حدیث نمبر: 2161
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قال : قَالَ أَبُو طَلْحَةَ : كُنَّا قُعُودًا بِالْأَفْنِيَةِ نَتَحَدَّثُ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ عَلَيْنَا ، فَقَالَ : " مَا لَكُمْ وَلِمَجَالِسِ الصُّعُدَاتِ ، اجْتَنِبُوا مَجَالِسَ الصُّعُدَاتِ ؟ " فَقُلْنَا : إِنَّمَا قَعَدْنَا لِغَيْرِ مَا بَاسٍ قَعَدْنَا نَتَذَاكَرُ وَنَتَحَدَّثُ ، قَالَ : " إِمَّا لَا فَأَدُّوا حَقَّهَا غَضُّ الْبَصَرِ وَرَدُّ السَّلَامِ وَحُسْنُ الْكَلَامِ " .
حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، ہم گھروں کے سامنے کے صحن میں بیٹھے گفتگو کر رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہمارے پاس آ کر ٹھہر گئے اور فرمایا: ”تم، راستوں پر مجالس کیوں قائم کرتے ہو؟ راستوں کی مجالس سے پرہیز کرو۔‘‘ سو ہم نے عرض کیا، ہم کسی برے ارادے سے نہیں بیٹھتے، ہم باہمی مذاکرہ اور گفتگو کے لیے بیٹھے ہیں، آپﷺ نے فرمایا: ”اگر تم راستوں پر بیٹھنے سے بچ نہیں سکتے تو ان کا حق ادا کرو، نظر نیچی رکھو، سلام کا جواب دو اور اچھی گفتگو کرو۔‘‘
حدیث نمبر: 2161
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ بِالطُّرُقَاتِ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لَنَا بُدٌّ مِنْ مَجَالِسِنَا نَتَحَدَّثُ فِيهَا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَبَيْتُمْ إِلَّا الْمَجْلِسَ فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ " ، قَالُوا : وَمَا حَقُّهُ ؟ ، قَالَ : " غَضُّ الْبَصَرِ ، وَكَفُّ الْأَذَى ، وَرَدُّ السَّلَامِ ، وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ ، وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ " .
حفص بن میسرہ نے زید بن اسلم سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”راستوں میں بیٹھنے سے اجتناب کرو۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارے لیے (راستے کی) مجلسوں کے بغیر جن میں (بیٹھ کر) ہم باتیں کرتے ہیں، کوئی چارہ نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم مجالس کے بغیر نہیں رہ سکتے تو راستے کا حق ادا کرو۔“ لوگوں نے کہا: اس کا حق کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نگاہ نیچی رکھنا، تکلیف دہ چیزوں کو (راستے سے) ہٹانا، سلام کا جواب دینا، اچھائی کی تلقین کرنا اور برائی سے روکنا۔“
حدیث نمبر: 2161
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدَنِيُّ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنْ هِشَامٍ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ .
یہی روایت امام صاحب کو دو اور اساتذہ نے اپنی اپنی سند سے سنائی۔