حدیث نمبر: 2191
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا وقَالَ زُهَيْرٌ : وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَكَى مِنَّا إِنْسَانٌ مَسَحَهُ بِيَمِينِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا " ، فَلَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَقُلَ أَخَذْتُ بِيَدِهِ لِأَصْنَعَ بِهِ نَحْوَ مَا كَانَ يَصْنَعُ ، فَانْتَزَعَ يَدَهُ مِنْ يَدِي ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَاجْعَلْنِي مَعَ الرَّفِيقِ الْأَعْلَى " ، قَالَتْ : فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ فَإِذَا هُوَ قَدْ قَضَى .
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں، جب ہم میں سے کوئی انسان بیمار ہو جاتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر اپنا دایاں ہاتھ پھیرتے، پھر فرماتے ”تکلیف ختم کر دے، اے لوگوں کے مالک اور صحت بخش تو ہی شفا بخشنے والا ہے، تیری شفا ہی اصل شفا ہے، ایسی شفا بخش، جو کسی قسم کی بیماری نہ چھوڑے۔‘‘ تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے اور اس میں شدت پیدا ہوئی، میں نے آپ کا ہاتھ پکڑ لیا، تاکہ آپ کے ساتھ اس قسم کا سلوک اختیار کروں، جو آپ اختیار کرتے تھے تو آپﷺ نے میرے ہاتھ سے اپنا ہاتھ کھینچ کر فرمایا: ”اے اللہ مجھے معاف فر اور مجھے رفیق اعلیٰ کے ساتھ ملا دے۔‘‘ تو میں دیکھنے لگی تو آپﷺ کی روح قبض ہو چکی تھی۔
حدیث نمبر: 2191
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ . ح وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ . ح وحدثنا ابْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ كِلَاهُمَا ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَي وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ سُفْيَانَ كُلُّ هَؤُلَاءِ ، عَنِ الْأَعْمَشِ بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ فِي حَدِيثِ هُشَيْمٍ وَشُعْبَةَ مَسَحَهُ بِيَدِهِ ، قَالَ : وَفِي حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ مَسَحَهُ بِيَمِينِهِ ، وقَالَ : فِي عَقِبِ حَدِيثِ يَحْيَي ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، قال : فَحَدَّثْتُ بِهِ مَنْصُورًا فَحَدَّثَنِي ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ بِنَحْوِهِ .
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا: ہمیں ہشیم نے خبر دی، ابوبکر بن خلاد اور ابوکریب نے کہا: ہمیں ابومعاویہ نے حدیث بیان کی، بشر بن خالد نے کہا: ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث سنائی۔ ابن بشار نے کہا: ہمیں ابن ابی عدی نے حدیث بیان کی، ان دونوں (محمد بن جعفر اور ابن ابی عدی) نے شعبہ سے روایت کی۔ (اسی طرح) ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابوبکر بن خلاد نے بھی ہمیں یہ حدیث بیان کی، دونوں نے کہا: ہمیں یحییٰ قطان نے سفیان سے حدیث بیان کی، ان سب نے جریر کی سند کے ساتھ اعمش سے روایت کی۔ ہشیم اور شعبہ کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ہاتھ اس (متاثرہ حصے) پر پھیرتے اور (سفیان) ثوری کی حدیث میں ہے: آپ اپنا دایاں ہاتھ اس پر پھیرتے۔ اور اعمش سے سفیان اور ان سے یحییٰ کی روایت کردہ حدیث کے آخر میں ہے، کہا: میں نے منصور کو یہ حدیث سنائی تو انہوں نے اسی کے مطابق حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مسروق اور ان سے ابراہیم کی روایت کردہ حدیث بیان کی۔
حدیث نمبر: 2191
وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ إِذَا عَادَ مَرِيضًا ، يَقُولُ : " أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ اشْفِهِ أَنْتَ الشَّافِي ، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا " .
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی بیمار کی عیادت کے لیے جاتے تو فرماتے ”بیماری ختم کر دے، اے لوگوں کے رب، تو اسے شفا بخش، تو ہی شفا بخشنے والا ہے، تیری شفا کے سوا کوئی شفا نہیں، ایسی شفا جو بیماری کو نہ چھوڑے۔‘‘
حدیث نمبر: 2191
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قالا : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى الْمَرِيضَ يَدْعُو لَهُ ، قَالَ : " أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي ، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا " ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ ، فَدَعَا لَهُ ، وَقَالَ : وَأَنْتَ الشَّافِي .
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مریض کے پاس جاتے، اس کے لیے ان کلمات کے ساتھ دعا فرماتے ”بیماری لے جا، اے لوگوں کے رب! اور شفا بخش، تو ہی شفا دینے والا ہے، تیری شفا ہی شفاء، ایسی شفاء جو کسی قسم کی بیماری نہ چھوڑے‘‘ اور ابوبکر کی روایت میں يدعو له
حدیث نمبر: 2191
وحدثني الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُسْلِمُ بْنُ صُبَيْحٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ وَجَرِيرٍ .
امام صاحب کے دو اور استاد یہی روایت سناتے ہیں۔
حدیث نمبر: 2191
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْقِي بِهَذِهِ الرُّقْيَةِ " أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ بِيَدِكَ الشِّفَاءُ لَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا أَنْتَ " .
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دم سے دم فرماتے ”بیماری لے جا اے لوگوں کے رب، تیرے ہی ہاتھ میں شفا ہے، تیرے سوا اس کو کوئی دور نہیں کر سکتا۔‘‘
حدیث نمبر: 2191
وحدثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ كِلَاهُمَا ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
امام صاحب اپنے دو اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔