حدیث نمبر: 977
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَابِسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قِيلَ لَهُ : " أَشَهِدْتَ الْعِيدَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : نَعَمْ ، وَلَوْلَا مَكَانِي مِنَ الصِّغَرِ مَا شَهِدْتُهُ حَتَّى أَتَى الْعَلَمَ الَّذِي عِنْدَ دَارِ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ ، فَصَلَّى ، ثُمَّ خَطَبَ ، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ وَمَعَهُ بِلَالٌ فَوَعَظَهُنَّ وَذَكَّرَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ ، فَرَأَيْتُهُنَّ يَهْوِينَ بِأَيْدِيهِنَّ يَقْذِفْنَهُ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ ، ثُمَّ انْطَلَقَ هُوَ وَبِلَالٌ إِلَى بَيْتِهِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے سفیان ثوری سے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن عابس نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا ، ان سے دریافت کیا گیا تھا کہ` کیا آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عیدگاہ گئے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں اور اگر باوجود کم عمری کے میری قدر و منزلت آپ کے یہاں نہ ہوتی تو میں جا نہیں سکتا تھا ۔ آپ اس نشان پر آئے جو کثیر بن صلت کے گھر کے قریب ہے ۔ آپ نے وہاں نماز پڑھائی پھر خطبہ دیا ۔ اس کے بعد عورتوں کی طرف آئے ۔ آپ کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ بھی تھے ۔ آپ نے انہیں وعظ اور نصیحت کی اور صدقہ کے لیے کہا ۔ چنانچہ میں نے دیکھا کہ عورتیں اپنے ہاتھوں سے بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈالے جا رہی تھیں ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور بلال رضی اللہ عنہ گھر واپس ہوئے ۔