کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: دودھ یا پانی یا کوئی چیز شروع کرنے والے کے داہنی طرف سے تقسیم کرنا۔
حدیث نمبر: 2029
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : " أَن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَبَنٍ قَدْ شِيبَ بِمَاءٍ ، وَعَنْ يَمِينِهِ أَعْرَابِيٌّ ، وَعَنْ يَسَارِهِ أَبُو بَكْرٍ ، فَشَرِبَ ثُمَّ أَعْطَى الْأَعْرَابِيَّ ، وَقَالَ : الْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ " .
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا دودھ پیش کیا گیا جس میں پانی کی آمیزش تھی اور آپﷺ کے دائیں طرف ایک اعرابی تھا، اور بائیں طرف ابوبکر تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا پھر اعرابی کو دیا اور فرمایا: ”دایاں، پھر دایاں یعنی دائیں کو پہلے دیا جائے گا۔‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الأشربة / حدیث: 2029
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2029
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَأَنَا ابْنُ عَشْرٍ ، وَمَاتَ وَأَنَا ابْنُ عِشْرِينَ وَكُنَّ أُمَّهَاتِي يَحْثُثْنَنِي عَلَى خِدْمَتِهِ ، فَدَخَلَ عَلَيْنَا دَارَنَا ، فَحَلَبْنَا لَهُ مِنْ شَاةٍ دَاجِنٍ وَشِيبَ لَهُ مِنْ بِئْرٍ فِي الدَّارِ ، " فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ وَأَبُو بَكْرٍ عَنْ شِمَالِهِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَعْطِ أَبَا بَكْر ٍ ، فَأَعْطَاهُ أَعْرَابِيًّا عَنْ يَمِينِهِ ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ " .
سفیان بن عینیہ رحمہ اللہ نے زہری سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو میں دس برس کا تھا۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو میں بیس سال کا تھا۔ میری مائیں (والدہ، خالائیں، پھوپھیاں) مسلسل مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرنے کا شوق دلایا کرتی تھیں۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پالتو بکری کا دودھ دوہا اور اس میں گھر کے کنوئیں کا پانی ملایا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرمایا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی، اور اس وقت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب تھے۔ اللہ کے رسول! ابوبکر کو عنایت فرما دیجئے، لیکن آپ نے وہ (دودھ کا برتن) اپنی دائیں جانب (بیٹھے ہوئے) بدو کو تھما دیا اور فرمایا: ”دایاں، پھر (اس کے بعد والا) دایاں۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الأشربة / حدیث: 2029
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2029
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرِ بْنِ حَزْمٍ أَبِي طُوَالَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ ، قَالَ : أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَارِنَا فَاسْتَسْقَى فَحَلَبْنَا لَهُ شَاةً ، ثُمَّ شُبْتُهُ مِنْ مَاءِ بِئْرِي هَذِهِ ، قَالَ : فَأَعْطَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ عَنْ يَسَارِهِ وَعُمَرُ وِجَاهَهُ وَأَعْرَابِيٌّ عَنْ يَمِينِهِ ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ شُرْبِهِ ، قَالَ عُمَرُ : هَذَا أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، يُرِيهِ إِيَّاهُ ، فَأَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَعْرَابِيَّ وَتَرَكَ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْأَيْمَنُونَ الْأَيْمَنُونَ الْأَيْمَنُونَ " ، قَالَ أَنَسٌ : فَهِيَ سُنَّةٌ فَهِيَ سُنَّةٌ فَهِيَ سُنَّةٌ .
ابوطوالہ عبداللہ بن عبدالرحمن انصاری سے روایت ہے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر میں آئے اور پانی مانگا۔ ہم نے بکری کا دودھ دوہا، پھر اس میں اپنے اس کنوئیں سے پانی ملایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف بیٹھے تھے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سامنے اور دائیں طرف ایک اعرابی تھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیر ہو کر پی لیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یا رسول اللہ! یہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (باقی) اعرابی کو دیا اور سیدنا ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہ کو نہیں دیا اور فرمایا: ”دائیں طرف والے مقدم ہیں دائیں طرف والے، پھر دائیں طرف والے۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ سنت ہے، یہ سنت ہے، یہ سنت ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الأشربة / حدیث: 2029
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2030
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ مِنْهُ وَعَنْ يَمِينِهِ غُلَامٌ وَعَنْ يَسَارِهِ أَشْيَاخٌ ، فَقَالَ لِلْغُلَامِ : " أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أُعْطِيَ هَؤُلَاءِ ؟ " ، فَقَالَ الْغُلَامُ : لَا وَاللَّهِ لَا أُوثِرُ بِنَصِيبِي مِنْكَ أَحَدًا ، قَالَ فَتَلَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِهِ .
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشروب پیش کیا گیا، آپ نے اس میں سے پی لیا، آپ کے دائیں جانب ایک نوعمر لڑکا تھا اور بائیں طرف بڑی عمر کے افراد تھے، آپﷺ نے نوعمر لڑکے سے پوچھا: ”کیا تم مجھے اجازت دیتے ہو کہ میں ان کو دے دوں؟‘‘ لڑکے نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! آپﷺ سے ملنے والے اپنے حصہ پر میں کسی کو ترجیح نہیں دوں گا تو آپﷺ نے اسے سختی سے اس کے ہاتھ میں دے دیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الأشربة / حدیث: 2030
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2030
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ . ح وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ كِلَاهُمَا ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ ، وَلَمْ يَقُولَا فَتَلَّهُ وَلَكِنْ فِي رِوَايَةِ يَعْقُوبَ ، قَالَ : فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ .
عبدالعزیز بن ابی حازم اور یعقوب بن عبدالرحمن القاری، دونوں نے ابوحازم سے، انہوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی، ان دونوں نے یہ نہیں کہا: آپ نے وہ (پیالہ اس کے ہاتھ پر) رکھ دیا، البتہ یعقوب کی روایت میں اس طرح ہے کہ آپ نے وہ (پیالہ) اسے عطا فرما دیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الأشربة / حدیث: 2030
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»