حدیث نمبر: 2201
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ ِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا فِي سَفَرٍ ، فَمَرُّوا بِحَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ ، فَاسْتَضَافُوهُمْ فَلَمْ يُضِيفُوهُمْ ، فَقَالُوا لَهُمْ : هَلْ فِيكُمْ رَاقٍ فَإِنَّ سَيِّدَ الْحَيِّ لَدِيغٌ أَوْ مُصَابٌ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ : نَعَمْ ، فَأَتَاهُ فَرَقَاهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَبَرَأَ الرَّجُلُ فَأُعْطِيَ قَطِيعًا مِنْ غَنَمٍ فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهَا ، وَقَالَ : حَتَّى أَذْكُرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَاللَّهِ مَا رَقَيْتُ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَتَبَسَّمَ ، وَقَالَ : " وَمَا أَدْرَاكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ ؟ " ، ثُمَّ قَالَ : " خُذُوا مِنْهُمْ وَاضْرِبُوا لِي بِسَهْمٍ مَعَكُمْ " .
ہشیم نے ابوبشر سے، انہوں نے ابومتوکل سے، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سفر میں تھے عرب کے قبائل میں سے کسی قبیلے کے سامنے سے ان کا گزر ہوا انہوں نے ان (قبیلے والے) لوگوں سے چاہا کہ وہ انہیں اپنا مہمان بنائیں۔ انہوں نے مہمان بنانے سے انکار کر دیا، پھر انہوں نے کہا: کیا تم میں کوئی دم کرنے والا ہے کیونکہ قوم کے سردار کو کسی چیز نے ڈس لیا ہے یا اسے کوئی بیماری لاحق ہو گئی ہے۔ ان (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) میں سے ایک آدمی نے کہا: ہاں پھر وہ اس کے قریب آئے اور اسے فاتحہ الکتاب سے دم کر دیا۔ وہ آدمی ٹھیک ہو گیا تو اس (دم کرنے والے) کو بکریوں کا ایک ریوڑ (تیس بکریاں) پیش کی گئیں۔ اس نے انہیں (فوری طور پر) قبول کرنے (کے معاملے میں لانے) سے انکار کر دیا اور کہا: یہاں تک کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ماجرا سنا دوں۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا ماجرا آپ کو سنایا اور کہا اے اللہ کے رسول! میں نے فاتحہ الکتاب کے علاوہ اور کوئی دم نہیں کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: ”تمہیں کیسے پتہ چلا کہ وہ دم (بھی) ہے؟“ پھر انہیں لے لو اور اپنے ساتھ میرا بھی حصہ رکھو۔“
حدیث نمبر: 2201
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ غُنْدَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ : فَجَعَلَ يَقْرَأُ أُمَّ الْقُرْآنِ وَيَجْمَعُ بُزَاقَهُ وَيَتْفِلُ فَبَرَأَ الرَّجُلُ .
شعبہ نے ابوبشر سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، اور حدیث میں یہ کہا: اس نے ام القرآن (سورۃ فاتحہ) پڑھنی شروع کی اور اپنا تھوک جمع کرتا اور اس پر پھینکتا جاتا تو وہ آدمی تندرست ہو گیا۔
حدیث نمبر: 2201
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَخِيهِ مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قال : نَزَلْنَا مَنْزِلًا فَأَتَتْنَا امْرَأَةٌ ، فَقَالَتْ : إِنَّ سَيِّدَ الْحَيِّ سَلِيمٌ لُدِغَ ، فَهَلْ فِيكُمْ مِنْ رَاقٍ ؟ ، فَقَامَ مَعَهَا رَجُلٌ مِنَّا مَا كُنَّا نَظُنُّهُ يُحْسِنُ رُقْيَةً ، فَرَقَاهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ، فَبَرَأَ فَأَعْطَوْهُ غَنَمًا وَسَقَوْنَا لَبَنًا ، فَقُلْنَا : أَكُنْتَ تُحْسِنُ رُقْيَةً ؟ ، فَقَالَ : مَا رَقَيْتُهُ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ، قَالَ : فَقُلْتُ : لَا ، تُحَرِّكُوهَا حَتَّى نَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : " مَا كَانَ يُدْرِيهِ أَنَّهَا رُقْيَةٌ اقْسِمُوا وَاضْرِبُوا لِي بِسَهْمٍ مَعَكُمْ " .
یزید بن ہارون نے کہا: ہمیں ہشام بن حسان نے محمد بن سیرین سے خبر دی، انہوں نے اپنے بھائی معبدبن سیرین سے، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے، روایت کی، کہا: ہم نے ایک مقام پر پڑاؤ کیا، ایک عورت ہمارے پاس آئی اور کہا: قبیلے کے سردار کو ڈنک لگا ہے، (اسے بچھو نے ڈنک مارا ہے) کیا تم میں سے کوئی دم کرنے والا ہے؟ ہم میں سے ایک آدمی اس کے ساتھ (جانے کے لیے) کھڑا ہو گیا، اس کے بارے میں ہمارا خیال نہیں تھا کہ وہ اچھی طرح دم کر سکتا ہے۔ اس نے اس (ڈسے ہوئے) کو فاتحہ سے دم کیا تو وہ ٹھیک ہو گیا، تو انہوں نے اسے بکریوں کا ایک ریوڑ دیا اور ہم سب کو دودھ پلایا۔ ہم نے (اس سے) پوچھا: کیا تم اچھی طرح دم کرنا جانتے تھے؟ اس نے کہا: میں نے اسے صرف فاتحۃ الکتاب سے دم کیا ہے۔ کہا: میں نے (ساتھیوں سے) کہا: ان بکریوں کو کچھ نہ کہو یہاں تک کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو جائیں۔ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ کو یہ بات بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے کس ذریعے سے پتہ چلا کہ یہ (فاتحہ) دم (کا کلمہ بھی) ہے؟ ان (بکریوں) کو بانٹ لو اور اپنے ساتھ میرا بھی حصہ رکھو۔“
حدیث نمبر: 2201
وحدثني مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُ ، قَالَ : فَقَامَ مَعَهَا رَجُلٌ مِنَّا مَا كُنَّا نَأْبِنُهُ بِرُقْيَةٍ .
ہمیں ہشام نے اسی سند کے ساتھ، اسی طرح حدیث بیان کی، مگر اس نے کہا: ہم میں سے ایک آدمی اس کے ساتھ (جانے کے لیے کھڑا ہو گیا) ہم نے کبھی گمان نہیں کیا تھا کہ وہ دم کر سکتا ہے۔