حدیث نمبر: 1800
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَنْظُرُ لَنَا مَا صَنَعَ أَبُو جَهْلٍ ؟ ، فَانْطَلَقَ ابْنُ مَسْعُودٍ ، فَوَجَدَهُ قَدْ ضَرَبَهُ ابْنَا عَفْرَاءَ حَتَّى بَرَكَ ، قَالَ : فَأَخَذَ بِلِحْيَتِهِ ، فَقَالَ : آنْتَ أَبُو جَهْلٍ ؟ ، فَقَالَ : وَهَلْ فَوْقَ رَجُلٍ قَتَلْتُمُوهُ أَوَ قَالَ قَتَلَهُ قَوْمُهُ ، قَالَ : وَقَالَ أَبُو مِجْلَزٍ : قَالَ أَبُو جَهْلٍ : فَلَوْ غَيْرُ أَكَّارٍ قَتَلَنِي " ،
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون ہمیں یہ دیکھ کر بتائے گا کہ ابوجہل کا کیا بنا؟‘‘ تو حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ چل پڑے اور اسے اس حال میں دیکھا کہ اسے عفراء کے دو بیٹوں نے تلوار مار کر زمین پر گرا دیا ہے۔ تو ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے اس کی داڑھی پکڑ کر پوچھا، کیا تو ہی ابوجہل ہے؟ تو اس نے جواب دیا، کیا اس آدمی سے بڑا بھی تم نے قتل کیا ہے، یا اس کی قوم نے قتل کیا ہے؟ ابومجلز کہتے ہیں، ابوجہل نے کہا، اے کاش مجھے ایک کسان کے علاوہ کسی اور نے قتل کیا ہوتا۔
حدیث نمبر: 1800
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ : حَدَّثَنَا أَنَسٌ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَعْلَمُ لِي مَا فَعَلَ أَبُو جَهْلٍ ؟ " بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ وَقَوْلِ أَبِي مِجْلَزٍ كَمَا ذَكَرَهُ إِسْمَاعِيلُ .
ہمیں معتمر نے کہا: میں نے اپنے والد (سلیمان تیمی) سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: ہمیں حضرت انس رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے لیے کون معلوم کرے گا کہ ابوجہل کا کیا ہوا؟“ آگے ابن علیہ کی حدیث اور ابومجلز کے قول کے مانند ہے، جس طرح اسماعیل نے بیان کیا ہے۔