مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: جس کا بچہ نہ ہوا ہو اس کو اور کمسن کو کنیت رکھنا درست ہے۔
حدیث نمبر: 2150
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ . ح وحدثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قال : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا ، وَكَانَ لِي أَخٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو عُمَيْرٍ ، قَالَ : أَحْسِبُهُ ، قَالَ : كَانَ فَطِيمًا ، قَالَ : فَكَانَ إِذَا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَآهُ ، قَالَ أَبَا عُمَيْرٍ : مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ ؟ ، قَالَ : فَكَانَ يَلْعَبُ بِهِ " .
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے اچھے اخلاق کے مالک تھے، میرا ایک بھائی تھا، جسے ابو عمیر کہا جاتا تھا، راوی بیان کرتا ہے، میرا خیال ہے، حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، اسے ماں کا دودھ چھڑایا جا چکا تھا تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اسے دیکھتے تو فرماتے ”اے ابو عمیر! نغیر (سرخ چڑیا) نے کیا کیا؟‘‘ وہ بچہ اس سرخ چڑیا سے کھیلتا تھا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الآداب / حدیث: 2150
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔