کتب حدیث ›
صحيح مسلم › ابواب
› باب: اگر مہمان کو یقین ہو کہ میزبان دوسرے کسی شخص کو ساتھ لے جانے سے ناراض نہ ہو گا تو ساتھ لے جا سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 2038
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ أَوْ لَيْلَةٍ ، فَإِذَا هُوَ بِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ، فَقَالَ : " مَا أَخْرَجَكُمَا مِنْ بُيُوتِكُمَا هَذِهِ السَّاعَةَ ؟ " ، قَالَا : الْجُوعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " وَأَنَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَخْرَجَنِي الَّذِي أَخْرَجَكُمَا قُومُوا " ، فَقَامُوا مَعَهُ فَأَتَى رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ ، فَإِذَا هُوَ لَيْسَ فِي بَيْتِهِ ، فَلَمَّا رَأَتْهُ الْمَرْأَةُ ، قَالَتْ : مَرْحَبًا وَأَهْلًا ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ فُلَانٌ ؟ ، قَالَتْ : ذَهَبَ يَسْتَعْذِبُ لَنَا مِنَ الْمَاءِ إِذْ جَاءَ الْأَنْصَارِيُّ ، فَنَظَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَاحِبَيْهِ ثُمَّ قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ مَا أَحَدٌ الْيَوْمَ أَكْرَمَ أَضْيَافًا مِنِّي " ، قَالَ : فَانْطَلَقَ فَجَاءَهُمْ بِعِذْقٍ فِيهِ بُسْرٌ وَتَمْرٌ وَرُطَبٌ ، فَقَالَ : كُلُوا مِنْ هَذِهِ وَأَخَذَ الْمُدْيَةَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِيَّاكَ وَالْحَلُوبَ " ، فَذَبَحَ لَهُمْ فَأَكَلُوا مِنَ الشَّاةِ ، وَمِنْ ذَلِكَ الْعِذْقِ وَشَرِبُوا ، فَلَمَّا أَنْ شَبِعُوا وَرَوُوا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتُسْأَلُنَّ عَنْ هَذَا النَّعِيمِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَخْرَجَكُمْ مِنْ بُيُوتِكُمُ الْجُوعُ ، ثُمَّ لَمْ تَرْجِعُوا حَتَّى أَصَابَكُمْ هَذَا النَّعِيمُ " .
خلف بن خلیفہ نے یزید بن کیسان سے، انہوں نے ابوحازم سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ رات یا دن کو باہر نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا تو پوچھا کہ تمہیں اس وقت کون سی چیز گھر سے نکال لائی ہے؟ انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! بھوک کے مارے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں بھی اسی وجہ سے نکلا ہوں، چلو۔ پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری کے دروازے پر آئے، وہ اپنے گھر میں نہیں تھا۔ اس کی عورت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو اس نے خوش آمدید کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فلاں شخص (اس کے خاوند کے متعلق فرمایا) کہاں گیا ہے؟ وہ بولی کہ ہمارے لیے میٹھا پانی لینے گیا ہے (اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عذر سے اجنبی عورت سے بات کرنا اور اس کو جواب دینا درست ہے، اسی طرح عورت اس مرد کو گھر بلا سکتی ہے جس کے آنے سے خاوند راضی ہو) اتنے میں وہ انصاری مرد آ گیا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں ساتھیوں کو دیکھا تو کہا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ آج کے دن کسی کے پاس ایسے مہمان نہیں ہیں جیسے میرے پاس ہیں۔ پھر گیا اور کھجور کا ایک خوشہ لے کر آیا جس میں گدر، سوکھی اور تازہ کھجوریں تھیں اور کہنے لگا کہ اس میں سے کھائیے پھر اس نے چھری لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دودھ والی بکری مت کاٹنا۔ اس نے ایک بکری کاٹی اور سب نے اس کا گوشت کھایا اور کھجور بھی کھائی اور پانی پیا۔ جب کھانے پینے سے سیر ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا کہ قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، قیامت کے دن تم سے اس نعمت کے بارے میں سوال ہو گا کہ تم اپنے گھروں سے بھوک کے مارے نکلے اور نہیں لوٹے یہاں تک کہ تمہیں یہ نعمت ملی۔ (اس فضل پر سوال ضرور ہو گا)
حدیث نمبر: 2038
وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو هِشَامٍ يَعْنِي المُغِيرَةَ بْنَ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : بَيْنَا أَبُو بَكْرٍ قَاعِدٌ وَعُمَرُ مَعَهُ إِذْ أَتَاهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا أَقْعَدَكُمَا هَاهُنَا ، قَالَا : أَخْرَجَنَا الْجُوعُ مِنْ بُيُوتِنَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ خَلَفِ بْنِ خَلِيفَةَ .
عبدالواحد بن زیاد نے کہا: ہمیں یزید نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابوحازم نے حدیث سنائی، کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: ایک روز حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ تھے۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں کو کس چیز نے یہاں بٹھا رکھا ہے؟“ دونوں نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! ہمیں بھوک نے اپنے گھروں سے نکالا ہے۔ پھر خلف بن خلیفہ کی حدیث کی طرح بیان کیا۔
حدیث نمبر: 2039
حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، مِنْ رُقْعَةٍ عَارَضَ لِي بِهَا ثُمَّ قَرَأَهُ عَلَيَّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَاهُ حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : لَمَّا حُفِرَ الْخَنْدَقُ رَأَيْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمَصًا ، فَانْكَفَأْتُ إِلَى امْرَأَتِي ، فَقُلْتُ لَهَا : هَلْ عِنْدَكِ شَيْءٌ ؟ فَإِنِّي رَأَيْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمَصًا شَدِيدًا ، فَأَخْرَجَتْ لِي جِرَابًا فِيهِ صَاعٌ مِنْ شَعِيرٍ وَلَنَا بُهَيْمَةٌ دَاجِنٌ ، قَالَ : فَذَبَحْتُهَا وَطَحَنَتْ فَفَرَغَتْ إِلَى فَرَاغِي ، فَقَطَّعْتُهَا فِي بُرْمَتِهَا ثُمَّ وَلَّيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : لَا تَفْضَحْنِي بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ مَعَهُ ، قَالَ : فَجِئْتُهُ فَسَارَرْتُهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا قَدْ ذَبَحْنَا بُهَيْمَةً لَنَا وَطَحَنَتْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ كَانَ عِنْدَنَا ، فَتَعَالَ أَنْتَ فِي نَفَرٍ مَعَكَ ، فَصَاحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ يَا أَهْلَ الْخَنْدَقِ : " إِنَّ جَابِرًا قَدْ صَنَعَ لَكُمْ سُورًا فَجِئْتُ بِكُمْ " ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُنْزِلُنَّ بُرْمَتَكُمْ وَلَا تَخْبِزُنَّ عَجِينَتَكُمْ حَتَّى أَجِيءَ " ، فَجِئْتُ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْدَمُ النَّاسَ حَتَّى جِئْتُ امْرَأَتِي ، فَقَالَتْ : بِكَ وَبِكَ ، فَقُلْتُ : قَدْ فَعَلْتُ الَّذِي قُلْتِ لِي ، فَأَخْرَجْتُ لَهُ عَجِينَتَنَا ، فَبَصَقَ فِيهَا وَبَارَكَ ثُمَّ عَمَدَ إِلَى بُرْمَتِنَا ، فَبَصَقَ فِيهَا وَبَارَكَ ، ثُمَّ قَالَ : " ادْعِي خَابِزَةً فَلْتَخْبِزْ مَعَكِ وَاقْدَحِي مِنْ بُرْمَتِكُمْ وَلَا تُنْزِلُوهَا " وَهُمْ أَلْفٌ فَأُقْسِمُ بِاللَّهِ لَأَكَلُوا حَتَّى تَرَكُوهُ وَانْحَرَفُوا ، وَإِنَّ بُرْمَتَنَا لَتَغِطُّ كَمَا هِيَ وَإِنَّ عَجِينَتَنَا أَوْ كَمَا ، قَالَ الضَّحَّاكُ : لَتُخْبَزُ كَمَا هُوَ .
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں، جب خندق کھودی جا رہی تھی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھوک کا اثر محسوس کیا تو میں اپنی بیوی کی طرف لوٹا اور اس سے پوچھا: کیا تیرے پاس کوئی کھانے کی چیز ہے؟ میں نے دیکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت بھوک لگی ہے، اس نے مجھے ایک چمڑے کا تھیلا پیش کیا، جس میں ایک صاع جو تھے اور ہمارے پاس ایک چھوٹا سا پالتو چھترا تھا، میں نے اسے ذبح کیا اور اس نے جو پیسے اور میرے ساتھ ہی اس سے فارغ ہو گئی، میں نے گوشت چھوٹا چھوٹا کر کے ہانڈی میں ڈالا، پھر واپس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چل دیا، اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھیوں سمیت لا کر مجھے رسوا نہ کرنا، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے سرگوشی کی، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! ہم نے اپنا ایک چھوٹا سا پالتو چھترا ذبح کیا اور بیوی نے ہمارے پاس ایک صاع جو تھے، پیس لیے ہیں تو آپ چند ساتھیوں کے ہمراہ تشریف لے آئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے فرمایا: ”اے خندق والو! جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تمہاری دعوت کی ہے تو جلدی کرو‘‘ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی ہانڈی ہرگز نہ اتارنا اور آٹے کی روٹیاں نہ پکانا، حتیٰ کہ میں آ جاؤں۔‘‘ میں چل پڑا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے آگے چل پڑے، حتیٰ کہ میں بیوی کے پاس پہنچ گیا، (اس کو صورت حال بتائی) اس نے کہا: تیری وجہ سے ایسا ہوا تو ہی رسوا ہو گا، میں نے کہا: میں نے تو تیری بات پر عمل کیا تھا، اس نے آپ کے سامنے گندھا ہوا آٹا پیش کیا، آپﷺ نے اس میں لعاب مبارک ڈالا اور برکت کی دعا فرمائی، پھر آپ نے ہماری ہنڈیا کا رخ کیا، اس میں لعاب دہن ڈالا اور برکت کی دعا فرمائی، پھر فرمایا: ”ایک روٹی پکانے والی بلا لو، وہ تمہارے ساتھ روٹیاں پکائے اور اپنی ہانڈی سے چمچہ سے سالن نکالنا اور اس کو چولہے سے نہ اتارنا۔‘‘ آپ کے ساتھی ایک ہزار تھے، میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں، سب نے کھایا، حتی کہ اس کو باقی چھوڑ کر چلے گئے اور ہماری ہانڈی پہلے کی طرح جوش مار رہی تھی اور ہمارا آٹا اس طرح پکایا جا رہا تھا، جو لفظ ضحاک نے کہا۔
حدیث نمبر: 2040
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : قَالَ أَبُو طَلْحَةَ لِأُمِّ سُلَيْم : قَدْ سَمِعْتُ صَوْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَعِيفًا أَعْرِفُ فِيهِ الْجُوعَ فَهَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَيْءٍ ؟ فَقَالَتْ : نَعَمْ ، فَأَخْرَجَتْ أَقْرَاصًا مِنْ شَعِيرٍ ثُمَّ أَخَذَتْ خِمَارًا لَهَا فَلَفَّتِ الْخُبْزَ بِبَعْضِهِ ثُمَّ دَسَّتْهُ تَحْتَ ثَوْبِي وَرَدَّتْنِي بِبَعْضِهِ ، ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَذَهَبْتُ بِهِ فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ النَّاسُ ، فَقُمْتُ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرْسَلَكَ أَبُو طَلْحَةَ ؟ " ، قَالَ : فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فَقَالَ : " أَلِطَعَامٍ ؟ " ، فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ مَعَهُ : " قُومُوا " ، قَالَ : فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ حَتَّى جِئْتُ أَبَا طَلْحَةَ فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ : قَدْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ وَلَيْسَ عِنْدَنَا مَا نُطْعِمُهُمْ ، فَقَالَتْ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَةَ حَتَّى لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ حَتَّى دَخَلَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلُمِّي مَا عِنْدَكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ " ، فَأَتَتْ بِذَلِكَ الْخُبْزِ ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَفُتَّ وَعَصَرَتْ عَلَيْهِ أُمُّ سُلَيْمٍ عُكَّةً لَهَا ، فَأَدَمَتْهُ ، ثُمَّ قَالَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ، ثُمَّ قَالَ : ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ ، فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا ، ثُمَّ قَالَ : ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ ، فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا ، ثُمَّ قَالَ : ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ حَتَّى أَكَلَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ وَشَبِعُوا وَالْقَوْمُ سَبْعُونَ رَجُلًا أَوْ ثَمَانُونَ .
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کمزور آواز سنی ہے، جس سے میں نے بھوک محسوس کی ہے تو کیا تیرے پاس کچھ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، تو اس نے جو کی کچھ روٹیاں پیش کیں، پھر اپنی اوڑھنی لی، اور اس کے کچھ حصہ میں روٹیاں لپیٹ دیں، پھر اسے میرے کپڑے کے نیچے چھپا دیا اور اوڑھنی کا باقی حصہ مجھ پر ڈال دیا، پھر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیج دیا، میں اس کو لے کر چلا گیا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں بیٹھے پایا اور لوگ بھی آپ کے ساتھ تھے، میں جا کر ان کے پاس ٹھہر گیا، (کہ اب کیسے پیش کروں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تجھے ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بھیجا ہے؟‘‘ میں نے کہا: جی ہاں، آپﷺ نے پوچھا ”کیا کھانے کے لیے؟‘‘ اس نے کہا: جی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: ”اٹھو۔‘‘ آپﷺ چل پڑے اور میں ان کے آگے چل پڑا، حتی کہ ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس پہنچ گیا اور انہیں صورت حال سے آگاہ کیا، ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہنے لگے، اے ام سلیم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو ساتھیوں سمیت آ رہے ہیں اور ہمارے پاس ان کو کھلانے کا انتظام نہیں ہے، ام سلیم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول خوب جانتے ہیں، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ چل پڑے حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جا ملے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ آگے بڑھے، حتی کہ دونوں گھر میں داخل ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ام سلیم! جو کچھ تیرے پاس ہے لاؤ۔‘‘ تو اس نے وہ روٹیاں پیش کیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا حکم دیا، ایسا کیا گیا، حضرت ام سلیم نے ان ٹکڑوں پر کُپہ (چمرے کا گول برتن) نچوڑا اور ان کو سالن والی بنا دیا، پھر ان پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دعا پڑھی جو اللہ کو منظور تھی، پھر فرمایا: ”دس کو اجازت دو۔‘‘ انہوں نے انہیں اجازت دی، انہوں نے کھایا، حتی کہ سیر ہو کر نکل گئے، پھر آپﷺ نے فرمایا: ”دس کو اجازت دو۔‘‘ حتی کہ تمام لوگوں نے کھایا اور سیر ہو گئے، لوگوں کی تعداد ستر (70) یا اَسی (80) تھی۔
حدیث نمبر: 2040
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : بَعَثَنِي أَبُو طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَدْعُوَهُ وَقَدْ جَعَلَ طَعَامًا ، قَالَ : فَأَقْبَلْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ النَّاسِ ، فَنَظَرَ إِلَيَّ فَاسْتَحْيَيْتُ ، فَقُلْتُ : أَجِبْ أَبَا طَلْحَةَ ، فَقَالَ لِلنَّاسِ : " قُومُوا " ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّمَا صَنَعْتُ لَكَ شَيْئًا ، قَالَ : فَمَسَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَعَا فِيهَا بِالْبَرَكَةِ ، ثُمَّ قَالَ : " أَدْخِلْ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِي عَشَرَةً " ، وَقَالَ : " كُلُوا وَأَخْرَجَ لَهُمْ شَيْئًا مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ " فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا فَخَرَجُوا ، فَقَالَ : " أَدْخِلْ عَشَرَةً " ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا فَمَا زَالَ يُدْخِلُ عَشَرَةً وَيُخْرِجُ عَشَرَةً حَتَّى لَمْ يَبْقَ مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَ ، فَأَكَلَ حَتَّى شَبِعَ ثُمَّ هَيَّأَهَا ، فَإِذَا هِيَ مِثْلُهَا حِينَ أَكَلُوا مِنْهَا .
عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں سعد بن سعید نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی، کہا: مجھے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلانے کے لیے آپ کے پاس بھیجا، انہوں نے کھانا تیار کیا تھا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھا تو مجھے شرم آئی، میں نے کہا: ”حضرت ابوطلحہ کی دعوت قبول فرمائیے۔“ اس پر آپ نے لوگوں سے کہا: ”اٹھو۔“ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اللہ کے رسول! میں نے تو آپ کے لیے (کھانے کی) کچھ تھوڑی سی چیز تیار کی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کھانے کو چھوا اور اس میں برکت کی دعا کی، پھر فرمایا: ”میرے ساتھیوں میں سے دس کو اندر لاؤ“ اور (ان سے) فرمایا: ”کھاؤ“ اور آپ نے ان کے لیے اپنی انگلیوں کے درمیان سے کچھ نکالا تھا (برکت شامل کی تھی)، سو انہوں نے کھایا، سیر ہو گئے، اور باہر چلے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دس آدمیوں کو اندر لاؤ۔“ پھر انہوں نے کھایا، سیر ہو گئے اور چلے گئے، وہ دس دس کو اندر لاتے اور دس دس کو باہر بھیجتے رہے، یہاں تک کہ ان میں سے کوئی باقی نہ بچا مگر سب نے کھا لیا اور سیر ہو گئے، پھر اس کو سمیٹا تو وہ اتنا ہی تھا جتنا ان کے کھانے (کے آغاز) کے وقت تھا۔
حدیث نمبر: 2040
وحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَي الْأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : بَعَثَنِي أَبُو طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْر ٍ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فِي آخِرِهِ : " ثُمَّ أَخَذَ مَا بَقِيَ فَجَمَعَهُ ثُمَّ دَعَا فِيهِ بِالْبَرَكَةِ " ، قَالَ : فَعَادَ كَمَا كَانَ ، فَقَالَ دُونَكُمْ هَذَا .
یحییٰ بن سعید اموی نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں میرے والد نے حدیث سنائی کہا: ہمیں سعد بن سعید نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: مجھے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا پھر ابن نمیر کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی، مگر انہوں نے اس کے آخر میں یوں کہا: جو بچا تھا آپ نے اسے لے کر اکٹھا کیا پھر اس میں برکت کی دعا کی کہا: تو وہ (پھر سے) اتنا ہی ہو گیا جتنا تھا پھر فرمایا: ”تمہارے لیے ہے۔“ (آپ نے کھانے کے آغاز میں بھی برکت کی دعا کی اور آخر میں بھی۔)
حدیث نمبر: 2040
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : أَمَرَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ أَنْ تَصْنَعَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا لِنَفْسِهِ خَاصَّةً ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي إِلَيْهِ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ ، وَقَالَ فِيهِ : فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ وَسَمَّى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ ، فَأَذِنَ لَهُمْ فَدَخَلُوا ، فَقَالَ : " كُلُوا وَسَمُّوا اللَّهَ " ، فَأَكَلُوا حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ بِثَمَانِينَ رَجُلًا ، ثُمَّ أَكَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ ، وَأَهْلُ الْبَيْتِ وَتَرَكُوا سُؤْرًا .
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا سے کہا کہ وہ خاص طور پر صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کر دے پھر مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجا گیا اس کے بعد حدیث بیان کی اور اس میں یہ (بھی) کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (کھانے پر) اپنا ہاتھ رکھا اور اس پر بسم اللہ پڑھی پھر فرمایا: ”دس آدمیوں کو (اندر آنے کی) اجازت دو“ انہوں نے دس آدمیوں کو اجازت دی وہ اندر آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بسم اللہ پڑھو اور کھاؤ“ تو ان لوگوں نے کھایا حتیٰ کہ اسی آدمیوں کے ساتھ ایسا ہی کیا (دس دس کو اندر بلایا بسم اللہ پڑھ کر کھانے کو کہا۔) اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور گھر والوں نے کھایا اور (پھر بھی) انہوں نے کھانا بچا دیا۔
حدیث نمبر: 2040
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ فِي طَعَامِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ فِيهِ : فَقَامَ أَبُو طَلْحَةَ عَلَى الْبَابِ حَتَّى أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّمَا كَانَ شَيْءٌ يَسِيرٌ ، قَالَ : " هَلُمَّهُ فَإِنَّ اللَّهَ سَيَجْعَلُ فِيهِ الْبَرَكَةَ " .
یحییٰ (مازنی) نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے کھانے کا یہی قصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کیا اور اس میں کہا: حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ دروازے پر کھڑے ہو گئے۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ کے رسول! صرف تھوڑا سا کھانا تھا آپ نے فرمایا: ”لے آؤ اللہ تعالیٰ عنقریب اس میں برکت ڈال دے گا۔“
حدیث نمبر: 2040
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ الْبَجَلِيُّ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ ، وَقَالَ فِيهِ : ثُمَّ أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَكَلَ أَهْلُ الْبَيْتِ وَأَفْضَلُوا مَا أَبْلَغُوا جِيرَانَهُمْ .
عبداللہ بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی اور اس میں کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تناول فرمایا اور گھر والوں نے کھایا اور اتنا بچا دیا جو انہوں نے پڑوسیوں کو (بھی) بھجوا دیا۔
حدیث نمبر: 2040
وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ جَرِيرَ بْنَ زَيْدٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : رَأَى أَبُو طَلْحَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضْطَجِعًا فِي الْمَسْجِدِ يَتَقَلَّبُ ظَهْرًا لِبَطْنٍ ، فَأَتَى أُمَّ سُلَيْمٍ ، فَقَالَ : إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضْطَجِعًا فِي الْمَسْجِدِ يَتَقَلَّبُ ظَهْرًا لِبَطْنٍ وَأَظُنُّهُ جَائِعًا ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ ، وَقَالَ فِيهِ : ثُمَّ أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو طَلْحَةَ وَأُمُّ سُلَيْمٍ وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ وَفَضَلَتْ فَضْلَةٌ فَأَهْدَيْنَاهُ لِجِيرَانِنَا .
عمرو بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا: حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں لیٹے ہوئے دیکھا آپ پیٹھ اور پیٹ کے بل کروٹیں لے رہے تھے۔ پھر وہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں لیٹے ہوئے دیکھا ہے آپ پیٹھ سے پیٹ کے بل کروٹیں لے رہے تھے اور میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھوکے ہیں اور (ساری) حدیث بیان کی اور اس میں یہ کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابوطلحہ، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کھانا کھایا اور کچھ کھانا بچ گیا جو ہم نے اپنے پڑوسیوں کو ہدیہ کر دیا۔
حدیث نمبر: 2040
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي التُّجِيبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ ، أَنَّ يَعْقُوبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيَّ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَوَجَدْتُهُ جَالِسًا مَعَ أَصْحَابِهِ يُحَدِّثُهُمْ وَقَدْ عَصَّبَ بَطْنَهُ بِعِصَابَةٍ ، قَالَ أُسَامَةُ : وَأَنَا أَشُكُّ عَلَى حَجَرٍ ، فَقُلْتُ : لِبَعْضِ أَصْحَابِهِ لِمَ عَصَّبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَطْنَهُ ؟ ، فَقَالُوا : مِنَ الْجُوعِ ، فَذَهَبْتُ إِلَى أَبِي طَلْحَةَ وَهُوَ زَوْجُ أُمِّ سُلَيْمٍ بِنْتِ مِلْحَانَ ، فَقُلْتُ يَا أَبَتَاهُ : قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ عَصَّبَ بَطْنَهُ بِعِصَابَةٍ ، فَسَأَلْتُ بَعْضَ أَصْحَابِهِ ، فَقَالُوا : مِنَ الْجُوعِ ، فَدَخَلَ أَبُو طَلْحَةَ عَلَى أُمِّي ، فَقَالَ : هَلْ مِنْ شَيْءٍ ؟ ، فَقَالَتْ : نَعَمْ عِنْدِي كِسَرٌ مِنْ خُبْزٍ وَتَمَرَاتٌ ، فَإِنْ جَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحْدَهُ أَشْبَعْنَاهُ ، وَإِنْ جَاءَ آخَرُ مَعَهُ ، قَلَّ عَنْهُمْ ثُمَّ ذَكَرَ سَائِرَ الْحَدِيثِ بِقِصَّتِهِ .
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے آپﷺ کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے ان سے باتیں کرتے ہوئے پایا اور آپ نے اپنے پیٹ پر پٹی باندھی ہوئی تھی، حدیث کے راوی اسامہ کہتے ہیں: مجھے شک ہے کہ پٹی پتھر پر باندھی ہوئی تھی تو میں نے آپ کے بعض ساتھیوں سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پیٹ کیوں باندھا ہوا ہے؟ انہوں نے بتایا: بھوک کی وجہ سے تو میں ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، جو ام سلیم بنت ملحان (میری والدہ) کے خاوند تھے، کے پاس حاضر ہوا اور عرض کی: اے ابا جان! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے، آپ نے ایک پٹی سے اپنا پیٹ باندھا ہوا ہے تو میں نے آپ کے بعض ساتھیوں سے پوچھا: انہوں نے بتایا، بھوک کی بنا پر باندھا ہے تو ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میری والدہ کے پاس گئے اور پوچھا: کیا کوئی چیز ہے؟ اس نے کہا: ہاں، میرے پاس کچھ روٹی کے ٹکڑے اور کھجوریں ہیں، اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں اکیلے تشریف لائے تو ہم آپ کو سیر کر سکیں گے اور آپ کے ساتھ کوئی اور آ گیا تو کھانا ان کے لیے کم پڑ جائے گا، پھر روایت واقعہ سمیت سنائی۔
حدیث نمبر: 2040
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِر ِ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَعَامِ أَبِي طَلْحَةَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ .
نضر بن انس نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے کھانے کے بارے میں ان سب کی حدیث کے مطابق روایت کیا۔