کتب حدیث ›
صحيح مسلم › ابواب
› باب: جانور کی تصویر بنانا حرام ہے اور فرشتوں کا اس گھر میں داخل نہ ہونا جس گھر میں کتا اور تصویر ہو اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 2104
حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا ، قَالَتْ : وَاعَدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فِي سَاعَةٍ يَأْتِيهِ فِيهَا ، فَجَاءَتْ تِلْكَ السَّاعَةُ وَلَمْ يَأْتِهِ ، وَفِي يَدِهِ عَصًا ، فَأَلْقَاهَا مِنْ يَدِهِ ، وَقَالَ : " مَا يُخْلِفُ اللَّهُ وَعْدَهُ وَلَا رُسُلُهُ " ثُمَّ الْتَفَتَ فَإِذَا جِرْوُ كَلْبٍ تَحْتَ سَرِيرِهِ ، فَقَالَ يَا عَائِشَةُ : " مَتَى دَخَلَ هَذَا الْكَلْبُ هَاهُنَا ؟ " ، فَقَالَتْ : وَاللَّهِ مَا دَرَيْتُ ، فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ ، فَجَاءَ جِبْرِيلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَاعَدْتَنِي فَجَلَسْتُ لَكَ فَلَمْ تَأْتِ " ، فَقَالَ : " مَنَعَنِي الْكَلْبُ الَّذِي كَانَ فِي بَيْتِكَ إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ " .
عبدالعزیز بن ابی حازم نے اپنے والد سے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا جبریل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کیا کہ وہ ایک خاص گھڑی میں ان کے پاس آئیں گے، چنانچہ وہ گھڑی آ گئی لیکن جبریل علیہ السلام نہ آئے۔ (اس وقت) آپ کے دست مبارک میں ایک عصا تھی۔ آپ نے اسے اپنے ہاتھ سے (نیچے) پھینکا اور فرمایا: ”نہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی خلاف ورزی کرتا ہے نہ رسول (خلاف ورزی کرتے ہیں۔)“ (جبریل امین علیہ السلام بھی وحی لے کر انبیاء علیہم السلام کی طرف آنے والے اللہ کے رسول تھے) پھر آپ نے دھیان دیا تو ایک چارپائی کے نیچے کتے کا ایک پلا تھا۔ آپ نے فرمایا: ”عائشہ! یہ کتا یہاں کب گھسا؟“ انہوں نے کہا: واللہ! مجھے بالکل پتا نہیں چلا۔ آپ نے حکم دیا تو اس (پلے) کو نکال دیا گیا، پھر جبریل علیہ السلام تشریف لے آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آپ نے میرے ساتھ وعدہ کیا تھا میں آپ کی خاطر بیٹھا رہا لیکن آپ نہیں آئے۔“ انہوں نے کہا آپ کے گھر میں جو کتا تھا، مجھے اس نے روک لیا ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو نہ (اس میں جہاں تصویر ہو۔)
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 2104
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2104
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، أَنَّ جِبْرِيلَ وَعَدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتِيَهُ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَلَمْ يُطَوِّلْهُ كَتَطْوِيلِ ابْنِ أَبِي حَازِمٍ .
یہی حدیث امام صاحب ایک اور استاد کی سند سے بیان کرتے ہیں کہ جبریل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے پاس آنے کا وعدہ کیا، لیکن یہ مذکورہ بالا حدیث کی طرح مفصل نہیں ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 2104
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2105
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ ابْنِ السَّبَّاقِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، قال : أَخْبَرَتْنِي مَيْمُونَةُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْبَحَ يَوْمًا وَاجِمًا ، فَقَالَتْ مَيْمُونَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدِ اسْتَنْكَرْتُ هَيْئَتَكَ مُنْذُ الْيَوْمِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ جِبْرِيلَ كَانَ وَعَدَنِي أَنْ يَلْقَانِي اللَّيْلَةَ فَلَمْ يَلْقَنِي أَمَ وَاللَّهِ مَا أَخْلَفَنِي " ، قَالَ : فَظَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَهُ ذَلِكَ عَلَى ذَلِكَ ثُمَّ وَقَعَ فِي نَفْسِهِ جِرْوُ كَلْبٍ تَحْتَ فُسْطَاطٍ لَنَا ، فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ مَاءً ، فَنَضَحَ مَكَانَهُ فَلَمَّا أَمْسَى لَقِيَهُ جِبْرِيلُ ، فَقَالَ لَهُ : " قَدْ كُنْتَ وَعَدْتَنِي أَنْ تَلْقَانِي الْبَارِحَةَ ؟ " ، قَالَ : أَجَلْ ، وَلَكِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ ، فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ ، فَأَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ حَتَّى إِنَّهُ يَأْمُرُ بِقَتْلِ كَلْبِ الْحَائِطِ الصَّغِيرِ ، وَيَتْرُكُ كَلْبَ الْحَائِطِ الْكَبِيرِ .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے مجھے بتایا کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فکرمندی کی حالت میں صبح کی۔ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں آج دن (کے آغاز) سے آپ کی حالت معمول کے خلاف دیکھ رہی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبریل علیہ السلام نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ آج رات مجھ سے ملیں گے لیکن وہ نہیں ملے۔ بات یہ ہے کہ انہوں نے کبھی مجھ سے وعدہ خلافی نہیں کی۔“ کہا: تو اس روز پورا دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیفیت یہی رہی پھر ان کے دل میں کتے کے ایک پلے کا خیال بیٹھ گیا جو ہمارے (ایک بستر کے نیچے بن جانے والے) ایک خیمہ (نما حصے) میں تھا۔ آپ نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اسے نکال دیا گیا، پھر آپ نے اپنے دست مبارک سے پانی لیا اور اس جگہ پر چھڑک دیا۔ جب شام ہوئی تو جبریل علیہ السلام آ کر آپ سے ملے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ آپ مجھے کل رات ملیں گے؟ انہوں نے کہا ہاں بالکل لیکن ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو۔ پھر جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (آوارہ یا بے کار) کتوں کو مارنے دینے کا حکم دیا، یہاں تک کہ آپ باغ یا کھیت کے چھوٹے کتے کو بھی (جو رکھوالی نہیں کر سکتا) مارنے کا حکم دے رہے تھے اور باغ کھیت کے بڑے کتے کو چھوڑ رہے تھے۔ (ایسے کتے گھروں سے باہر ہی رہتے ہیں اور واقعی رکھوالی کی ضرورت پوری کرتے ہیں۔)
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 2105
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2106
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ يَحْيَى وَإِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وقال الآخران : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ " .
سفیان بن عیینہ نے زہری سے، انہوں نے عبید اللہ سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو نہ (اس گھر میں جس میں) کوئی تصویر ہو۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 2106
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2106
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قالا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا طَلْحَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ " .
یونس نے مجھے ابن شہاب سے، خبر دی انہوں نے عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ فرما رہے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو نہ (اس گھر میں جس میں) کوئی تصویر ہو۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 2106
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2106
وحدثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ حَدِيثِ يُونُسَ ، وَذِكْرِهِ الْأَخْبَارَ فِي الْإِسْنَادِ .
یہی روایت امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 2106
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2106
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ ، صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ " ، قَالَ بُسْرٌ : ثُمَّ اشْتَكَى زَيْدٌ بَعْدُ فَعُدْنَاهُ ، فَإِذَا عَلَى بَابِهِ سِتْرٌ فِيهِ صُورَةٌ ، قَالَ : فَقُلْتُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيِّ رَبِيبِ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَمْ يُخْبِرْنَا زَيْد عَنِ الصُّوَرِ يَوْمَ الْأَوَّلِ ، فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : أَلَمْ تَسْمَعْهُ حِينَ ، قَالَ : إِلَّا رَقْمًا فِي ثَوْبٍ .
لیث نے ہمیں بکیر سے حدیث سنائی انہوں نے بسر بن سعید سے، انہوں نے زید بن خالد سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کوئی تصویر ہو۔“ بسر نے کہا: پھر اس کے بعد حضرت زید بن خالد بیمار ہو گئے۔ ہم ان کی عیادت کے لیے گئے تو (دیکھا) ان کے دروازے پر ایک پردہ تھا جس میں تصویر (بنی ہوئی) تھی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے لے پالک عبید اللہ خولانی سے کہا: کیا حضرت زید نے پہلے دن (جب ملاقات ہوئی تھی) ہمیں تصویر (کی ممانعت) کے بارے میں خبر (حدیث) بیان نہیں کی تھی؟ تو عبید اللہ نے کہا: جب انہوں نے (کپڑے پر بنے ہوئے نقش کے سوا) کے الفاظ کہے تھے تو کیا تم نے نہیں سنے تھے؟
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 2106
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2106
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ الْأَشَجّ حَدَّثَهُ ، أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ حَدَّثَهُ ، وَمَعَ بُسْرٍ عُبَيْدُ اللَّهِ الْخَوْلَانِيُّ ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ " ، قَالَ بُسْرٌ : فَمَرِضَ زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ فَعُدْنَاهُ ، فَإِذَا نَحْنُ فِي بَيْتِهِ بِسِتْرٍ فِيهِ تَصَاوِيرُ ، فَقُلْتُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيِّ : أَلَمْ يُحَدِّثْنَا فِي التَّصَاوِيرِ ، قَالَ ، إِنَّهُ قَالَ : إِلَّا رَقْمًا فِي ثَوْبٍ أَلَمْ تَسْمَعْهُ ؟ ، قُلْتُ : لَا : قَالَ : بَلَى قَدْ ذَكَرَ ذَلِكَ .
مجھے عمرو بن حارث نے خبر دی کہ انہیں بکیر بن اشج نے حدیث سنائی، انہیں بسر بن سعید نے حدیث سنائی کہ زید بن خالد جہنی نے انہیں حدیث سنائی اور (اس وقت) بسر کے ساتھ عبید اللہ خولانی تھے۔ (کہا) حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر ہو۔“ بسر نے کہا: پھر حضرت زید بن خالد بیمار ہو گئے، ہم ان کی عیادت کے لیے گئے تو ہم نے ان کے گھر میں ایک پردہ دیکھا جس میں تصویریں تھیں میں نے عبید اللہ خولانی سے کہا: کیا (حضرت زید بن خالد نے) ہمیں تصاویر کے متعلق حدیث بیان نہیں کی تھی؟ (عبید اللہ نے) کہا: انہوں نے (ساتھ ہی یہ) کہا تھا: (سوائے کپڑے کے نقش کے) کیا آپ نے نہیں سنا تھا؟ میں نے کہا: نہیں انہوں نے کہا: کیوں نہیں! انہوں نے اس کا ذکر کیا تھا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 2106
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2106
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِح ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ أَبِي الْحُبَابِ مَوْلَى بَنِي النَّجَّارِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، قال : سمعت رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا تَمَاثِيلُ " ،
حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہوں۔‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 2106
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2107
قَالَ : فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ : إِنَّ هَذَا يُخْبِرُنِي ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا تَمَاثِيلُ " ، فَهَلْ سَمِعْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ ذَلِكَ ؟ ، فَقَالَتْ : لَا ، وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكُمْ مَا رَأَيْتُهُ ، فَعَلَ رَأَيْتُهُ خَرَجَ فِي غَزَاتِهِ ، فَأَخَذْتُ نَمَطًا ، فَسَتَرْتُهُ عَلَى الْبَابِ ، فَلَمَّا قَدِمَ فَرَأَى النَّمَطَ عَرَفْتُ الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِهِ ، فَجَذَبَهُ حَتَّى هَتَكَهُ أَوْ قَطَعَهُ ، وَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَأْمُرْنَا أَنْ نَكْسُوَ الْحِجَارَةَ وَالطِّينَ " ، قَالَتْ : فَقَطَعْنَا مِنْهُ وِسَادَتَيْنِ ، وَحَشَوْتُهُمَا لِيفًا فَلَمْ يَعِبْ ذَلِكَ عَلَيَّ .
حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے کہا، اس ابو طلحہ نے مجھے یہ حدیث سنائی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر و مجسمے ہوں۔‘‘ تو کیا آپ نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے؟ انہوں نے کہا، نہیں، لیکن میں تمہیں ابھی آپ کا وہ واقعہ سناتی ہوں، جو میرا چشم دید ہے، میں نے آپﷺ کو دیکھا کہ آپ اپنے کسی غزوہ میں چلے گئے تو میں نے ایک جھول دار پردہ لیا اور اسے دروازہ کا پردہ بنا دیا تو جب آپ تشریف لائے اور اس زین پوش کو دیکھا تو میں نے آپ کے چہرے پر ناراضگی کے آثار دیکھے تو آپ نے اس کو کھینچ کر پھاڑ ڈالا، یا چیز ڈالا اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ہمیں، پتھروں اور مٹی کو کپڑے پہننانے کا حکم نہیں دیا‘‘ وہ بیان کرتی ہیں، ہم نے اس سے دو تکیے بنا لیے اور میں نے ان میں کھجور کی چھال بھر دی تو اس پر آپ نے اعتراض نہیں فرمایا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 2107
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2107
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ عَزْرَةَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ لَنَا سِتْرٌ فِيهِ تِمْثَالُ طَائِرٍ ، وَكَانَ الدَّاخِلُ إِذَا دَخَلَ اسْتَقْبَلَهُ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَوِّلِي هَذَا ، فَإِنِّي كُلَّمَا دَخَلْتُ فَرَأَيْتُهُ ذَكَرْتُ الدُّنْيَا " ، قَالَتْ : وَكَانَتْ لَنَا قَطِيفَةٌ كُنَّا نَقُولُ عَلَمُهَا حَرِيرٌ فَكُنَّا نَلْبَسُهَا .
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں، ہمارا ایک پردہ تھا، جس میں پرندے کی شبیہ تھی اور داخل ہونے والے کی نظر سب سے پہلے اس پر پڑتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”اس کو یہاں سے ہٹا دو، کیونکہ میں جب داخل ہوتا ہوں اور اس پر میری نظر پڑتی ہے، مجھے دنیا یاد آ جاتی ہے۔‘‘ وہ بیان کرتی ہیں اور ہمارے پاس ایک چادر تھی، ہم کہتے تھے، اس کے نقش و نگار ریشمی ہوں اور ہم اس کو پہنتے تھے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 2107
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2107
وحدثينيه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى وَزَادَ فِيهِ يُرِيدُ عَبْدَ الْأَعْلَى ، فَلَمْ يَأْمُرْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَطْعِهِ .
محمد بن مثنیٰ نے کہا: ہمیں ابن ابی عدی اور عبدالاعلیٰ نے اسی سند کے ساتھ (داود سے) حدیث بیان کی، ابن مثنیٰ نے کہا: اور اس میں انہوں نے۔۔۔ ان کی مراد عبدالاعلیٰ سے ہے۔ یہ اضافہ کیا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس چادر کو کاٹنے کا حکم نہیں دیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 2107
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2107
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ ، وَقَدْ سَتَّرْتُ عَلَى بَابِي دُرْنُوكًا فِيهِ الْخَيْلُ ذَوَاتُ الْأَجْنِحَةِ ، فَأَمَرَنِي فَنَزَعْتُهُ " .
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر سے واپس آئے اور میں اپنے دروازے پر ایک پردہ ڈال چکی تھی، جس میں پروں والے گھوڑے کی شبیہ تھی تو آپ نے مجھے اس کے اتارنے کا حکم دیا تو میں نے اسے اتار دیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 2107
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2107
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ . ح وحدثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ عَبْدَةَ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ .
عبدہ اور وکیع نے اسی سند کے ساتھ ہمیں (ہشام بن عروہ سے) حدیث بیان کی، عبدہ کی حدیث میں (آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے آئے) کے الفاظ نہیں ہیں۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 2107
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2107
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مُتَسَتِّرَةٌ بِقِرَامٍ فِيهِ صُورَةٌ ، فَتَلَوَّنَ وَجْهُهُ ثُمَّ تَنَاوَلَ السِّتْرَ فَهَتَكَهُ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُشَبِّهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ " .
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے اور میں نے ایک باریک پردہ تانا ہوا تھا، جس میں تصویر تھی تو آپﷺ کے چہرے کا رنگ بدل گیا، پھر آپﷺ نے اس پردہ کو پکڑ کو چاک کر دیا، پھر فرمایا: ”قیامت کے دن جو لوگ سب سے سخت عذاب میں مبتلا ہوں گے ان میں وہ لوگ جو اللہ کی تخلیق کی مشابہت کرتے ہیں۔‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 2107
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2107
وحدثني حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا بِمِثْلِ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، غَيْرَ أَنَّهُ ، قَالَ : ثُمَّ أَهْوَى إِلَى الْقِرَامِ فَهَتَكَهُ بِيَدِهِ .
یونس نے ابن شہاب سے، انہوں نے قاسم بن محمد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے انہیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے، (آگے اسی طرح) جس طرح ابراہیم بن سعد کی حدیث ہے، البتہ انہوں نے کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس (پردے) کی طرف لپکے اور اپنے ہاتھ سے اس کو پھاڑ دیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 2107
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2107
وحدثنا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَفِي حَدِيثِهِمَا إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا لَمْ يَذْكُرَا مِنْ .
مصنف یہی روایت اپنے پانچ اساتذہ کی دو سندوں سے بیان کرتے ہیں، لیکن اس میں أشد الناس
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 2107
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2107
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ سَتَرْتُ سَهْوَةً لِي بِقِرَامٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ ، فَلَمَّا رَآهُ هَتَكَهُ وَتَلَوَّنَ وَجْهُهُ ، وَقَالَ يَا عَائِشَةُ : " أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُضَاهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ " ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقَطَعْنَاهُ ، فَجَعَلْنَا مِنْهُ وِسَادَةً أَوْ وِسَادَتَيْنِ .
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میں نے ایک طاق یا مچان پر ایسا پردہ ڈالا ہوا تھا، جس میں تصاویر تھیں تو جب آپ نے اسے دیکھا، اسے پھاڑ دیا اور آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور فرمایا: ”اے عائشہ! قیامت کے دن اللہ کے ہاں، سب سے سخت عذاب ان لوگوں کو ہو گا، جو اللہ کی تخلیق کی مشابہت اختیار کرتے ہیں‘‘ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں، ہم نے اس کو پھاڑ کر، اس سے ایک یا دو تکیے بنا لیے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 2107
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2107
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، قال : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهُ كَانَ لَهَا ثَوْبٌ فِيهِ تَصَاوِيرُ مَمْدُودٌ إِلَى سَهْوَةٍ ، فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَيْهِ ، فَقَالَ : " أَخِّرِيهِ عَنِّي " ، قَالَتْ : فَأَخَّرْتُهُ فَجَعَلْتُهُ وَسَائِدَ .
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے عبدالرحمان بن قاسم سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے قاسم سے سنا، وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ ان کے پاس ایک کپڑا تھا جس میں تصویریں تھیں، وہ طاق پر لٹکا ہوا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرف رخ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو مجھ سے ہٹا دو۔“ تو میں نے اس کو ہٹا دیا اور اس کے تکیے بنا لیے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 2107
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2107
وحدثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ . ح وحدثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ جَمِيعًا ، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ .
سعید بن عامر اور ابوعامر عقدی نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 2107
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2107
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ وَقَدْ سَتَرْتُ نَمَطًا فِيهِ تَصَاوِيرُ ، فَنَحَّاهُ فَاتَّخَذْتُ مِنْهُ وِسَادَتَيْنِ " .
وکیع نے سفیان سے، انہوں نے عبدالرحمان بن قاسم سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے، اور میں نے ایک بچھانے والے کپڑے کا پردہ بنایا ہوا تھا، اس میں تصویریں تھیں، آپ نے اس کو ہٹوا دیا اور میں نے اس سے دو تکیے بنا لیے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 2107
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2107
وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " أَنَّهَا نَصَبَتْ سِتْرًا فِيهِ تَصَاوِيرُ ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَزَعَهُ ، قَالَتْ : فَقَطَعْتُهُ وِسَادَتَيْنِ " ، فَقَالَ رَجُلٌ فِي الْمَجْلِسِ حِينَئِذٍ يُقَالُ لَهُ رَبِيعَةُ بْنُ عَطَاءٍ مَوْلَى بَنِي زُهْرَةَ : أَفَمَا سَمِعْتَ أَبَا مُحَمَّدٍ يَذْكُرُ أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْتَفِقُ عَلَيْهِمَا ، قَالَ ابْنُ الْقَاسِمِ : لَا ، قَالَ : لَكِنِّي قَدْ سَمِعْتُهُ يُرِيدُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ .
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ اس نے تصویروں والا ایک پردہ لٹکایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپﷺ نے اسے کھینچ ڈالا تو میں نے کاٹ کر اس کے دو تکیے بنا لیے تو اس وقت مجلس میں ایک آدمی جسے ربیعہ بن عطاء کہا جاتا تھا اور بنو زہرہ کا آزاد کردہ غلام تھا، نے کہا، کیا تو نے ابو محمد کو یہ بیان کرتے نہیں سنا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر آرام فرماتے تھے؟ ابن قاسم نے کہا، نہیں، لیکن یہ میں نے قاسم بن محمد سے سنا ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 2107
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2107
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قال : قرأت على مالك ، عن نافع ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : " أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ ، فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى الْبَابِ فَلَمْ يَدْخُلْ ، فَعَرَفْتُ أَوْ فَعُرِفَتْ فِي وَجْهِهِ الْكَرَاهِيَةُ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ فَمَاذَا أَذْنَبْتُ ؟ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا بَالُ هَذِهِ النُّمْرُقَةِ ؟ " ، فَقَالَتْ : اشْتَرَيْتُهَا لَكَ تَقْعُدُ عَلَيْهَا وَتَوَسَّدُهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ وَيُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ " ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ الصُّوَرُ لَا تَدْخُلُهُ الْمَلَائِكَةُ " .
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ اس نے ایک تصویروں والا تکیہ خریدا تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا، دروازہ پر کھڑے ہو گئے، اندر تشریف نہیں لائے تو میں نے محسوس کر لیا، یا آپ کے چہرے پر کبیدگی کے آثار محسوس ہوئے تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا، اے اللہ کے رسولﷺ! میں اللہ او اس کے رسول کی طرف لوٹتی ہوں، مجھ سے کیا گناہ سرزد ہوا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ گدا، تکیہ کس لیے ہے؟‘‘ تو میں نے عرض کیا، میں نے اسے آپ کے لیے خریدا ہے، آپ اس پر بیٹھیں اور اس کا سہارا لیں، تکیہ بنائیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تصویریں بنانے والے، ان کو عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا، اپنی مخلوق کو زندہ کرو‘‘ پھر آپﷺ نے فرمایا: ”جس گھر میں تصویریں ہوں، اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 2107
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2107
وحدثنا قُتَيْبَةُ ، وَابْنُ رُمْح ، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ . ح وحدثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، حدثنا أبى عَنْ جَدِّي ، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحدثنا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَخِي الْمَاجِشُونِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ كُلُّهُمْ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَبَعْضُهُمْ أَتَمُّ حَدِيثًا لَهُ مِنْ بَعْضٍ وَزَادَ فِي حَدِيثِ ابْنِ أَخِي الْمَاجِشُونِ ، قَالَتْ : فَأَخَذْتُهُ فَجَعَلْتُهُ مِرْفَقَتَيْنِ فَكَانَ يَرْتَفِقُ بِهِمَا فِي الْبَيْتِ .
قتیبہ اور ابن رمح نے لیث سے حدیث بیان کی، اسحاق بن ابراہیم نے کہا: ہمیں ثقفی نے خبر دی، کہا: ہمیں ایوب نے حدیث بیان کی، عبدالوارث بن عبدالصمد نے کہا: ہمیں میرے والد نے میرے دادا کے واسطے سے ایوب سے حدیث بیان کی، ہارون بن سعید ایلی نے کہا: ہمیں ابن وہب نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے اسامہ بن زید نے خبر دی، ابوبکر اسحاق نے کہا: ہمیں ابوسلمہ خزاعی نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ماجثون کے بھتیجے عبدالعزیز نے عبیداللہ بن عمر سے خبر دی، ان سب (لیث بن سعد، ایوب، اسامہ بن زید اور عبیداللہ بن عمر) نے نافع سے، انہوں نے قاسم سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ حدیث روایت کی، ان میں سے بعض کی حدیث بعض کی نسبت زیادہ مکمل ہے اور (ابوسلمہ خزاعی نے) ابن ماجثون کے بھتیجے سے روایت کردہ حدیث میں یہ اضافہ کیا: انہوں (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) نے فرمایا: میں نے اس گدے کو لے کر اس کے دو تکیے بنا لیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں ان کے ساتھ ٹیک لگاتے تھے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 2107
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2108
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ . ح وحدثنا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ جميعا ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، حدثنا أبى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الَّذِينَ يَصْنَعُونَ الصُّوَرَ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ " .
عبید اللہ نے نافع سے حدیث بیان کی، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو لوگ تصویریں بناتے ہیں انہیں قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا، ان سے کہا جائے گا جن کو تم نے تخلیق کیا (اب ان کو زندہ کرو۔)“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 2108
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2108
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قالا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا الثَّقَفِيُّ كُلُّهُمْ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِع ، عَن ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مصنف یہی روایت اپنے مختلف اساتذہ کی تین سندوں سے بیان کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 2108
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2109
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قال : قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُصَوِّرُونَ " ، وَلَمْ يَذْكُرْ الْأَشَجُّ إِنَّ .
عثمان بن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں جریر نے اعمش سے حدیث بیان کی، ابوسعید اشج نے کہا: ہمیں وکیع نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں اعمش نے ابوضحیٰ سے حدیث بیان کی، انہوں نے مسروق سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقیناً قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب میں (گرفتار تصویر بنانے والے ہوں گے۔)“ اشج نے (یقیناً) (کا لفظ) بیان نہیں کیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 2109
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2109
وحدثنا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ كُلُّهُمْ ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ . ح وحدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كِلَاهُمَا ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي رِوَايَةِ يَحْيَي ، وَأَبِي كُرَيْبٍ ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، إِنَّ مِنْ أَشَدِّ أَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَذَابًا الْمُصَوِّرُونَ ، وَحَدِيثُ سُفْيَانَ كَحَدِيثِ وَكِيعٍ .
یہی روایت امام صاحب اپنے تین اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، ان میں سے دو کی روایت میں یہ الفاظ ہیں ”اہل نار میں سے سخت ترین عذاب، قیامت کے دن تصویر سازوں کو ہو گا۔‘‘ یا ”مصور قیامت کے دن سخت ترین عذاب والے لوگوں میں سے ہوں گے‘‘ اور چوتھے استاد کی روایت وکیع کی مذکورہ بالا روایت کی طرح ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 2109
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2109
وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ ، قال : كُنْتُ مَعَ مَسْرُوقٍ فِي بَيْتٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ مَرْيَمَ ، فَقَالَ مَسْرُوقٌ : هَذَا تَمَاثِيلُ كِسْرَى ، فَقُلْتُ : لَا هَذَا تَمَاثِيلُ مَرْيَمَ ، فَقَالَ مَسْرُوقٌ : أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، يقول : قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُصَوِّرُونَ " .
منصور نے مسلم بن صبیح (ابوضحیٰ) سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں مسروق کے ساتھ ایک مکان میں تھا جس میں حضرت مریم علیہا السلام کی تصاویر تھیں (یا مجسمے تھے) مسروق نے کہا: یہ کسریٰ کی تصاویر ہیں؟ میں نے کہا: نہیں یہ مریم علیہا السلام کی تصاویر ہیں۔ مسروق نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب تصویریں (یا مجسمے) بنانے والوں کو ہو گا۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 2109
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2110
قَالَ مُسْلِم : قَرَأْتُ عَلَى نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، قال : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : إِنِّي رَجُلٌ أُصَوِّرُ هَذِهِ الصُّوَرَ فَأَفْتِنِي فِيهَا ؟ فَقَالَ لَهُ : ادْنُ مِنِّي فَدَنَا مِنْهُ ، ثُمَّ قَالَ : ادْنُ مِنِّي فَدَنَا حَتَّى وَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ ، قَالَ : أُنَبِّئُكَ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " كُلُّ مُصَوِّرٍ فِي النَّارِ يَجْعَلُ لَهُ بِكُلِّ صُورَةٍ صَوَّرَهَا نَفْسًا فَتُعَذِّبُهُ فِي جَهَنَّمَ " ، وقَالَ : إِنْ كُنْتَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَاصْنَعِ الشَّجَرَ ، وَمَا لَا نَفْسَ لَهُ فَأَقَرَّ بِهِ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ .
سعید بن ابی الحسن بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا، میں ایسا آدمی ہوں کہ میں یہ تصویریں بناتا ہوں تو آپ مجھے ان کے بارے میں فتویٰ دیں تو انہوں نے اس سے کہا، میرے قریب ہو جا تو وہ ان کے قریب ہو گیا، پھر انہوں نے کہا، میرے قریب ہو جا تو وہ اور قریب ہو گیا، حتی کہ انہوں نے اس کے سر پر اپنا ہاتھ رکھ دیا اور کہا، میں تمہیں وہ بات بتاتا ہوں، جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”ہر تصویر بنانے والا دوزخ میں ہو گا اور اللہ اسے ہر تصویر کے عوض میں، جو اس نے بنائی ہو گی، ایک جان دے گا، جو اس کو جہنم میں دکھ پہنچائے گی۔‘‘ اور فرمایا: اگر تجھے ضرور ہی تصویر بنانا ہے تو درخت کی تصویر اور بے جان چیز کی تصویر بنا، امام مسلم نے یہ حدیث اپنے استاد نصر بن علی جہضمی کو سنائی تو انہوں نے اس کا اقرار کیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 2110
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2110
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قال : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَجَعَلَ يُفْتِي ، لا يَقُولُ : قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَأَلَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : إِنِّي رَجُلٌ أُصَوِّرُ هَذِهِ الصُّوَرَ ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ : ادْنُهْ فَدَنَا الرَّجُلُ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فِي الدُّنْيَا كُلِّفَ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ "
سعید بن ابی عروبہ نے نضر بن انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا، آپ نے (پوچھنے والوں کے مطالبے پر) فتوے دینے شروع کیے اور یہ نہیں کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح فرمایا ہے حتیٰ کہ ایک شخص نے ان سے سوال کیا کہ میں یہ تصویریں بناتا ہوں، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے کہا: قریب آؤ۔ وہ شخص قریب آیا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”جس شخص نے دنیا میں کوئی تصویر بنائی اس کو اس بات کا مکلف بنایا جائے گا کہ وہ قیامت کے دن اس میں روح پھونکے اور وہ اس میں روح نہیں پھونک سکے گا۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 2110
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2110
حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قالا : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حدثنا أبى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ فَذَكَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ .
نضر بن انس سے روایت ہے کہ ایک آدمی حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ بالا روایت سنائی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 2110
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2111
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، قال : دَخَلْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي دَارِ مَرْوَانَ ، فَرَأَى فِيهَا تَصَاوِيرَ ، فَقَالَ : سمعت رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذَهَبَ يَخْلُقُ خَلْقًا كَخَلْقِي فَلْيَخْلُقُوا ذَرَّةً أَوْ لِيَخْلُقُوا حَبَّةً أَوْ لِيَخْلُقُوا شَعِيرَةً " .
ابو زرعہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ مروان کے گھر گیا، انہوں نے وہاں تصویریں دیکھیں تو کہا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے، جو میری تخلیق جیسی تخلیق کرنے لگتا ہے؟ وہ ایک ذرہ پیدا کریں، یا دانہ ہی پیدا کریں یا جو پیدا کریں۔‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 2111
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2111
وحدثينيه زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، قال : دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو هُرَيْرَةَ دَارًا تُبْنَى بِالْمَدِينَةِ لِسَعِيدٍ أَوْ لِمَرْوَانَ ، قَالَ : فَرَأَى مُصَوِّرًا يُصَوِّرُ فِي الدَّارِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَذْكُرْ أَوْ لِيَخْلُقُوا شَعِيرَةً .
جریر نے عمارہ سے، انہوں نے ابوزرعہ سے روایت کی، کہا: میں اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مدینہ میں ایک گھر میں گئے جو سعید (ابن عاص) رضی اللہ عنہ یا مروان (ابن حکم) کے لیے بنایا جا رہا تھا، وہاں انہوں نے ایک مصور کو گھر میں تصویر بناتے ہوئے دیکھا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اور اسی کے مانند روایت کی اور (جریر نے) (یا ایک جو تو بنائیں) (کے الفاظ) بیان نہیں کیے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 2111
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2112
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال : قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ تَمَاثِيلُ أَوْ تَصَاوِيرُ " .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے جس میں مجسمے (بت) یا تصویریں ہوں۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 2112
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»