حدیث نمبر: 2192
حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، قالا : حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَرِضَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِهِ نَفَثَ عَلَيْهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ ، " فَلَمَّا مَرِضَ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ ، جَعَلْتُ أَنْفُثُ عَلَيْهِ وَأَمْسَحُهُ بِيَدِ نَفْسِهِ لِأَنَّهَا كَانَتْ أَعْظَمَ بَرَكَةً مِنْ يَدِي " وَفِي رِوَايَةِ يَحْيَي بْنِ أَيُّوبَ بِمُعَوِّذَاتٍ .
سریج بن یونس اور یحییٰ بن ایوب نے کہا: ہمیں عباد بن عباد نے ہشام بن عروہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں میں سے کوئی بیمار ہوتا تو آپ پناہ دلوانے والے کلمات اس پر پھونکتے۔ پھر جب آپ اس مرض میں مبتلا ہوئے جس میں آپ کی رحلت ہوئی تو میں نے آپ پر پھونکنا اور آپ کا اپنا ہاتھ آپ کے جسم اطہر پر پھیرنا شروع کر دیا کیونکہ آپ کا ہاتھ میرے ہاتھ سے زیادہ بابرکت تھا۔ یحییٰ بن ایوب کی روایت میں (بِالْمَعَوِّذَاتِ، کے بجائے) ”بِمَعَوِّذَاتٍ“ (پناہ دلوانے والے کچھ کلمات) ہیں۔
حدیث نمبر: 2192
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قال : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ إِذَا اشْتَكَى يَقْرَأُ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ ، وَيَنْفُثُ فَلَمَّا اشْتَدَّ وَجَعُهُ كُنْتُ أَقْرَأُ عَلَيْهِ وَأَمْسَحُ عَنْهُ بِيَدِهِ رَجَاءَ بَرَكَتِهَا " .
مالک نے ابن شہاب سے، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوتے تو آپ خود پر معوذات (معوذتین اور دیگر پناہ دلوانے والی دعائیں اور آیات) پڑھتے اور پھونک مارتے۔ جب آپ کی تکلیف شدید ہو گئی تو میں آپ پر پڑھتی اور آپ کی طرف سے میں آپ کا اپنا ہاتھ اس کی برکت کی امید کے ساتھ (آپ کے جسم اطہر پر) پھیرتی۔
حدیث نمبر: 2192
وحدثني أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ . ح وحدثنا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ ، قالا : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍكِلَاهُمَا ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي زِيَادٌ كُلُّهُمْ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِإِسْنَادِ مَالِكٍ نَحْوَ حَدِيثِهِ ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ رَجَاءَ بَرَكَتِهَا إِلَّا فِي حَدِيثِ مَالِكٍ ، وَفِي حَدِيثِ يُونُسَ وَزِيَادٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اشْتَكَى نَفَثَ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ وَمَسَحَ عَنْهُ بِيَدِهِ .
یونس، معمر اور زیاد سب نے ابن شہاب سے، امام مالک کی سند کے ساتھ ان کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی، مالک کے علاوہ اور کسی کی سند میں ”آپ کے ہاتھ کی برکت کی امید سے“ کے الفاظ نہیں۔ اور یونس اور زیاد کی حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار ہوتے تو آپ خود اپنے آپ پر کلمات (پڑھ کر) پھونکتے اور اپنے جسم پر اپنا ہاتھ پھیرتے۔