کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: جو شخص سرکاری کام پر مقرر ہو تحفہ نہ لے۔
حدیث نمبر: 1832
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ ، قَالُوا ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ : " اسْتَعْمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنَ الْأَسْدِ ، يُقَالُ لَهُ ابْنُ اللُّتْبِيَّةِ ، قَالَ عَمْرٌو ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ : عَلَى الصَّدَقَةِ ، فَلَمَّا قَدِمَ ، قَالَ : هَذَا لَكُمْ وَهَذَا لِي أُهْدِيَ لِي ، قَالَ : فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، وَقَالَ : مَا بَالُ عَامِلٍ أَبْعَثُهُ ، فَيَقُولُ هَذَا لَكُمْ وَهَذَا أُهْدِيَ لِي ، أَفَلَا قَعَدَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ أَوْ فِي بَيْتِ أُمِّهِ حَتَّى يَنْظُرَ أَيُهْدَى إِلَيْهِ أَمْ لَا ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا يَنَالُ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْهَا شَيْئًا ، إِلَّا جَاءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُهُ عَلَى عُنُقِهِ بَعِيرٌ لَهُ رُغَاءٌ أَوْ بَقَرَةٌ لَهَا خُوَارٌ أَوْ شَاةٌ تَيْعِرُ ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْنَا عُفْرَتَيْ إِبْطَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ ؟ مَرَّتَيْنِ " ،
حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسد قبیلہ کے ایک ابن لتبیہ نامی انسان کو صدقہ کی وصولی کے لیے عامل مقرر فرمایا، تو جب وہ (صدقہ وصول کر کے) واپس آیا، کہنے لگا، یہ آپ کا مال ہے اور یہ میرا مال ہے جو مجھے تحفہ ملا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان فرمائی اور فرمایا: ”جس کارندے کو میں بھیجتا ہوں، اس کو کیا ہوا ہے کہ وہ کہتا ہے یہ تمہارا حصہ ہے اور یہ مجھے تحفہ میں دیا گیا ہے وہ اپنے باپ یا اپنی ماں کے گھر میں کیوں بیٹھا نہیں رہا، تاکہ دیکھتا کیا اسے تحفہ بھیجا جاتا ہے یا نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے، تم میں سے کوئی صدقہ کے مال سے کچھ نہیں لے گا، مگر قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اسے اپنی گردن پر اٹھائے ہوئے ہو گا، اگر اونٹ ہے تو وہ بلبلا رہا ہو گا اور اگر گائے ہے تو وہ ڈکار رہی ہو گی، بکری ہوئی تو ممیا رہی ہو گی۔‘‘ پھر آپﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھائے، حتیٰ کہ ہم نے آپﷺ کی بغلوں کا مٹیالہ رنگ دیکھا، پھر آپﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا۔‘‘ دو دفعہ فرمایا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإمارة / حدیث: 1832
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1832
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ : اسْتَعْمَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ اللُّتْبِيَّةِ رَجُلًا مِنَ الْأَزْدِ عَلَى الصَّدَقَةِ ، فَجَاءَ بِالْمَالِ ، فَدَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : هَذَا مَالُكُمْ وَهَذِهِ هَدِيَّةٌ أُهْدِيَتْ لِي ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفَلَا قَعَدْتَ فِي بَيْتِ أَبِيكَ وَأُمِّكَ فَتَنْظُرَ أَيُهْدَى إِلَيْكَ أَمْ لَا " ، ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ سُفْيَانَ .
معمر نے زہری سے، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ اَزد کے ابن لتبیہ نامی ایک شخص کو زکاۃ (کی وصولی) پر عامل بنایا، وہ کچھ مال لے کر آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا اور کہا: یہ آپ لوگوں کا مال ہے اور یہ ہدیہ ہے جو مجھے دیا گیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تم اپنے باپ یا اپنی ماں کے گھر میں کیوں نہیں بیٹھے، پھر دیکھتے کہ تمہیں ہدیہ دیا جاتا ہے یا نہیں؟“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، پھر سفیان (بن عیینہ) کی حدیث کی طرح بیان کیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإمارة / حدیث: 1832
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1832
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ : " اسْتَعْمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنَ الْأَزْدِ عَلَى صَدَقَاتِ بَنِي سُلَيْمٍ يُدْعَى ابْنَ الْأُتْبِيَّةِ ، فَلَمَّا جَاءَ حَاسَبَهُ ، قَالَ : هَذَا مَالُكُمْ وَهَذَا هَدِيَّةٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَهَلَّا جَلَسْتَ فِي بَيْتِ أَبِيكَ وَأُمِّكَ حَتَّى تَأْتِيَكَ هَدِيَّتُكَ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا ، ثُمَّ خَطَبَنَا فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أَسْتَعْمِلُ الرَّجُلَ مِنْكُمْ عَلَى الْعَمَلِ مِمَّا وَلَّانِي اللَّهُ ، فَيَأْتِي ، فَيَقُولُ : هَذَا مَالُكُمْ وَهَذَا هَدِيَّةٌ أُهْدِيَتْ لِي ، أَفَلَا جَلَسَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ حَتَّى تَأْتِيَهُ هَدِيَّتُهُ إِنْ كَانَ صَادِقًا ، وَاللَّهِ لَا يَأْخُذُ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْهَا شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهِ إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ تَعَالَى يَحْمِلُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَلَأَعْرِفَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ لَقِيَ اللَّهَ يَحْمِلُ بَعِيرًا لَهُ رُغَاءٌ أَوْ بَقَرَةً لَهَا خُوَارٌ أَوْ شَاةً تَيْعَرُ ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رُئِيَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ بَصُرَ عَيْنِي وَسَمِعَ أُذُنِي " ،
ہشام نے اپنے والد سے، انہوں نے ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو اسد کے ایک شخص کو بنو سلیم کے صدقات وصول کرنے کے لیے عامل بنایا، اسے ابن لُتبیہ کہا جاتا تھا۔ جب وہ مال وصول کر کے آیا تو (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے) اس کے ساتھ حساب کیا۔ وہ کہنے لگا: یہ آپ لوگوں کا مال ہے اور یہ ہدیہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم سچے ہو تو اپنے باپ یا اپنی ماں کے گھر میں جا کر کیوں نہ بیٹھ گئے تاکہ تمہارا ہدیہ تمہارے پاس آ جاتا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی، پھر فرمایا: ”اما بعد! میں تم میں سے کسی شخص کو کسی ایسے کام پر عامل بناتا ہوں جس کی تولیت (انتظام) اللہ تعالیٰ نے میرے سپرد کی ہے اور وہ شخص آتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ تم لوگوں کا مال ہے اور یہ ہدیہ ہے جو مجھے ملا ہے۔ وہ شخص اگر سچا ہے تو اپنے باپ یا اپنی ماں کے گھر میں کیوں نہ بیٹھ گیا تاکہ اس کا ہدیہ اس کے پاس آتا، اللہ کی قسم! تم میں سے جو شخص بھی اس مال میں سے کوئی چیز اپنے حق کے بغیر لے گا، وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے اس حال میں پیش ہو گا کہ وہ چیز اس نے اپنی گردن پر اٹھا رکھی ہو گی، میں تم میں سے کسی بھی شخص کو ضرور پہچان لوں گا جو اللہ تعالیٰ کے سامنے اس حال میں پیش ہو گا کہ اس نے اونٹ اٹھایا ہو گا جو بلبلا رہا ہو گا، یا گائے اٹھا رکھی ہو گی جو ڈکرا رہی ہو گی، یا بکری اٹھائی ہو گی جو ممیا رہی ہو گی۔“ پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اتنا اوپر اٹھایا کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی، (اس وقت) آپ فرما رہے تھے: ”اے اللہ! کیا میں نے (تیرا پیگام) پہنچا دیا؟“ (ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ سب) میری آنکھوں نے دیکھا اور میرے کانوں نے سنا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإمارة / حدیث: 1832
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1832
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وأبو معاوية . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كُلُّهُمْ ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَفِي حَدِيثِ عَبْدَةَ ، وَابْنِ نُمَيْرٍ ، فَلَمَّا جَاءَ حَاسَبَهُ كَمَا ، قَالَ أَبُو أُسَامَةَ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ تَعْلَمُنَّ وَاللَّهِ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَأْخُذُ أَحَدُكُمْ مِنْهَا شَيْئًا ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ ، قَالَ : بَصُرَ عَيْنِي وَسَمِعَ أُذُنَايَ ، وَسَلُوا زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ ، فَإِنَّهُ كَانَ حَاضِرًا مَعِي ،
عبدہ، ابن نمیر اور ابومعاویہ، اسی طرح عبدالرحیم بن سلیمان اور سفیان سب نے اسی سند کے ساتھ ہشام سے روایت کی۔ عبدہ اور ابن نمیر کی حدیث میں ہے: جب وہ آیا تو (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے) اس کے ساتھ حساب کیا، جس طرح ابواسامہ نے کہا اور ابن نمیر کی حدیث میں یہ (بھی) ہے: ”تم لوگوں کو ضرور پتہ چل جائے گا، اللہ کی قسم! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم میں سے کوئی بھی شخص جو اس (مال) میں سے کوئی چیز لے گا۔“ سفیان کی حدیث میں یہ اضافہ ہے: میری آنکھ نے دیکھا اور میرے دونوں کانوں نے سنا۔ (حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کرتے ہوئے) کہا: تم لوگ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے پوچھ لو، وہ بھی میرے ساتھ موجود تھے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإمارة / حدیث: 1832
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1832
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ذَكْوَانَ وَهُوَ أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ رَجُلًا عَلَى الصَّدَقَةِ ، فَجَاءَ بِسَوَادٍ كَثِيرٍ ، فَجَعَلَ يَقُولُ هَذَا لَكُمْ وَهَذَا أُهْدِيَ إِلَيَّ فَذَكَرَ نَحْوَهُ ، قَالَ عُرْوَةُ : فَقُلْتُ لِأَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ : أَسَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مِنْ فِيهِ إِلَى أُذُنِي .
عروہ بن زبیر ابو حمید رضی اللہ تعالی عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو صدقہ کی وصولی کے لیے مقرر کیا، وہ بہت کچھ مال مویشی لے کر آیا اور کہنے لگا، یہ تمہارا ہے اور یہ مجھے تحفہ دیا گیا ہے، آگے مذکورہ بالا حدیث ہے، عروہ کہتے ہیں، میں نے ابو حمید ساعدی رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا، کیا آپ نے اسے براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، انہوں نے کہا، آپ کے منہ سے میرے کانوں سے پہنچی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإمارة / حدیث: 1832
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1833
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَمِيرَةَ الْكِنْدِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ مِنْكُمْ عَلَى عَمَلٍ فَكَتَمَنَا مِخْيَطًا فَمَا فَوْقَهُ كَانَ غُلُولًا يَأْتِي بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، قَالَ : فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ أَسْوَدُ مِنْ الْأَنْصَارِ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اقْبَلْ عَنِّي عَمَلَكَ ، قَالَ : وَمَا لَكَ ، قَالَ : سَمِعْتُكَ تَقُولُ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : وَأَنَا أَقُولُهُ الْآنَ مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ مِنْكُمْ عَلَى عَمَلٍ فَلْيَجِئْ بِقَلِيلِهِ وَكَثِيرِهِ ، فَمَا أُوتِيَ مِنْهُ أَخَذَ وَمَا نُهِيَ عَنْهُ انْتَهَى " ،
وکیع بن جراح نے کہا: ہمیں اسماعیل بن ابی خالد نے قیس بن ابی حازم سے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت عدی بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”ہم تم میں سے جس شخص کو کسی کام پر عامل مقرر کریں اور وہ ایک سوئی یا اس سے بڑی کوئی چیز ہم سے چھپا لے تو یہ خیانت ہو گی، وہ شخص قیامت کے دن اسے ساتھ لے کر آئے گا۔“ (حضرت عدی رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں دیکھ رہا تھا، (یہ بات سن کر) انصار میں سے کالے رنگ کا ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! آپ مجھ سے اپنا کام واپس لے لیجئے! آپ نے فرمایا: ”تمہیں کیا ہوا؟“ اس نے کہا: میں نے آپ کو اس طرح فرماتے ہوئے سنا ہے (میں اس وعید سے ڈرتا ہوں۔) آپ نے فرمایا: میں اب بھی یہی کہتا ہوں کہ ہم تم میں سے جس شخص کو کسی کام کا عامل بنائیں وہ ہر چھوٹی اور بڑی چیز کو لے کر آئے، اس کے بعد اس میں سے جو چیز اس کو دی جائے وہ لے لے اور جو چیز اس سے روک لی جائے اس سے دور رہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإمارة / حدیث: 1833
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1833
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ ،
عبداللہ بن نمیر، محمد بن بشر اور ابواسامہ سب نے کہا: ہمیں اسماعیل نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مطابق حدیث بیان کی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإمارة / حدیث: 1833
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1833
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، أَخْبَرَنَا قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ عَمِيرَةَ الْكِنْدِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ .
فضل بن موسیٰ نے کہا: ہمیں اسماعیل بن ابی خالد نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں قیس بن ابی حازم نے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عدی بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا، ان سب کی حدیث کے مانند۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإمارة / حدیث: 1833
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»