حدیث نمبر: 2010
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعَبْدُ بْنُ حميد كلهم ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحِ لَبَنٍ مِنَ النَّقِيعِ لَيْسَ مُخَمَّرًا ، فَقَالَ : " أَلَّا خَمَّرْتَهُ وَلَوْ تَعْرُضُ عَلَيْهِ عُودًا " ، قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ : إِنَّمَا أُمِرَ بِالْأَسْقِيَةِ ، أَنْ تُوكَأَ لَيْلًا وَبِالْأَبْوَابِ أَنْ تُغْلَقَ لَيْلًا .
حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، میں نقیع نامی جگہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ لایا، جسے ڈھانپا نہیں گیا تو آپﷺ نے فرمایا: ”تو نے اسے ڈھانپا کیوں نہیں ہے؟ خواہ اس پر لکڑی ہی رکھ دیتے۔‘‘ ابو حمید رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں، رات ہی کو مشکیزوں کے منہ باندھنے کا حکم دیا گیا اور دروازوں کو رات کو بند کرنے کا حکم دیا گیا۔
حدیث نمبر: 2010
وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَزَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحِ لَبَنٍ بِمِثْلِهِ ، قَالَ : وَلَمْ يَذْكُرْ زَكَرِيَّاءُ قَوْلَ أَبِي حُمَيْدٍ بِاللَّيْلِ .
روح بن عبادہ نے کہا: ہمیں ابن جریج اور زکریا بن اسحاق نے حدیث بیان کی، دونوں نے کہا: ہمیں ابوزبیر نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: مجھے حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ کا ایک پیالہ لائے، اسی (سابقہ حدیث) کے مانند۔ زکریا نے (اپنی روایت کردہ حدیث میں) حضرت ابوحمید رضی اللہ عنہ کا قول: ”رات کے وقت“ بیان نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 2011
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاسْتَسْقَى ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَسْقِيكَ نَبِيذًا ؟ ، فَقَالَ : بَلَى ، قَالَ : فَخَرَجَ الرَّجُلُ يَسْعَى فَجَاءَ بِقَدَحٍ فِيهِ نَبِيذٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَّا خَمَّرْتَهُ وَلَوْ تَعْرُضُ عَلَيْهِ عُودًا " ، قَالَ : فَشَرِبَ .
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو آپﷺ نے پانی مانگا، ایک آدمی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا ہم آپ کو نبیذ نہ پلائیں؟ آپﷺ نے فرمایا: ”کیوں نہیں۔‘‘ وہ آدمی دوڑتا ہوا گیا اور ایک نبیذ کا پیالہ لے آیا تو آپﷺ نے فرمایا: ”تو نے اسے ڈھانپا کیوں نہیں؟ خواہ اس پر لکڑی ہی رکھ دیتے۔‘‘ پھر آپﷺ نے پی لیا۔
حدیث نمبر: 2011
وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو حُمَيْدٍ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ مِنَ النَّقِيعِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا خَمَّرْتَهُ وَلَوْ تَعْرُضُ عَلَيْهِ عُودًا " .
حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ابوحمید نامی آدمی نقیع جگہ سے دودھ کا پیالہ لایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”تو نے اسے ڈھانپا کیوں نہیں؟ خواہ اس پر چوڑائی میں لکڑی رکھ دیتے۔‘‘