مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: اذن چاہنے کے بیان میں۔
حدیث نمبر: 2153
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا وَاللَّهِ يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، قال : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : كُنْتُ جَالِسًا بِالْمَدِينَةِ فِي مَجْلِسِ الْأَنْصَارِ ، فَأَتَانَا أَبُو مُوسَى فَزِعًا أَوْ مَذْعُورًا ، قُلْنَا مَا شَأْنُكَ ، قَالَ : إِنَّ عُمَرَ أَرْسَلَ إِلَيَّ أَنْ آتِيَهُ فَأَتَيْتُ بَابَهُ ، فَسَلَّمْتُ ثَلَاثًا ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَرَجَعْتُ ، فَقَالَ : مَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَنَا ؟ فَقُلْتُ : إِنِّي أَتَيْتُكَ فَسَلَّمْتُ عَلَى بَابِكَ ثَلَاثًا ، فَلَمْ يَرُدُّوا عَلَيَّ ، فَرَجَعْتُ ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدُكُمْ ثَلَاثًا ، فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَلْيَرْجِعْ " ، فَقَالَ عُمَرُ : أَقِمْ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةَ وَإِلَّا أَوْجَعْتُكَ ، فَقَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ : لَا يَقُومُ مَعَهُ إِلَّا أَصْغَرُ الْقَوْمِ ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : قُلْتُ : أَنَا أَصْغَرُ الْقَوْمِ ، قَالَ : فَاذْهَبْ بِهِ .
عمرو بن محمد بن بکیر ناقد نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی، کہا: اللہ کی قسم! ہمیں یزید بن خصیفہ نے بسر بن سعید سے حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: میں مدینہ منورہ میں انصار کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا اتنے میں ابوموسیٰ ڈرے سہمے ہوئے آئے، ہم نے ان سے پوچھا آپ کو کیا ہوا؟ انہوں نے بتایا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے میری طرف پیغام بھیجا ہے کہ میں ان کے پاس آؤں، میں ان کے دروازے پر گیا اور تین مرتبہ سلام کیا انہوں نے مجھے سلام کا جواب نہیں دیا تو میں لوٹ آیا، انہوں نے کہا: آپ کو ہمارے پاس آنے سے کس بات نے روکا؟ میں نے کہا: میں آیا تھا، آپ کے دروازے پر کھڑے تین بار سلام کیا، آپ لوگوں نے مجھے جواب نہیں دیا، اس لیے میں لوٹ گیا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص تین بار اجازت مانگے اور اسے اجازت نہ دی جائے تو وہ لوٹ جائے۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس پر گواہی پیش کرو ورنہ میں تم کو سزا دوں گا۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: ان کے ساتھ صرف وہ شخص جا کر کھڑا ہوگا جو قوم میں سے سب سے کم عمر ہے، حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے کہا کہ میں سب سے کم عمر ہوں تو انہوں نے کہا: تم ان کے ساتھ جاؤ (اور گواہی دو)۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الآداب / حدیث: 2153
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2153
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قالا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَزَادَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ فِي حَدِيثِهِ ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : فَقُمْتُ مَعَهُ فَذَهَبْتُ إِلَى عُمَرَ فَشَهِدْتُ .
قتیبہ بن سعید اور ابن ابی عمر نے کہا: ہمیں سفیان نے یزید بن خصیفہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور ابن ابی عمر نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا: حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان کے ہمراہ اٹھ کھڑا ہوا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور گواہی دی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الآداب / حدیث: 2153
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2153
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : كُنَّا فِي مَجْلِسٍ عِنْدَ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، فَأَتَى أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ مُغْضَبًا ، حَتَّى وَقَفَ ، فَقَالَ : أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ ، هَلْ سَمِعَ أَحَدٌ مِنْكُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الِاسْتِئْذَانُ ثَلَاثٌ فَإِنْ أُذِنَ لَكَ وَإِلَّا فَارْجِعْ ؟ ، قَالَ أُبَيٌّ : وَمَا ذَاكَ ، قَالَ : اسْتَأْذَنْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَمْسِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي ، فَرَجَعْتُ ثُمَّ جِئْتُهُ الْيَوْمَ ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ ، فَأَخْبَرْتُهُ أَنِّي جِئْتُ أَمْسِ فَسَلَّمْتُ ثَلَاثًا ثُمَّ انْصَرَفْتُ ، قَالَ : قَدْ سَمِعْنَاكَ وَنَحْنُ حِينَئِذٍ عَلَى شُغْلٍ ، فَلَوْ مَا اسْتَأْذَنْتَ حَتَّى يُؤْذَنَ لَكَ ، قَالَ : اسْتَأْذَنْتُ كَمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فَوَاللَّهِ لَأُوجِعَنَّ ظَهْرَكَ وَبَطْنَكَ أَوْ لَتَأْتِيَنَّ بِمَنْ يَشْهَدُ لَكَ عَلَى هَذَا " ، فَقَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ : فَوَاللَّهِ لَا يَقُومُ مَعَكَ إِلَّا أَحْدَثُنَا سِنًّا قُمْ يَا أَبَا سَعِيدٍ ، فَقُمْتُ حَتَّى أَتَيْتُ عُمَرَ ، فَقُلْتُ قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَذَا .
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک مجلس میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ حاضر تھے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری ناراضی کی حالت میں آ کر رک گئے اور کہنے لگے، میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا تم میں سے کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے ”اجازت تین دفعہ طلب کی جائے، اگر تجھے اجازت مل جائے (تو ٹھیک) وگرنہ لوٹ جاؤ۔‘‘ حضرت ابی رضی اللہ تعالی عنہ نے پوچھا، اس کی کیا ضرورت ہے؟ انہوں نے کہا، کل میں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے تین دفعہ اجازت طلب کی، مجھے اجازت نہ ملی تو میں لوٹ آیا، پھر آج میں ان کے ہاں حاضر ہو کر ان کے پاس گیا اور انہیں بتایا کہ میں گزشتہ کل حاضر تھا اور تین دفعہ سلام عرض کر کے لوٹ گیا تھا، انہوں نے کہا، ہم نے تمہاری آواز سن لی تھی اور ہم اس وقت مصروف تھے تو آپ نے اجازت طلب کرنے پر اصرار کیوں نہ کیا، حتی کہ آپ کو اجازت دے دی جاتی، حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جیسے سنا تھا، اس کے مطابق اجازت طلب کی، انہوں نے کہا، اللہ کی قسم! میں تمہاری پشت اور تمہارے پیٹ کو درے سے تکلیف تکلیف سے دوچار کروں گا الا یہ کہ تم اس پر گواہی دینے والے کو پیش کرو تو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، آپ کے ساتھ ہم سے سب سے کم سن ہی جائے گا، اے ابو سعید! اٹھو تو میں اٹھا، حتی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس حاضر ہوا اور میں نے کہا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سن چکا ہوں۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الآداب / حدیث: 2153
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2153
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّ أَبَا مُوسَى أَتَى بَابَ عُمَرَ ، فَاسْتَأْذَنَ ، فَقَالَ عُمَرُ : وَاحِدَةٌ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ الثَّانِيَةَ ، فَقَالَ عُمَرُ : ثِنْتَانِ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ الثَّالِثَةَ ، فَقَالَ عُمَرُ : ثَلَاثٌ ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَأَتْبَعَهُ فَرَدَّهُ ، فَقَالَ : إِنْ كَانَ هَذَا شَيْئًا حَفِظْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَا وَإِلَّا فَلَأَجْعَلَنَّكَ عِظَةً ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : فَأَتَانَا ، فَقَالَ : أَلَمْ تَعْلَمُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الِاسْتِئْذَانُ ثَلَاثٌ " ، قَالَ : فَجَعَلُوا يَضْحَكُونَ ، قَالَ : فَقُلْتُ : أَتَاكُمْ أَخُوكُمُ الْمُسْلِمُ قَدْ أُفْزِعَ تَضْحَكُونَ انْطَلِقْ فَأَنَا شَرِيكُكَ فِي هَذِهِ الْعُقُوبَةِ ، فَأَتَاهُ ، فَقَالَ : هَذَا أَبُو سَعِيدٍ .
حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو موسیٰ، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے دروازہ پر آئے اور اجازت طلب کی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے دل میں کہا، ایک دفعہ، پھر انہوں نے دوبارہ اجازت طلب کی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے سوچا، دو دفعہ، پھر انہوں نے تیسری دفعہ اجازت طلب کی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، تین دفعہ ہو گیا، پھر ابو موسیٰ رضی اللہ تعالی عنہ واپس چلے گئے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ان کے پیچھے آدمی بھیج کر انہیں واپس بلوایا اور کہا، اگر یہ ایسی چیز ہے، جو تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے تو شہادت پیش کرو، وگرنہ میں تمہیں عبرت بنا دوں گا، ابو سعید رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں، سو وہ ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے، کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ”اجازت، تین دفعہ طلب کی جاتی ہے؟‘‘ تو حاضرین ہنسنے لگے، میں نے کہا، تمہارا مسلمان بھائی تمہارے پاس گھبرایا ہوا آیا ہے اور تم ہنس رہے ہو؟ چلو، میں اس عقوبت میں تمہارا ساتھی ہوں تو وہ عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس آ کر کہنے لگے، یہ ابو سعید (میرا گواہ ہے)
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الآداب / حدیث: 2153
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2153
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قالا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، وَسَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ كلاهما ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَا : سَمِعْنَاهُ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ بِمَعْنَى حَدِيثِ بِشْرِ بْنِ مُفَضَّلٍ ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ .
شعبہ نے ابوسلمہ جریری اور سعید بن یزید سے حدیث بیان کی، جریری اور سعید بن یزید دونوں نے ابونضرہ سے روایت کی، دونوں نے کہا: ہم نے انہیں ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے اسی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، جس طرح بشر بن مفضل نے ابوسلمہ سے روایت کی ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الآداب / حدیث: 2153
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2153
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَنَّ أَبَا مُوسَى اسْتَأْذَنَ عَلَى عُمَرَ ثَلَاثًا ، فَكَأَنَّهُ وَجَدَهُ مَشْغُولًا فَرَجَعَ ، فَقَالَ عُمَرُ : أَلَمْ تَسْمَعْ صَوْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ائْذَنُوا لَهُ ، فَدُعِيَ لَهُ ، فَقَالَ : مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ ؟ قَالَ : إِنَّا كُنَّا نُؤْمَرُ بِهَذَا ، قَالَ : لَتُقِيمَنَّ عَلَى هَذَا بَيِّنَةً أَوْ لَأَفْعَلَنَّ فَخَرَجَ فَانْطَلَقَ إِلَى مَجْلِسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ ، فَقَالُوا : لَا يَشْهَدُ لَكَ عَلَى هَذَا إِلَّا أَصْغَرُنَا ، فَقَامَ أَبُو سَعِيدٍ ، فَقَالَ : كُنَّا نُؤْمَرُ بِهَذَا ، فَقَالَ عُمَرُ : خَفِيَ عَلَيَّ هَذَا مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلْهَانِي عَنْهُ الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ " .
یحییٰ بن سعید قطان نے ابن جریج سے روایت کی کہا: ہمیں عطاء نے عبید بن عمیر سے حدیث بیان کی کہ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے تین مرتبہ اجازت طلب کی تو جیسے انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو مشغول سمجھا اور واپس ہو گئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا ہم نے عبداللہ بن قیس (ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ) کی آواز نہیں سنی تھی؟ ان کو اندر آنے کی اجازت دو، (حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ واپس چلے گئے ہوئے تھے، دوسرے دن) حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو بلایا گیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے کہا: ہمیں یہی (کرنے کا) حکم دیا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا: تم اس پر گواہی دلاؤ، نہیں تو میں (وہ) کروں گا (جو کروں گا) وہ (حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ) نکلے انصار کی مجلس میں آئے انہوں نے کہا: اس بات پر تمہارے حق میں اور کوئی نہیں، ہم میں سے جو سب سے چھوٹا ہے وہی گواہی دے گا۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے (حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے) کھڑے ہو کر کہا: ہمیں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں) اسی کا حکم دیا جاتا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم مجھ سے اوجھل رہ گیا، بازاروں میں ہونے والے سودوں نے مجھے اس سے مشغول کر دیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الآداب / حدیث: 2153
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2153
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ . ح وحَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ يَعْنِى بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَا جَمِيعًا : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ ، وَلَمْ يَذْكُرَ فِي حَدِيثِ النَّضْرِ أَلْهَانِي عَنْهُ الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ .
امام صاحب کو یہ حدیث دو اور اساتذہ نے بھی سنائی، لیکن نضر نے اپنی حدیث میں، ”بازاروں کی خرید و فروخت کی مشغولیت‘‘ کا تذکرہ نہیں کیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الآداب / حدیث: 2153
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2154
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ أَبُو عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَي ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قال : جَاءَ أَبُو مُوسَى إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ ، هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ ، فَلَمْ يَأْذَنْ لَهُ ، فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ ، هَذَا أَبُو مُوسَى ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ هَذَا الْأَشْعَرِيُّ ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَقَالَ : رُدُّوا عَلَيَّ رُدُّوا عَلَيَّ فَجَاءَ ، فَقَالَ يَا أَبَا مُوسَى : مَا رَدَّكَ كُنَّا فِي شُغْلٍ ، قَالَ سمعت رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الِاسْتِئْذَانُ ثَلَاثٌ ، فَإِنْ أُذِنَ لَكَ وَإِلَّا فَارْجِعْ " ، قَالَ : لَتَأْتِيَنِّي عَلَى هَذَا بِبَيِّنَةٍ وَإِلَّا فَعَلْتُ وَفَعَلْتُ ، فَذَهَبَ أَبُو مُوسَى ، قَالَ عُمَرُ : إِنْ وَجَدَ بَيِّنَةً تَجِدُوهُ عِنْدَ الْمِنْبَرِ عَشِيَّةً ، وَإِنْ لَمْ يَجِدْ بَيِّنَةً ، فَلَمْ تَجِدُوهُ فَلَمَّا أَنْ جَاءَ بِالْعَشِيِّ وَجَدُوهُ ، قَالَ يَا أَبَا مُوسَى : مَا تَقُولُ أَقَدْ وَجَدْتَ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ ، قَالَ : عَدْلٌ ، قَالَ يَا أَبَا الطُّفَيْلِ : مَا يَقُولُ هَذَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، فَلَا تَكُونَنَّ عَذَابًا عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ إِنَّمَا سَمِعْتُ شَيْئًا فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَتَثَبَّتَ .
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کے ہاں گئے اور کہا، السلام عليكم، یہ عبداللہ بن قیس اجازت چاہتا ہے تو انہوں نے اجازت نہ دی تو اس نے دوبارہ کہا، السلام عليكم، یہ ابو موسیٰ حاضر ہے، پھر تیسری دفعہ کہا، السلام عليكم، یہ اشعری موجود ہے، پھر وہ واپس پلٹ گیا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، میرے پاس واپس لاؤ، میرے پاس لوٹاؤ تو وہ حاضر ہوئے، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، اے ابو موسیٰ! واپس کیوں چلے گئے؟ ہم تو مشغول تھے، ابو موسیٰ ؓ نے کہا میں نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے؟ ”اجازت تین دفعہ طلب کی جائے، اگر تمہیں اجازت مل جائے، (تو ٹھیک) وگرنہ واپس لوٹ جاؤ۔‘‘ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، اس پر دلیل پیش کرو، وگرنہ میں یہ یہ کروں گا، ابو موسیٰ رضی اللہ تعالی عنہ چلے گئے، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے (ساتھیوں سے) کہا، اگر اسے بینہ مل گئی تو وہ شام کے وقت منبر کے پاس ہوں گے، اگر اسے بینہ نہ ملی تو تمہیں وہ نہیں ملیں گے، جب شام کو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ آئے تو انہوں نے ابو موسیٰ کو موجود پایا، پوچھا، اے ابو موسیٰ! آپ کیا کہتے ہیں؟ کیا آپ کو شہادت مل گئی؟ انہوں نے کہا، جی ہاں، ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، وہ مجسمہ عدل ہیں، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے پوچھا، اے ابو طفیل (حضرت ابی کی کنیت ہے) یہ کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا، اے ابن الخطاب! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سنا ہے، اس لیے آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کے لیے عذاب کا باعث نہ بنیں، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، سبحان اللہ (اس میں عذاب کی کیا بات ہے) میں نے تو ایک بات سن کر اس کی تحقیق کرنا پسند کیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الآداب / حدیث: 2154
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2154
وحدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَيبِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ ، قَالَ : فَقَالَ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ : آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، فَلَا تَكُنْ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ عَذَابًا عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَمْ يَذْكُرْ مِنْ قَوْلِ عُمَرَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَمَا بَعْدَهُ .
علی بن ہاشم نے طلحہ بن یحییٰ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، مگر انہوں نے کہا: تو انہوں نے (حضرت عمر رضی اللہ عنہ) نے کہا: ابومنذر! (ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی کنیت) کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی تھی؟ انہوں نے کہا: ہاں، ابن خطاب! تو آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے عذاب نہ بنیں اور انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول: سبحان اللہ اور اس کے بعد کا حصہ ذکر نہیں کیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الآداب / حدیث: 2154
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔