کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: جادو کا بیان۔
حدیث نمبر: 2189
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت : سَحَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهُودِيٌّ مِنْ يَهُودِ بَنِي زُرَيْقٍ يُقَالُ لَهُ لَبِيدُ بْنُ الْأَعْصَمِ ، قَالَتْ : حَتَّى كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَفْعَلُ الشَّيْءَ وَمَا يَفْعَلُهُ ، حَتَّى إِذَا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَوْ ذَاتَ لَيْلَةٍ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ دَعَا ثُمَّ دَعَا ، ثُمَّ قَالَ يَا عَائِشَةُ : " أَشَعَرْتِ أَنَّ اللَّهَ أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهُ فِيهِ ؟ " ، جَاءَنِي رَجُلَانِ ، فَقَعَدَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي وَالْآخَرُ عِنْدَ رِجْلَيَّ ، فَقَالَ : الَّذِي عِنْدَ رَأْسِي لِلَّذِي عِنْدَ رِجْلَيَّ أَوِ الَّذِي عِنْدَ رِجْلَيَّ لِلَّذِي عِنْدَ رَأْسِي مَا وَجَعُ الرَّجُلِ ، قَالَ : مَطْبُوبٌ ، قَالَ : مَنْ طَبَّهُ ؟ ، قَالَ : لَبِيدُ بْنُ الْأَعْصَمِ ، قَالَ : فِي أَيِّ شَيْءٍ ؟ ، قَالَ : فِي مُشْطٍ وَمُشَاطَةٍ ، قَالَ : وَجُفِّ طَلْعَةِ ذَكَرٍ ، قَالَ : فَأَيْنَ هُوَ ؟ ، قَالَ : فِي بِئْرِ ذِي أَرْوَانَ ، قَالَتْ : فَأَتَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، ثُمَّ قَالَ يَا عَائِشَةُ : " وَاللَّهِ لَكَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ ، وَلَكَأَنَّ نَخْلَهَا رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ " ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَلَا أَحْرَقْتَهُ ؟ ، قَالَ : " لَا ، أَمَّا أَنَا فَقَدْ عَافَانِي اللَّهُ ، وَكَرِهْتُ أَنْ أُثِيرَ عَلَى النَّاسِ شَرًّا ، فَأَمَرْتُ بِهَا فَدُفِنَتْ "
حضرت عائشہ ‬ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ بنو زریق کے یہودیوں میں سے ایک یہودی جس کو لبید بن اعصم کہا جاتا تھا، نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کر دیا تھا، حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال آتا کہ میں یہ کام کر رہا ہوں، حالانکہ آپ وہ کام کر نہیں رہے ہوتے تھے، حتی کہ ایک دن یا ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی، پھر دعا کی، پھر دعا کی، پھر دعا کی، پھر فرمایا: ”اے عائشہ! کیا تمہیں پتہ چلا، اللہ تعالیٰ سے جو میں نے پوچھا، وہ اس نے مجھے بتلا دیا ہے؟ میرے پاس دو آدمی آئے، ان میں سے ایک میرے سر کے پاس بیٹھا اور دوسرا میرے پاؤں کے پاس بیٹھا، سو جو میرے سرہانے بیٹھا تھا، اس نے میرے پیروں کی طرف بیٹھنے والے سے یا جو میرے پیروں کے پاس تھا، اس نے میرے سرہانے بیٹھنے والے سے پوچھا، اس آدمی کو کیا تکلیف ہے؟ اس نے کہا، اس پر جادو کیا گیا ہے، اس نے پوچھا، اس پر کس نے جادو کیا ہے؟ اس نے کہا، لبید بن اعصم نے، اس نے پوچھا، کس چیز میں؟ اس نے کہا، کنگھی اور اس سے جھڑنے والے بالوں میں اور کہا، نر کھجور کے خوشہ کے غلاف میں، اس نے کہا، اس کو کہاں رکھا ہے؟ اس نے کہا، ذروان کنویں میں‘‘ حضرت عائشہ ‬ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ اس کنویں پر گئے، پھر آپﷺ نے فرمایا: ”اے عائشہ! اللہ کی قسم! اس کنویں کا پانی گویا مہندی کا پانی تھا اور اس کی کھجوریں گویا شیطان کے سر تھے۔‘‘ حضرت عائشہ ‬ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں، اے اللہ کے رسولﷺ! آپ نے اس کو جلا کیوں نہ دیا؟ آپﷺ نے فرمایا: ”نہیں، مجھے تو اللہ تعالیٰ نے شفا بخش دی ہے، اور میں لوگوں میں شر برپا کرنا پسند نہیں کرتا، اس لیے میں نے کنویں کے دفن کرنے کا حکم دیا اور اسے دفن کر دیا گیا۔‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب السلام / حدیث: 2189
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2189
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت : سُحِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَسَاقَ أَبُو كُرَيْبٍ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ ، وَقَالَ : فِيهِ فَذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبِئْرِ فَنَظَرَ إِلَيْهَا وَعَلَيْهَا نَخْلٌ ، وَقَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَخْرِجْهُ وَلَمْ يَقُلْ أَفَلَا أَحْرَقْتَهُ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فَأَمَرْتُ بِهَا فَدُفِنَتْ .
امام صاحب کے استاد ابو کریب مذکورہ بالا روایت سناتے ہیں اور اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کنویں کی طرف نکلے، اسے دیکھا، اس پر کھجوروں کے درخت تھے، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے کہا، اے اللہ کے رسولﷺ! اسے نکلوائیے، اس میں یہ نہیں ہے کہ ”آپ نے اسے جلایا کیوں نہیں؟‘‘ اور نہ یہ ہے، ”میرے حکم سے اس کو دفن کر دیا گیا ہے۔‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب السلام / حدیث: 2189
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»