کتب حدیث ›
صحيح مسلم › ابواب
› باب: تیراندازی کی فضیلت کے بیان میں اور اس شخص کی مذمت کے بیان میں جس نے سیکھ کر بھلا دیا۔
حدیث نمبر: 1917
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ ثُمَامَةَ بْنِ شُفَيٍّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِر ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، يَقُولُ : " وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ سورة الأنفال آية 60 ، أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ ، أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ ، أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ " .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا، ”جہاں تک تمہارے بس میں ہے، ان کے لیے قوت (طاقت، اسلحہ) تیار کرو، خبردار، قوت، تیر اندازی ہے، خبردار، قوت، تیر اندازی ہے خبردار، قوت، تیر اندازی ہے۔‘‘
حدیث نمبر: 1918
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " سَتُفْتَحُ عَلَيْكُمْ أَرَضُونَ وَيَكْفِيكُمُ اللَّهُ ، فَلَا يَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَلْهُوَ بِأَسْهُمِهِ " .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا، ”جلدی تمہارے لیے مختلف علاقے ختم کیے جائیں گے اور اللہ تمہارے لیے کافی ہو گا، سو تم میں سے کوئی اپنے تیروں سے مشغول رہنے سے بس نہ ہو۔‘‘
حدیث نمبر: 1918
وحَدَّثَنَاه دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ .
یہی روایت امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 1919
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ يَعْقُوبَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، أَنَّ فُقَيْمًا اللَّخْمِيَّ ، قَالَ لِعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ : تَخْتَلِفُ بَيْنَ هَذَيْنِ الْغَرَضَيْنِ وَأَنْتَ كَبِيرٌ يَشُقُّ عَلَيْكَ ، قَالَ عُقْبَةُ : لَوْلَا كَلَامٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ أُعَانِيهِ ، قَالَ الْحَارِثُ : فَقُلْتُ لِابْنِ شَمَاسَةَ : وَمَا ذَاكَ ؟ ، قَالَ : إِنَّهُ قَالَ : " مَنْ عَلِمَ الرَّمْيَ ثُمَّ تَرَكَهُ فَلَيْسَ مِنَّا أَوْ قَدْ عَصَى " .
فقیم لخمی نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ سے کہا، آپ ان دو نشانوں کے درمیان آتے جاتے ہیں اور آپ بوڑھے ہیں، آپ کے لیے یہ مشکل (مشقت کا) کام ہے، حضرت عقبہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات نہ سنی ہوتی تو میں یہ مشقت نہ جھیلتا، حارث کہتے ہیں، میں نے ابن شماسہ سے پوچھا، وہ کیا بات ہے؟ اس نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے تیر اندازہ سیکھنے کے بعد اسے چھوڑ دیا، وہ ہم میں سے نہیں ہے، یا فرمایا: "اس نے نافرمانی کی۔‘‘