حدیث نمبر: 1825
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ ابْنِ حُجَيْرَةَ الْأَكْبَرِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا تَسْتَعْمِلُنِي ، قَالَ : فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى مَنْكِبِي ثُمَّ ، قَالَ يَا أَبَا ذَرٍّ : إِنَّكَ ضَعِيفٌ ، وَإِنَّهَا أَمَانَةُ وَإِنَّهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ خِزْيٌ وَنَدَامَةٌ ، إِلَّا مَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا وَأَدَّى الَّذِي عَلَيْهِ فِيهَا " .
حضرت ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا، اے اللہ کے رسولﷺ! کیا کوئی کام میرے سپرد نہیں فرمائیں گے؟ (مجھے کوئی منصب عنایت نہیں فرمائیں گے) تو آپ نے اپنا ہاتھ میرے کندھے پر مارا پھر فرمایا: ”اے ابوذر! تو ضعیف (کمزور) ہے اور یہ ایک امانت (ذمہ داری) ہے اور یہ قیامت کے دن رسوائی اور شرمندگی کا باعث بنے گی، مگر جس نے اس کے حق کا پاس کرتے ہوئے لیا اور اس کے سبب اس کی جو ذمہ داری ہے، اس کو پورا کیا۔‘‘
حدیث نمبر: 1826
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ كلاهما ، عَنْ الْمُقْرِئِ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ الْقُرَشِيِّ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي سَالِمٍ الْجَيْشَانِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، إِنِّي أَرَاكَ ضَعِيفًا وَإِنِّي أُحِبُّ لَكَ مَا أُحِبُّ لِنَفْسِي لَا تَأَمَّرَنَّ عَلَى اثْنَيْنِ وَلَا تَوَلَّيَنَّ مَالَ يَتِيمٍ " .
حضرت ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر! میں تمہیں کمزور دیکھ رہا ہوں اور میں تیرے لیے وہی چیز پسند کرتا ہوں جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں، تم دو آدمیوں پر بھی امیر نہ بننا اور نہ یتیم کے مال کا نگران بننا۔‘‘