حدیث نمبر: 1877
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَحُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا مِنْ نَفْسٍ تَمُوتُ لَهَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ يَسُرُّهَا أَنَّهَا تَرْجِعُ إِلَى الدُّنْيَا ، وَلَا أَنَّ لَهَا الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا إِلَّا الشَّهِيدُ ، فَإِنَّهُ يَتَمَنَّى أَنْ يَرْجِعَ ، فَيُقْتَلَ فِي الدُّنْيَا لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ " .
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی انسان نہیں ہے، جو فوت ہوا اور اس کے ہاں اچھا مقام ہو کہ اسے دنیا میں واپس آنا پسند ہو، اگرچہ اسے دنیا و مافیھا
حدیث نمبر: 1877
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا مِنْ أَحَدٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا ، وَأَنَّ لَهُ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ غَيْرُ الشَّهِيدِ ، فَإِنَّهُ يَتَمَنَّى أَنْ يَرْجِعَ ، فَيُقْتَلَ عَشْرَ مَرَّاتٍ لِمَا يَرَى مِنَ الْكَرَامَةِ " .
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، آپ نے فرمایا: ”جنت میں داخل ہونے والا کوئی بھی شخص ایسا نہیں جو یہ پسند کرتا ہو کہ وہ دنیا میں واپس جائے، یا زمین پر موجود کوئی چیز اس کی ہو جائے، سوائے شہید کے، وہ (اپنی) جو عزت افزائی دیکھتا ہے اس کی بنا پر یہ تمنا کرتا ہے کہ وہ دس بار واپس جائے اور قتل کیا جائے۔“
حدیث نمبر: 1878
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا يَعْدِلُ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ؟ ، قَالَ : لَا تَسْتَطِيعُونَهُ " ، قَالَ : فَأَعَادُوا عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا كُلُّ ذَلِكَ ، يَقُولُ : " لَا تَسْتَطِيعُونَهُ " ، وَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ : " مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ الْقَانِتِ بِآيَاتِ اللَّهِ ، لَا يَفْتُرُ مِنْ صِيَامٍ وَلَا صَلَاةٍ حَتَّى يَرْجِعَ الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى " ،
خالد بن عبداللہ واسطی نے سہیل بن ابی صالح سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کے برابر کون سا عمل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کی استطاعت نہیں رکھتے۔“ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: صحابہ نے دو یا تین بار سوال دہرایا، آپ نے ہر بار فرمایا: ”تم اس کی استطاعت نہیں رکھتے۔“ تیسری بار فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جو روزہ دار ہو، اللہ کے سامنے اس کی آیات کے ساتھ زاری کر رہا ہو، وہ اس وقت تک نہ روزے میں وقفہ آنے دے، نہ نماز میں یہاں تک کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا واپس آ جائے۔“
حدیث نمبر: 1878
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ كُلُّهُمْ ، عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
امام صاحب اپنے تین اساتذہ کی سندوں سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 1879
حَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَجُلٌ : مَا أُبَالِي أَنْ لَا أَعْمَلَ عَمَلًا بَعْدَ الْإِسْلَامِ إِلَّا أَنْ أُسْقِيَ الْحَاجَّ ، وَقَالَ آخَرُ : مَا أُبَالِي أَنْ لَا أَعْمَلَ عَمَلًا بَعْدَ الْإِسْلَامِ إِلَّا أَنْ أَعْمُرَ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ ، وَقَالَ آخَرُ : الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَفْضَلُ مِمَّا قُلْتُمْ ، فَزَجَرَهُمْ عُمَرُ ، وَقَالَ : " لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ عِنْدَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ ، وَلَكِنْ إِذَا صَلَّيْتُ الْجُمُعَةَ دَخَلْتُ فَاسْتَفْتَيْتُهُ فِيمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ " ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ سورة التوبة آية 19 الْآيَةَ إِلَى آخِرِهَا ،
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کے پاس موجود تھا کہ ایک آدمی نے کہا، مجھے اسلام لانے کے بعد حاجیوں کو پانی پلانے کے سوا کوئی عمل نہ کروں تو کوئی پرواہ نہیں ہے، دوسرے شخص نے کہا، اگر میں اسلام لانے کے بعد مسجد حرام کی آبادی کے سوا کوئی عمل نہ کروں تو کوئی پرواہ نہیں ہے، تیسرے نے کہا، جو کچھ تم نے کہا، جہاد اس سے افضل ہے، تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ان کو ڈانٹا اور فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کے پاس اپنی آوازوں کو بلند نہ کرو اور یہ جمعہ کا دن تھا، لیکن جب میں جمعہ پڑھ لوں گا، آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر جس میں تم اختلاف کر رہے ہو، اس کے بارے میں دریافت کروں گا، تو آپﷺ نے مجھے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان سنایا ”کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد حرام کو آباد کرنا، اس شخص کے عمل کے برابر قرار دیا ہے، جو اللہ اور آخرت پر ایمان لایا اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا‘‘۔۔۔
حدیث نمبر: 1879
وحَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، أَخْبَرَنِي زَيْدٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي تَوْبَةَ .
یحییٰ بن حسان نے کہا: ہمیں معاویہ نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے زید نے خبر دی کہ انہوں نے ابوسلام سے سنا، انہوں نے کہا: مجھے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی، کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کے پاس بیٹھا تھا، جس طرح ابوتوبہ کی حدیث ہے۔