کتب حدیث ›
صحيح مسلم › ابواب
› باب: یہود اور نصاریٰ کو خود سلام نہ کرے اگر وہ کریں تو کیسے جواب دے، اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 2163
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، قال : سَمِعْتُ أَنَسًا ، يقول : قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ جَدِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ " .
عبیداللہ بن ابی بکر نے اپنے دادا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اہل کتاب تم کو سلام کریں تو تم ان کے جواب میں «وعليكم» اور تم پر، کہو۔“
حدیث نمبر: 2163
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنِي يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، قالا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُمَا ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قال : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْنَا فَكَيْفَ نَرُدُّ عَلَيْهِمْ ؟ ، قَالَ : قُولُوا : وَعَلَيْكُمْ " .
شعبہ نے کہا کہ میں نے قتادہ سے سنا، وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: اہل کتاب ہمیں سلام کرتے ہیں۔ ہم ان کو کیسے جواب دیں، آپ نے فرمایا: ”تم لوگ «وعليكم» اور تم پر، کہو۔“
حدیث نمبر: 2164
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَيَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَي بْنِ يَحْيَي ، قَالَ يَحْيَي بْنُ يَحْيَي : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَر ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ يَقُولُ أَحَدُهُمُ السَّامُ عَلَيْكُمْ فَقُلْ عَلَيْكَ " .
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہود جب تمہیں سلام کہتے ہیں تو ان میں سے ایک کہتا ہے، تم پر موت آئے تو تم کہو، علیک۔
حدیث نمبر: 2164
وحدثني زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ ، قَالَ : فَقُولُوا وَعَلَيْكَ .
سفیان نے عبداللہ بن دینار سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے مانند روایت کی مگر اس میں ہے: ”تو تم کہو: «وعليكم» تم پر ہو۔“
حدیث نمبر: 2165
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ ، قالا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت : اسْتَأْذَنَ رَهْطٌ مِنْ الْيَهُودِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : السَّامُ عَلَيْكُمْ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : بَلْ عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ : " إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ " ، قَالَتْ : أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا ؟ ، قَالَ : " قَدْ قُلْتُ وَعَلَيْكُمْ " .
سفیان بن عیینہ نے ہمیں زہری سے حدیث بیان کی انہوں نے عروہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: یہودیوں کی ایک جماعت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کے لیے اجازت طلب کی اور انہوں نے کہا «اَلسَامُ عَلَيكُم» آپ پر موت ہو! حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بلکہ تم پر موت ہو اور لعنت ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں نرمی پسند فرماتا ہے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: کیا آپ نے نہیں سنا کہ انہوں نے کیا کہا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے «وَعَلَيكُم» اور تم پر ہو، کہہ دیا تھا۔“
حدیث نمبر: 2165
وحدثنا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كِلَاهُمَا ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِهِمَا جَمِيعًا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَدْ قُلْتُ عَلَيْكُمْ وَلَمْ يَذْكُرُوا الْوَاوَ .
صالح اور معمر دونوں نے زہری سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، دونوں کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے «عليكم» کہہ دیا تھا۔“ اور انہوں نے اس کے ساتھ واؤ (اور) نہیں لگایا۔
حدیث نمبر: 2165
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُنَاسٌ مِنْ الْيَهُودِ ، فَقَالُوا : السَّامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، قَالَ : " وَعَلَيْكُمْ " ، قَالَتْ عَائِشَةُ : قُلْتُ بَلْ عَلَيْكُمُ السَّامُ وَالذَّامُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ : " لَا تَكُونِي فَاحِشَةً " ، فَقَالَتْ : مَا سَمِعْتَ مَا قَالُوا ؟ فَقَالَ : " أَوَلَيْسَ قَدْ رَدَدْتُ عَلَيْهِمُ الَّذِي قَالُوا قُلْتُ : وَعَلَيْكُمْ " .
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ یہودی لوگ آئے اور کہا، السام عليك،
حدیث نمبر: 2165
حَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ ، قَالَ : فَفَطِنَتْ بِهِمْ عَائِشَةُ ، فَسَبَّتْهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَهْ يَا عَائِشَةُ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ " ، وَزَادَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَإِذَا جَاءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ سورة المجادلة آية 8 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ .
یعلیٰ بن عبید نے ہمیں خبر دی کہا: ہمیں اعمش نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، مگر انہوں نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کی بات سمجھ لی (انہوں نے سلام کے بجائے سام کا لفظ بولا تھا) اور انہیں برا بھلا کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! بس کرو، اللہ تعالیٰ برائی اور اسے اپنانے کو پسند نہیں فرماتا۔“ اور یہ اضافہ کیا تو اس پر اللہ عزوجل نے «وَإِذَا جَاءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ» نازل فرمائی: ”اور جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ کو اس طرح سلام نہیں کہتے جس طرح اللہ آپ کو سلام کہتا ہے۔“ آیت کے آخر تک (اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں جو کچھ ہم کہتے ہیں اللہ اس پر ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا؟ ان کے لیے دوزخ کافی ہے جس میں وہ جلیں گے اور وہ لوٹ کر جانے کا بدترین ٹھکانا ہے۔)
حدیث نمبر: 2166
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، قالا : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قال : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : سَلَّمَ نَاسٌ مِنْ يَهُودَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : السَّامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، فَقَالَ : " وَعَلَيْكُمْ " ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : وَغَضِبَتْ أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا ؟ قَالَ : " بَلَى قَدْ سَمِعْتُ فَرَدَدْتُ عَلَيْهِمْ ، وَإِنَّا نُجَابُ عَلَيْهِمْ وَلَا يُجَابُونَ عَلَيْنَا " .
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں، کچھ یہودیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہا، السّام عليك،
حدیث نمبر: 2167
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَبْدَءُوا الْيَهُودَ وَلَا النَّصَارَى بِالسَّلَامِ ، فَإِذَا لَقِيتُمْ أَحَدَهُمْ فِي طَرِيقٍ فَاضْطَرُّوهُ إِلَى أَضْيَقِهِ " .
عبدالعزیز دراوردی نے سہیل سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہود و نصاریٰ کو سلام کہنے میں ابتدا نہ کرو اور جب تم ان میں سے کسی کو راستے میں ملو (تو بجائے اس کے وہ یہ کام کرے) تم اسے راستے کے تنگ حصے کی طرف جانے پر مجبور کرو۔“
حدیث نمبر: 2167
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ كُلُّهُمْ ، عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَفِي حَدِيثِ وَكِيعٍ ، إِذَا لَقِيتُمْ الْيَهُودَ ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قال : فِي أَهْلِ الْكِتَابِ ، وَفِي حَدِيثِ جَرِيرٍ ، إِذَا لَقِيتُمُوهُمْ وَلَمْ يُسَمِّ أَحَدًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ .
محمد بن مثنیٰ نے کہا: ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی۔ ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابوکریب نے کہا: ہمیں وکیع نے سفیان سے حدیث بیان کی، زہیر بن حرب نے کہا: ہمیں جریر نے حدیث بیان کی، ان سب (شعبہ، سفیان اور جریر) نے سہیل سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔ وکیع کی حدیث میں ہے، ”جب تم یہود سے ملو۔“ شعبہ سے ابن جعفر کی روایت کردہ حدیث میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل کتاب کے بارے میں فرمایا۔ اور جریر کی روایت میں ہے: ”جب تم ان لوگوں سے ملو،“ اور مشرکوں میں سے کسی ایک (گروہ) کا نام نہیں لیا۔