کتب حدیث ›
صحيح مسلم › ابواب
› باب: غیر کے لڑکے کو بیٹا کہنا اور ایسے کلمہ کو مہربانی کے طور پر مستحب ہونا۔
حدیث نمبر: 2151
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قال : " قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا بُنَيَّ " .
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے میرے بیٹے!“
حدیث نمبر: 2152
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قال : مَا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ عَنِ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُهُ عَنْهُ ، فَقَالَ لِي : " أَيْ بُنَيَّ وَمَا يُنْصِبُكَ مِنْهُ إِنَّهُ لَنْ يَضُرَّكَ " ، قَالَ : قُلْتُ : إِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ مَعَهُ أَنْهَارَ الْمَاءِ ، وَجِبَالَ الْخُبْزِ ، قَالَ : " هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَلِكَ " .
یزید بن ہارون نے اسماعیل بن ابی خالد سے، انہوں نے قیس بن ابی حازم سے، انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے متعلق جتنے سوالات میں نے کیے اتنے کسی اور نے نہیں کیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”میرے بیٹے! تمہیں اس (دجال) سے کیا بات پریشان کر رہی ہے؟ تمہیں اس سے ہرگز کوئی نقصان نہ پہنچے گا۔“ کہا: میں نے عرض کی: لوگ سمجھتے ہیں کہ اس کے ساتھ پانی کی نہریں اور روٹی کے پہاڑ ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کی نسبت زیادہ ذلیل ہے۔“
حدیث نمبر: 2152
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحدثنا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ . ح وحدثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ كُلُّهُمْ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ ، قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُغِيرَةِ أَيْ بُنَيَّ إِلَّا فِي حَدِيثِ يَزِيد َ وَحْدَهُ .
وکیع، ہشیم، جریر اور ابواسامہ سب نے اسماعیل سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، ان میں سے تنہا یزید کی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مغیرہ رضی اللہ عنہ کے لیے (اے میرے بیٹے) کے الفاظ ہیں اور کسی کی حدیث میں نہیں ہیں۔