نے ابن شہاب سے، انہوں نے عامر بن سعد سے خبر دی، انہوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بیماری (طاعون ایک) عذاب ہے جو تم سے پہلے ایک امت کو ہوا تھا۔ پھر وہ زمین میں رہ گیا۔ کبھی چلا جاتا ہے، کبھی پھر آتا ہے۔ لہٰذا جو کوئی کسی ملک میں سنے کہ وہاں طاعون ہے، تو وہ وہاں نہ جائے اور جب اس کے ملک میں طاعون نمودار ہو تو وہاں سے بھاگے بھی نہیں۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب السلام / حدیث: 2218
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2218
وحدثنا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّبِإِسْنَادِ يُونُسَ نَحْوَ حَدِيثِهِ .
یہی روایت امام صاحب کو ایک اور استاد نے سنائی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب السلام / حدیث: 2218
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2218
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ حَبِيبٍ ، قال : كُنَّا بِالْمَدِينَةِ ، فَبَلَغَنِي أَنَّ الطَّاعُونَ قَدْ وَقَعَ بِالْكُوفَةِ ، فَقَالَ لِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ وَغَيْرُهُ : إن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا كُنْتَ بِأَرْضٍ فَوَقَعَ بِهَا ، فَلَا تَخْرُجْ مِنْهَا ، وَإِذَا بَلَغَكَ أَنَّهُ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلْهَا " ، قَالَ : قُلْتُ عَمَّنْ قَالُوا : عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ يُحَدِّثُ بِهِ ، قَالَ : فَأَتَيْتُهُ ، فَقَالُوا : غَائِبٌ ، قَالَ : فَلَقِيتُ أَخَاهُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدٍ ، فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : شَهِدْتُ أُسَامَةَ يُحَدِّثُ سَعْدًا ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ هَذَا الْوَجَعَ رِجْزٌ أَوْ عَذَابٌ أَوْ بَقِيَّةُ عَذَابٍ عُذِّبَ بِهِ أُنَاسٌ مِنْ قَبْلِكُمْ ، فَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا ، وَإِذَا بَلَغَكُمْ أَنَّهُ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوهَا " ، قَالَ حَبِيبٌ : فَقُلْتُ لِإِبْرَاهِيمَ : آنْتَ سَمِعْتَ أُسَامَةَ يُحَدِّثُ سَعْدًا وَهُوَ لَا يُنْكِرُ ، قَالَ : نَعَمْ .
حبیب بیان کرتے ہیں، ہم مدینہ میں تھے تو مجھے پتہ چلا کوفہ میں طاعون پڑ گیا ہے تو مجھے عطاء بن یسار اور دوسروں نے بتایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ”جب تم کسی علاقہ میں ہو اور وہاں یہ پڑ جائے تو وہاں سے نہ نکلو اور جب تمہیں پتہ چل جائے کہ وہ کسی علاقہ میں ہے تو وہاں نہ جاؤ‘‘ میں نے پوچھا، یہ روایت کس نے بیان کی ہے؟ انہوں نے کہا یہ حدیث عامر بن سعد بیان کرتے ہیں، میں ان کے ہاں گیا تو بتایا گیا، وہ موجود نہیں ہے تو میں ان کے بھائی ابراہیم بن سعد کو ملا اور اس کے بارے میں اس سے پوچھا؟ اس نے کہا، میری موجودگی میں حضرت اسامہ ؓ نے حضرت سعد کو بتایا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”یہ درد، رجز اور عذاب ہے، یا عذاب کا باقی حصہ ہے، جس سے تم سے پہلے لوگوں کو دکھ پہنچایا گیا، لہذا اگر یہ ایسے علاقہ میں ہو، جہاں تم موجود ہو تو وہاں سے نکلو نہیں اور جب تمہیں پتہ چلے کہ وہ کسی زمین (علاقہ) میں ہے تو وہاں نہ جاؤ‘‘ حبیب کہتے ہیں، میں نے ابراہیم سے کہا، کیا آپ نے اسامہ رضی اللہ تعالی عنہ کو سعد رضی اللہ تعالی عنہ کی یہ حدیث سناتے سنا ہے اور وہ انکار نہیں کر رہے تھے؟ اس نے کہا، ہاں۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب السلام / حدیث: 2218
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2218
وحدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ فِي أَوَّلِ الْحَدِيثِ ،
یہی روایت امام صاحب کو ایک اور استاد نے سنائی، لیکن عطاء بن یسار والا ابتدائی واقعہ بیان نہیں کیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب السلام / حدیث: 2218
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2218
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ ، وَخُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ ، وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالُوا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ شُعْبَةَ ،
سفیان نے حبیب سے، انہوں نے ابراہیم بن سعد سے، انہوں نے حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہما، حضرت حزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (آگے شعبہ کی حدیث کے ہم معنی ہے۔)
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب السلام / حدیث: 2218
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2218
وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ كِلَاهُمَا ، عَنْ جَرِيرٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ : كَانَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَسَعْدٌ جَالِسَيْنِ يَتَحَدَّثَانِ ، فَقَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ ،
اعمش نے حبیب سے، انہوں نے ابراہیم بن سعد بن ابی وقاص سے روایت کی، کہا: حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما اور حضرت سعد رضی اللہ عنہما بیٹھے ہوئے احادیث بیان کر رہے تھے۔ تو ان دونوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، (جس طرح ان سب کی حدیث ہے۔)
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب السلام / حدیث: 2218
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2218
وحَدَّثَنِيهِ وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ .
یہی روایت امام صاحب کو ایک اور استاد نے سنائی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب السلام / حدیث: 2218
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2219
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، قال : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ إِلَى الشَّامِ حَتَّى إِذَا كَانَ بِسَرْغَ لَقِيَهُ أَهْلُ الْأَجْنَادِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ وَأَصْحَابُهُ ، فَأَخْبَرُوهُ أَنَّ الْوَبَاءَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَقَالَ عُمَر ُ : ادْعُ لِي الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ ، فَدَعَوْتُهُمْ ، فَاسْتَشَارَهُمْ وَأَخْبَرَهُمْ أَنَّ الْوَبَاءَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ ، فَاخْتَلَفُوا ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : قَدْ خَرَجْتَ لِأَمْرٍ وَلَا نَرَى أَنْ تَرْجِعَ عَنْهُ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : مَعَكَ بَقِيَّةُ النَّاسِ ، وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَرَى أَنْ تُقْدِمَهُمْ عَلَى هَذَا الْوَبَاءِ ، فَقَالَ : ارْتَفِعُوا عَنِّي ، ثُمَّ قَالَ ادْعُ لِي الْأَنْصَارِ ، فَدَعَوْتُهُمْ لَهُ ، فَاسْتَشَارَهُمْ ، فَسَلَكُوا سَبِيلَ الْمُهَاجِرِينَ وَاخْتَلَفُوا كَاخْتِلَافِهِمْ ، فَقَالَ : ارْتَفِعُوا عَنِّي ، ثُمَّ قَالَ : ادْعُ لِي مَنْ كَانَ هَاهُنَا مِنْ مَشْيَخَةِ قُرَيْشٍ مِنْ مُهَاجِرَةِ الْفَتْح فَدَعَوْتُهُمْ ، فَلَمْ يَخْتَلِفْ عَلَيْهِ رَجُلَانِ ، فَقَالُوا : نَرَى أَنْ تَرْجِعَ بِالنَّاسِ وَلَا تُقْدِمَهُمْ عَلَى هَذَا الْوَبَاءِ ، فَنَادَى عُمَرُ فِي النَّاسِ إِنِّي مُصْبِحٌ عَلَى ظَهْرٍ فَأَصْبِحُوا عَلَيْهِ ، فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ : أَفِرَارًا مِنْ قَدَرِ اللَّهِ ، فَقَالَ عُمَرُ : لَوْ غَيْرُكَ قَالَهَا يَا أَبَا عُبَيْدَةَ ، وَكَانَ عُمَرُ يَكْرَهُ خِلَافَهُ ، نَعَمْ نَفِرُّ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ إِلَى قَدَرِ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَتْ لَكَ إِبِلٌ فَهَبَطَتْ وَادِيًا لَهُ عُدْوَتَانِ إِحْدَاهُمَا خَصْبَةٌ وَالْأُخْرَى جَدْبَةٌ ، أَلَيْسَ إِنْ رَعَيْتَ الْخَصْبَةَ رَعَيْتَهَا بِقَدَرِ اللَّهِ ، وَإِنْ رَعَيْتَ الْجَدْبَةَ رَعَيْتَهَا بِقَدَرِ اللَّهِ ، قَالَ : فَجَاءَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَكَانَ مُتَغَيِّبًا فِي بَعْضِ حَاجَتِهِ ، فَقَال َ : إِنَّ عِنْدِي مِنْ هَذَا عِلْمًا ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ " ، قَالَ : فَحَمِدَ اللَّهَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ .
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب شام جانے کے لیے نکلے، جب سرغ نامی جگہ پر پہنچے، انہیں لشکروں کے کمانڈر، ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ تعالی عنہ اور ان کے ساتھی ملے اور انہیں بتایا، شام میں وباء پھیل چکی ہے، ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، میرے پاس مہاجرین اولین کو بلا کر لاؤ تو میں نے ان کو بلایا، سو انہوں نے ان سے مشورہ طلب کیا اور انہیں بتایا، شام میں وباء پھیل چکی ہے، ان میں اختلاف ہو گیا، بعض نے کہا، آپ ایک مقصد کی خاطر نکلے ہیں، اس لیے ہم اس سے آپ کی واپسی مناسب خیال نہیں سمجھتے اور بعض نے کہا آپ کے ساتھ بہترین لوگ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ہیں، ہمارے خیال میں آپ انہیں، اس وبائی علاقہ میں نہ لے جائیں تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، تم میرے پاس سے چلے جاؤ، پھر انہوں نے کہا، میرے پاس انصار کو بلا لاؤ، میں نے ان کو ان کے پاس بلا لایا تو انہوں نے ان سے مشورہ طلب کیا، انہوں نے بھی مہاجرین کی راہ اپنائی اور ان کی طرح اختلاف کیا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، میرے پاس سے چلے جاؤ، پھر کہا، میرے پاس فتح مکہ کے وقت ہجرت کرنے والے قریش کے عمر رسیدہ اشخاص کو بلاؤ، سو میں نے ان کو بلایا ان میں سے دو شخصوں نے بھی اختلاف نہ کیا، سب نے کہا، ہم سمجھتے ہیں، آپ لوگوں کو واپس لے جائیں اور انہیں اس وبائی علاقہ میں نہ لے جائیں تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے لوگوں میں اعلان کروا دیا، میں کل صبح سواری پر سوار ہو جاؤں گا، اس لیے تم بھی سوار ہو جانا، اس پر حضرت ابو عبیدہ بن الجراح ؓ نے کہا، کیا اللہ کی تقدیر سے بھاگتے ہو؟ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، اے کاش! کسی اور نے یہ کہا ہوتا، اے ابو عبیدہ رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت عمر، ابو عبیدہ کی مخالفت کو پسند نہیں کرتے تھے، ہاں ہم اللہ کی تقدیر سے اللہ کی تقدیر کی طرف بھاگ رہے ہیں، بتائیے، اگر آپ کے پاس اونٹ ہوں اور آپ ایسی وادی میں اتریں، جس کے دو کنارے ہوں، ایک کنارہ سرسبز و شاداب ہو اور دوسرا خشک، بنجر اور ویران، کیا ایسے نہیں ہے، اگر آپ سرسبز و شاداب کنارے میں چرائیں گے تو یہ اللہ کی تقدیر سے ہو گا اور اگر بنجر اور ویران کنارے سے چرائیں گے تو یہ بھی تقدیر الٰہی سے ہو گا؟ اتنے میں حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ آ گئے، وہ اپنی کسی ضرورت کی بنا پر غائب تھے تو انہوں نے کہا، میرے پاس اس کے بارے میں یقینی علم ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”جب تم اس کا کسی علاقہ میں پڑنا سنو تو وہاں نہ جاؤ اور جب یہ ایسے علاقہ میں پڑ جائے، جہاں تم ہو تو اس سے بھاگتے ہوئے نہ نکلو۔‘‘ اس پر حضرت عمر بن خطاب ؓ نے اللہ کا شکر ادا کیا، (کہ ان کی رائے حدیث کے مطابق تھی) پھر واپس روانہ ہو گئے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب السلام / حدیث: 2219
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2219
وحدثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْد ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ : حَدَّثَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ وَزَادَ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ ، قال : وَقَالَ لَهُ أَيْضًا : أَرَأَيْتَ أَنَّهُ لَوْ رَعَى الْجَدْبَةَ وَتَرَكَ الْخَصْبَةَ أَكُنْتَ مُعَجِّزَهُ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَسِرْ إِذًا قَالَ ، فَسَارَ حَتَّى أَتَى الْمَدِينَةَ ، فَقَالَ : هَذَا الْمَحِلُّ ، أَوَ قَالَ : هَذَا الْمَنْزِلُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ،
معمر نے ہمیں اسی سند کے ساتھ مالک کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور معمر کی حدیث میں یہ الفاظ زائد بیان کیے، کہا: اور انہوں (حضرت عمر رضی اللہ عنہما) نے ان (ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ) سے یہ بھی کہا: آپ کا کیا حال ہے کہ اگر وہ (اونٹ) بنجر کنارے پر چرے اور سرسبز کنارے کو چھوڑ دے تو کیا آپ اسے اس کے عجز اور غلطی پر محمول کریں گے؟ انہوں نے کہا: ہاں، حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: تو پھر چلیں۔ (ابن عباس رضی اللہ عنہما نے) کہا: وہ چل کر مدینہ آئے اور کہا: ان شاء اللہ! یہی (کجاوے) کھولنے کی، یا کہا: یہی اترنے کی جگہ ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب السلام / حدیث: 2219
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2219
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ ، قَالَ : إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِث حَدَّثَهُ ، وَلَمْ يَقُلْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ .
یہی روایت امام صاحب کو دو اور اساتذہ سے سنائی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب السلام / حدیث: 2219
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2219
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قال : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، أَنَّ عُمَر َ خَرَجَ إِلَى الشَّامِ ، فَلَمَّا جَاءَ سَرْغَ بَلَغَهُ أَنَّ الْوَبَاءَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ ، فَأَخْبَرَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ " ، فَرَجَعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مِنْ سَرْغَ ، وَعَنْ ابْنِ شِهَاب ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عُمَرَ إِنَّمَا انْصَرَفَ بِالنَّاسِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ .
حضرت عبداللہ بن عامر ربیعہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ شام کی طرف روانہ ہوئے تو جب سرغ مقام پر پہنچے، انہیں اطلاع ملی کہ شام میں وبا پھیل چکی ہے تو انہیں حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ”جب تم کسی علاقہ میں اس کا ہونا سنو تو وہاں نہ جاؤ اور جب تمہارے علاقہ میں پڑ جائے تو اس سے بھاگتے ہوئے وہاں نہ نکلو۔‘‘ اس وجہ سے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ سرغ مقام سے واپس لوٹ آئے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب السلام / حدیث: 2219
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»