کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: حاکم عادل کی فضیلت اور حاکم ظالم کی برائی۔
حدیث نمبر: 1827
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو بَكْرٍ : يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَفِي حَدِيثِ زُهَيْرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمُقْسِطِينَ عِنْدَ اللَّهِ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ عَنْ يَمِينِ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ الَّذِينَ يَعْدِلُونَ فِي حُكْمِهِمْ وَأَهْلِيهِمْ وَمَا وَلُوا " .
حضرت عبدالرحمٰن بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عدل و انصاف کرنے والے حکمران اللہ کے ہاں، رحمٰن عزوجل کے دائیں طرف، نور کے منبروں پر ہوں گے اور اس کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے فیصلوں میں اہل و عیال اور اپنی رعایا کے ساتھ عدل کرتے ہیں۔‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإمارة / حدیث: 1827
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1828
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، قَالَ : أَتَيْتُ عَائِشَةَ أَسْأَلُهَا عَنْ شَيْءٍ ، فَقَالَتْ : " مِمَّنْ أَنْتَ ؟ ، فَقُلْتُ : رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ ، فَقَالَتْ : كَيْفَ كَانَ صَاحِبُكُمْ لَكُمْ فِي غَزَاتِكُمْ هَذِهِ ؟ ، فَقَالَ : مَا نَقَمْنَا مِنْهُ شَيْئًا إِنْ كَانَ لَيَمُوتُ لِلرَّجُلِ مِنَّا الْبَعِيرُ ، فَيُعْطِيهِ الْبَعِيرَ ، وَالْعَبْدُ فَيُعْطِيهِ الْعَبْدَ ، وَيَحْتَاجُ إِلَى النَّفَقَةِ فَيُعْطِيهِ النَّفَقَةَ ، فَقَالَتْ : أَمَا إِنَّهُ لَا يَمْنَعُنِي الَّذِي فَعَلَ فِي مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ أَخِي أَنْ أُخْبِرَكَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : فِي بَيْتِي هَذَا اللَّهُمَّ مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا ، فَشَقَّ عَلَيْهِمْ فَاشْقُقْ عَلَيْهِ ، وَمَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا فَرَفَقَ بِهِمْ فَارْفُقْ بِهِ " ،
عبدالرحمٰن بن شمامہ بیان کرتے ہیں، میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی خدمت میں کوئی مسئلہ پوچھنے کی خاطر حاضر ہوا، تو انہوں نے پوچھا، تم کہاں سے ہو، (کن لوگوں سے ہو)؟ میں نے عرض کیا، میں اہل مصر سے ہوں، انہوں نے پوچھا، تمہارا امیر، تمہارے اس غزوہ میں تمہارے حق میں کیسا تھا؟ تو اس نے کہا، ہم نے اس میں کوئی ناپسندیدہ، ناگوار بات نہیں دیکھی، صورت حال یہ تھی، جب ہم میں سے کسی کا اونٹ مر جاتا تھا، تو وہ اونٹ دے دیتا تھا، اگر غلام مرتا تھا، تو غلام دیتا تھا اور جب وہ خرچ کا محتاج ہوتا تھا تو اسے خرچ دیتا تھا، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایاِ ہاں، اس نے میرے بھائی محمد بن ابوبکر کے ساتھ جو سلوک کیا، وہ مجھے اس حدیث کے بیان کرنے سے نہیں روکتا، جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے اس گھر میں سنی، آپﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! جو شخص میری امت کے کسی کام کا والی بنا اور ان سے نرمی برتی، تو اس سے نرمی کا سلوک فرمانا۔‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإمارة / حدیث: 1828
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1828
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ حَرْمَلَةَ الْمِصْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ .
جریر بن حازم نے حرملہ مصری سے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن شماسہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی کے مانند روایت کی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإمارة / حدیث: 1828
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1829
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " أَلَا كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، فَالْأَمِيرُ الَّذِي عَلَى النَّاسِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُمْ ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ بَعْلِهَا وَوَلَدِهِ وَهِيَ مَسْئُولَةٌ عَنْهُمْ ، وَالْعَبْدُ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُ ، أَلَا فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ " ،
لیث نے نافع سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”سن رکھو! تم میں سے ہر شخص حاکم ہے اور ہر شخص سے اس کی رعایا کے متعلق سوال کیا جائے گا، سو جو امیر لوگوں پر مقرر ہے وہ راعی (لوگوں کی بہبود کا ذمہ دار) ہے اس سے اس کی رعایا کے متعلق پوچھا جائے گا اور مرد اپنے اہل خانہ پر راعی (رعایت پر مامور) ہے، اس سے اس کی رعایا کے متعلق سوال ہو گا اور عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کے بچوں کی راعی ہے، اس سے ان کے متعلق سوال ہو گا اور غلام اپنے مالک کے مال میں راعی ہے، اس سے اس کے متعلق سوال کیا جائے گا، سن رکھو! تم میں سے ہر شخص راعی ہے اور ہر شخص سے اس کی رعایا کے متعلق پوچھا جائے گا۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإمارة / حدیث: 1829
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1829
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ . ح . وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي يَعْنِي الْقَطَّانَ كُلُّهُمْ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُجَمِيعًا ، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ . ح وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي أُسَامَةُ كُلُّ هَؤُلَاءِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ مِثْلَ حَدِيثِ اللَّيْثِ ، عَنْ نَافِعٍ ،
عبیداللہ بن عمر، ایوب، ضحاک بن عثمان اور اسامہ (بن زید لیثی) سب نے نافع سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح حدیث بیان کی جس طرح لیث نے نافع سے بیان کی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإمارة / حدیث: 1829
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1829
قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ بِهَذَا مِثْلَ حَدِيثِ اللَّيْثِ ، عَنْ نَافِعٍ ،
عبیداللہ (بن عمر بن حفص) نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح حدیث بیان کی جس طرح لیث نے نافع سے بیان کی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإمارة / حدیث: 1829
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1829
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ حُجْرٍ كُلُّهُمْ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِمَعْنَى حَدِيثِ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : وَحَسِبْتُ أَنَّهُ قَدْ قَالَ الرَّجُلُ رَاعٍ فِي مَالِ أَبِيهِ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ،
اسماعیل بن جعفر نے حضرت عبداللہ بن دینار سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اور یونس نے ابن شہاب سے، انہوں نے سالم بن عبداللہ سے، انہوں نے اپنے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ) سے حدیث بیان کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا، ابن عمر رضی اللہ عنہ سے نافع کی حدیث کے مانند۔ (یونس نے) زہری کی حدیث میں یہ اضافہ کیا: کہا: میں سمجھتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی اپنے باپ کے مال کا راعی (محافظ) ہے اور اس سے اس کی رعایا کے متعلق سوال کیا جائے گا۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإمارة / حدیث: 1829
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1829
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي رَجُلٌ سَمَّاهُ ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْمَعْنَى .
بسر بن سعید نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإمارة / حدیث: 1829
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 142
وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ ، عَنْ الْحَسَنِ ، قَالَ : عَادَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ الْمُزَنِيَّ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ ، فَقَالَ : مَعْقِلٌ إِنِّي مُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَوْ عَلِمْتُ أَنَّ لِي حَيَاةً مَا حَدَّثْتُكَ ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْتَرْعِيهِ اللَّهُ رَعِيَّةً يَمُوتُ يَوْمَ يَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لِرَعِيَّتِهِ ، إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ " ،
حضرت حسن بصری بیان کرتے ہیں کہ حضرت معقل بن یسار مزنی رضی اللہ تعالی عنہ کے مرض الموت میں، عبیداللہ بن زیاد ان کی بیمار پرسی کے لیے گیا، تو وہ فرمانے لگے، میں تمہیں ایک حدیث سنانے لگا ہوں، جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، اگر مجھے یقین ہوتا کہ میں زندہ رہوں گا، تو میں تمہیں نہ سناتا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس بندے کو بھی اللہ تعالیٰ کسی رعایا کا نگران اور محافظ بناتا ہے اور وہ جس دن مرتا ہے، اس حال میں مرتا ہے کہ وہ اپنے رعایا کے ساتھ دھوکے باز اور خائن ہوتا ہے، تو اللہ اس کے لیے جنت حرام ٹھہراتا ہے۔‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإمارة / حدیث: 142
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 142
وحَدَّثَنَاه يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، قَالَ : دَخَلَ ابْنُ زِيَادٍ عَلَى مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ وَهُوَ وَجِعٌ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي الْأَشْهَبِ ، وَزَادَ ، قَالَ : أَلَّا كُنْتَ حَدَّثْتَنِي هَذَا قَبْلَ الْيَوْمِ ، قَالَ : مَا حَدَّثْتُكَ أَوْ لَمْ أَكُنْ لِأُحَدِّثَكَ .
یونس نے حضرت حسن بصری سے روایت کی، کہا: ابن زیاد حضرت معقل رضی اللہ عنہ کے پاس گیا وہ اس وقت (بیمار تھے اور) درد میں مبتلا تھے، جیسے ابواشہب کی حدیث ہے اور انہوں نے اضافہ کیا: اس (ابن زیاد) نے کہا: آپ نے آج سے پہلے مجھے یہ حدیث کیوں نہیں بیان کی؟ حضرت معقل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے تمہیں کبھی حدیث نہیں سنائی، (تم نے حدیث کا سماع ہی نہیں کیا) یا فرمایا: میں تمہیں حدیث بیان نہیں کیا کرتا تھا (حدیث میں تمہارا استاد نہ تھا)۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإمارة / حدیث: 142
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 142
وحَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ : أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ زِيَادٍ دَخَلَ عَلَى مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ فِي مَرَضِهِ ، فَقَالَ لَهُ مَعْقِلٌ : " إِنِّي مُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ لَوْلَا أَنِّي فِي الْمَوْتِ لَمْ أُحَدِّثْكَ بِهِ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَا مِنْ أَمِيرٍ يَلِي أَمْرَ الْمُسْلِمِينَ ثُمَّ لَا يَجْهَدُ لَهُمْ وَيَنْصَحُ ، إِلَّا لَمْ يَدْخُلْ مَعَهُمُ الْجَنَّةَ " ،
ابوملیح سے روایت ہے کہ عبیداللہ بن زیاد، حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی بیماری میں ان کے پاس گیا، حضرت معقل رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تم کو ایک حدیث بیان کرنے لگا ہوں اور اگر میں مرض الموت میں نہ ہوتا تو تمہیں یہ حدیث نہ سناتا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”کوئی امیر نہیں جو مسلمانوں کے امور کا ذمہ دار ہو، پھر ان کے لیے جدوجہد اور خیرخواہی نہ کرے، مگر وہ ان کے ساتھ جنت میں داخل نہیں ہو گا۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإمارة / حدیث: 142
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 142
وحَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنِي سَوَادَةُ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ مَرِضَ ، فَأَتَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ يَعُودُهُ نَحْوَ حَدِيثِ الْحَسَنِ ، عَنْ مَعْقِلٍ .
سوادہ بن ابی الاسود اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت معقل بن یسار رضی اللہ تعالی عنہ بیمار ہو گئے، تو عبیداللہ بن زیاد ان کی عیادت کے لیے گیا، آگے حسن بصری کی طرح، حضرت معقل رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث بیان کی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإمارة / حدیث: 142
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1830
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، أَنَّ عَائِذَ بْنَ عَمْرٍو ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، دَخَلَ عَلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ ، فَقَالَ : أَيْ بُنَيَّ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ شَرَّ الرِّعَاءِ الْحُطَمَةُ ، فَإِيَّاكَ أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ ، فَقَالَ لَهُ : اجْلِسْ ، فَإِنَّمَا أَنْتَ مِنْ نُخَالَةِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : وَهَلْ كَانَتْ لَهُمْ نُخَالَةٌ ؟ ، إِنَّمَا كَانَتِ النُّخَالَةُ بَعْدَهُمْ وَفِي غَيْرِهِمْ " .
حضرت حسن بصری بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائذ بن عمرہ رضی اللہ تعالی عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سے ہیں، عبیداللہ بن زیاد کے پاس گئے اور کہا، اے بیٹے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے، ”بدترین، ذلیل (نگران) سخت گیر ہے تو ان میں سے ہونے سے بچاؤ کر۔‘‘ تو اس نے جواب دیا، بیٹھئے، تو تو بس محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کا چھان بورا ہے، تو حضرت عائذ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، کیا ان میں چھان بورا بھی تھا؟ چھان بورا تو ان کے بعد اور دوسروں میں پیدا ہوا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإمارة / حدیث: 1830
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»