کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: عید کے دن برچھیوں اور ڈھالوں سے کھیلنا۔
حدیث نمبر: 949
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَمْرٌو ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَسَدِيّ حَدَّثَهُ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ تُغَنِّيَانِ بِغِنَاءِ بُعَاثَ ، فَاضْطَجَعَ عَلَى الْفِرَاشِ وَحَوَّلَ وَجْهَهُ وَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَانْتَهَرَنِي وَقَالَ : مِزْمَارَةُ الشَّيْطَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَام ، فَقَالَ : دَعْهُمَا ، فَلَمَّا غَفَلَ غَمَزْتُهُمَا فَخَرَجَتَا .
مولانا داود راز
´ہم سے احمد بن عیسیٰ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے عمرو بن حارث نے خبر دی کہ محمد بن عبدالرحمٰن اسدی نے ان سے بیان کیا ، ان سے عروہ نے ، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے ، انہوں نے بتلایا کہ` ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے اس وقت میرے پاس ( انصار کی ) دو لڑکیاں جنگ بعاث کے قصوں کی نظمیں پڑھ رہی تھیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بستر پر لیٹ گئے اور اپنا چہرہ دوسری طرف پھیر لیا ۔ اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور مجھے ڈانٹا اور فرمایا کہ یہ شیطانی باجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ؟ آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ جانے دو خاموش رہو پھر جب ابوبکر رضی اللہ عنہ دوسرے کام میں لگ گئے تو میں نے انہیں اشارہ کیا اور وہ چلی گئیں ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب العيدين / حدیث: 949
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 950
وَكَانَ يَوْمَ عِيدٍ يَلْعَبُ السُّودَانُ بِالدَّرَقِ وَالْحِرَابِ فَإِمَّا سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِمَّا قَالَ : تَشْتَهِينَ تَنْظُرِينَ فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فَأَقَامَنِي وَرَاءَهُ خَدِّي عَلَى خَدِّهِ وَهُوَ يَقُولُ : دُونَكُمْ يَا بَنِي أَرْفِدَةَ حَتَّى إِذَا مَلِلْتُ ، قَالَ : حَسْبُكِ ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَاذْهَبِي " .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اور یہ عید کا دن تھا ۔ حبشہ کے کچھ لوگ ڈھالوں اور برچھوں سے کھیل رہے تھے ۔ اب خود میں نے کہا یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم یہ کھیل دیکھو گی ؟ میں نے کہا جی ہاں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیچھے کھڑا کر لیا ۔ میرا رخسار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رخسار پر تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کھیلو کھیلو اے بنی ارفدہ یہ حبشہ کے لوگوں کا لقب تھا پھر جب میں تھک گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” بس ! “ میں نے کہا جی ہاں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب العيدين / حدیث: 950
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة