کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: ایام تشریق میں عمل کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: Q969
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ أَيَّامُ الْعَشْرِ وَالْأَيَّامُ الْمَعْدُودَاتُ أَيَّامُ التَّشْرِيقِ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ يَخْرُجَانِ إِلَى السُّوقِ فِي أَيَّامِ الْعَشْرِ يُكَبِّرَانِ وَيُكَبِّرُ النَّاسُ بِتَكْبِيرِهِمَا وَكَبَّرَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ خَلْفَ النَّافِلَةِ .
مولانا داود راز
´اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ` ( اس آیت ) ” اور اللہ تعالیٰ کا ذکر معلوم دنوں میں کرو “ میں ایام معلومات سے مراد ذی الحجہ کے دس دن ہیں اور «اأيام المعدودات» سے مراد ایام تشریق ہیں ۔ ابن عمر اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما ان دس دنوں میں بازار کی طرف نِکل جاتے اور لوگ ان بزرگوں کی تکبیر ( تکبیرات ) سن کر تکبیر کہتے اور محمد بن باقر رحمہ اللہ نفل نمازوں کے بعد بھی تکبیر کہتے تھے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب العيدين / حدیث: Q969
حدیث نمبر: 969
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَا الْعَمَلُ فِي أَيَّامٍ الْعَشْرِ أَفْضَلَ مِنْهَا فِي هَذِهِ ، قَالُوا : وَلَا الْجِهَادُ ، قَالَ : وَلَا الْجِهَادُ ، إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ يُخَاطِرُ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ بِشَيْءٍ " .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے سلیمان کے واسطے سے بیان کیا ، ان سے مسلم بطین نے ، ان سے سعید بن جبیر نے ، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان (دس) دنوں کے عمل سے زیادہ کسی دن کے عمل میں فضیلت نہیں ۔ لوگوں نے پوچھا اور جہاد میں بھی نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں جہاد میں بھی نہیں سوا اس شخص کے جو اپنی جان و مال خطرہ میں ڈال کر نکلا اور واپس آیا تو ساتھ کچھ بھی نہ لایا ( سب کچھ اللہ کی راہ میں قربان کر دیا ) ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب العيدين / حدیث: 969
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة