کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: حدیبیہ میں جو صلح ہوئی اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 1783
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، يَقُولُ : " كَتَبَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ الصُّلْحَ بَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ ، فَكَتَبَ هَذَا مَا كَاتَبَ عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ، فَقَالُوا : لَا تَكْتُبْ رَسُولُ اللَّهِ فَلَوْ نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ لَمْ نُقَاتِلْكَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ : امْحُهُ ، فَقَالَ : مَا أَنَا بِالَّذِي أَمْحَاهُ ، فَمَحَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ، قَالَ : وَكَانَ فِيمَا اشْتَرَطُوا أَنْ يَدْخُلُوا مَكَّةَ ، فَيُقِيمُوا بِهَا ثَلَاثًا ، وَلَا يَدْخُلُهَا بِسِلَاحٍ إِلَّا جُلُبَّانَ السِّلَاحِ " ، قُلْتُ لِأَبِي إِسْحَاقَ : وَمَا جُلُبَّانُ السِّلَاحِ ؟ ، قَالَ : الْقِرَابُ وَمَا فِيهِ ؟
معاذ عنبری نے کہا: ہمیں شعبہ نے ابواسحاق سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس صلح کا معاہدہ لکھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکوں کے درمیان حدیبیہ کے دن ہوئی تھی۔ انہوں نے لکھا: ”یہ (معاہدہ) ہے جس پر تحریری صلح کی اللہ کے رسول، محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے۔“ مشرکوں نے کہا: ”اللہ کا رسول“ مت لکھیے، اس لیے کہ اگر ہم یقین جانتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم آپ سے نہ لڑتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اس لفظ کو مٹا دو۔“ انہوں نے عرض کی: جو اس (لفظ) کو مٹائے گا وہ میں نہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنے ہاتھ سے مٹا دیا، کہا: انہوں نے جو شرطیں رکھیں ان میں یہ بھی تھا کہ (مسلمان) مکہ میں آئیں اور تین دن تک مقیم رہیں اور ہتھیار لے کر مکہ میں داخل نہ ہوں، الا یہ کہ چمڑے کے تھیلے میں ہوں۔ (شعبہ نے کہا) میں نے ابواسحاق سے کہا: چمڑے کے تھیلے سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: نیام اور جو اس کے اندر ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجهاد والسير / حدیث: 1783
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1783
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، يَقُولُ : لَمَّا صَالَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الْحُدَيْبِيَةِ كَتَبَ عَلِيٌّ كِتَابًا بَيْنَهُمْ ، قَالَ : فَكَتَبَ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ثُمَّ ذَكَرَ بِنَحْوِ حَدِيثِ مُعَاذٍ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ فِي الْحَدِيثِ هَذَا مَا كَاتَبَ عَلَيْهِ .
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے ابواسحاق سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ (میں آ کر صلح کی گفتگو کرنے) والوں سے صلح کی تو ان کے مابین حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تحریر لکھی، کہا: انہوں نے ”محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم“ لکھا، پھر معاذ کی حدیث کی طرح بیان کیا، مگر انہوں نے: ”یہ ہے جس پر تحریری صلح کی“ (کا جملہ) بیان نہیں کیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجهاد والسير / حدیث: 1783
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1783
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ الْمِصِّيصِيُّ جَمِيعًا ، عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ وَاللَّفْظُ لِإِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّاءُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْبَرَاءِ ، قَالَ : لَمَّا أُحْصِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْبَيْتِ صَالَحَهُ أَهْلُ مَكَّةَ عَلَى أَنْ يَدْخُلَهَا ، فَيُقِيمَ بِهَا ثَلَاثًا ، وَلَا يَدْخُلَهَا إِلَّا بِجُلُبَّانِ السِّلَاحِ السَّيْفِ ، وَقِرَابِهِ وَلَا يَخْرُجَ بِأَحَدٍ مَعَهُ مِنْ أَهْلِهَا ، وَلَا يَمْنَعَ أَحَدًا يَمْكُثُ بِهَا مِمَّنْ كَانَ مَعَهُ ، قَالَ لِعَلِيٍّ : اكْتُبْ الشَّرْطَ بَيْنَنَا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ، فَقَالَ لَهُ الْمُشْرِكُونَ : لَوْ نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ تَابَعْنَاكَ ، وَلَكِنْ اكْتُبْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، فَأَمَرَ عَلِيًّا أَنْ يَمْحَاهَا ، فَقَالَ عَلِيٌّ : لَا وَاللَّهِ لَا أَمْحَاهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَرِنِي مَكَانَهَا ، فَأَرَاهُ مَكَانَهَا ، فَمَحَاهَا ، وَكَتَبَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، فَأَقَامَ بِهَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَلَمَّا أَنْ كَانَ يَوْمُ الثَّالِثِ ، قَالُوا لِعَلِيٍّ : هَذَا آخِرُ يَوْمٍ مِنْ شَرْطِ صَاحِبِكَ ، فَأْمُرْهُ فَلْيَخْرُجْ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ ، فَقَالَ : نَعَمْ فَخَرَجَ " ، وقَالَ ابْنُ جَنَابٍ فِي رِوَايَتِهِ : مَكَانَ تَابَعْنَاكَ بَايَعْنَاكَ .
حضرت براء بیان کرتے ہیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ سے روک دئیے گئے، اہل مکہ نے آپﷺ سے اس شرط پر صلح کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں داخل ہو کر صرف تین دن ٹھہر سکیں گے اور آپ اس میں اسلحہ کو غلاف میں بند کر کے داخل ہوں گے، تلوار میان میں ہو گی اور اپنے ساتھ اس کے کسی باشندے کو لے نہیں جائیں گے اور اپنے ساتھیوں میں سے کسی ایسے فرد کو نہیں روکیں گے جو وہاں ٹھہرنا چاہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا: ”ہمارے درمیان شرطیں لکھو، ”بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، یہ وہ شرطیں ہیں جن پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘ تو آپ سے مشرکوں نے کہا، اگر ہم یقین کر لیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو آپﷺ کی پیروی کر لیں، لیکن یہ لکھو، ”محمد بن عبداللہ‘‘، آپﷺ نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو اس کے مٹانے کا حکم دیا تو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، نہیں، اللہ کی قسم! میں اس کو نہیں مٹا سکتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس لفظ کی جگہ دکھاؤ۔‘‘ تو انہوں نے اس کی جگہ دکھائی تو آپﷺ نے اسے مٹا دیا اور ابن عبداللہ لکھ دیا اور مکہ میں تین دن ٹھہرے، تو جب تیسرا دن آیا، مشرکوں نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے کہا، یہ آپ کے ساتھی کی شرط کے مطابق آخری دن ہے، انہیں کہیے کہ وہ چلے جائیں، انہوں نے آپﷺ کو اس کی اطلاع دی تو آپﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے چل دئیے، ابن خباب کی روایت میں تابعناك کی جگہ بايعنك
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجهاد والسير / حدیث: 1783
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1784
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ " أَنَّ قُرَيْشًا صَالَحُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِيهِمْ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ : اكْتُبْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، قَالَ سُهَيْلٌ : أَمَّا بِاسْمِ اللَّهِ ، فَمَا نَدْرِي مَا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، وَلَكِنْ اكْتُبْ مَا نَعْرِفُ بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ ، فَقَالَ : اكْتُبْ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ ، قَالُوا : لَوْ عَلِمْنَا أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ لَاتَّبَعْنَاكَ ، وَلَكِنْ اكْتُبْ اسْمَكَ وَاسْمَ أَبِيكَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اكْتُبْ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، فَاشْتَرَطُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَنْ جَاءَ مِنْكُمْ لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكُمْ ، وَمَنْ جَاءَكُمْ مِنَّا رَدَدْتُمُوهُ عَلَيْنَا ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَكْتُبُ هَذَا ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، إِنَّهُ مَنْ ذَهَبَ مِنَّا إِلَيْهِمْ ، فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ وَمَنْ جَاءَنَا مِنْهُمْ سَيَجْعَلُ اللَّهُ لَهُ فَرَجًا وَمَخْرَجًا " .
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قریش نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مصالحت کی، ان میں سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”لکھو: بسم اللہ الرحمن الرحیم۔“ سہیل کہنے لگے: جہاں تک بسم اللہ کا تعلق ہے تو ہم بسم اللہ الرحمن الرحیم کو نہیں جانتے، لیکن وہ لکھو جسے ہم جانتے ہیں: باسمک اللہم۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لکھو: محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے۔“ وہ لوگ کہنے لگے: اگر ہم یقین جانتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم آپ کی پیروی کرتے، لیکن اپنا اور اپنے والد کا نام لکھو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لکھو: محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے۔“ ان لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر شرط لگائی کہ آپ لوگوں میں سے (ہمارے پاس) آ جائے گا ہم اسے آپ لوگوں کو واپس نہ کریں گے اور ہم میں سے جو آپ کے پاس آیا آپ اسے ہم کو واپس کر دیں گے۔ (صحابہ نے) پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم یہ لکھ دیں؟ فرمایا: ”ہاں، ہم میں سے جو شخص ان کے پاس چلا گیا تو اسے اللہ نے ہم سے دور کر دیا اور ان میں سے جو ہمارے پاس آئے گا اللہ اس کے لیے کشادگی اور نکلنے کا راستہ پیدا فرما دے گا۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجهاد والسير / حدیث: 1784
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1785
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ سِيَاهٍ ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : قَامَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ يَوْمَ صِفِّينَ ، فَقَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ اتَّهِمُوا أَنْفُسَكُمْ ، لَقَدْ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَلَوْ نَرَى قِتَالًا لَقَاتَلْنَا ، وَذَلِكَ فِي الصُّلْحِ الَّذِي كَانَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ ، فَجَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَسْنَا عَلَى حَقٍّ وَهُمْ عَلَى بَاطِلٍ ؟ ، قَالَ : بَلَى ، قَالَ : أَلَيْسَ قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ وَقَتْلَاهُمْ فِي النَّارِ ؟ ، قَالَ : بَلَى ، قَالَ : فَفِيمَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا وَنَرْجِعُ وَلَمَّا يَحْكُمِ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ ؟ ، فَقَالَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ : إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ وَلَنْ يُضَيِّعَنِي اللَّهُ أَبَدًا ، قَالَ : فَانْطَلَقَ عُمَرُ فَلَمْ يَصْبِرْ مُتَغَيِّظًا ، فَأَتَى أَبَا بَكْرٍ ، فَقَالَ : يَا أَبَا بَكْرٍ ، أَلَسْنَا عَلَى حَقٍّ وَهُمْ عَلَى بَاطِلٍ ؟ ، قَالَ : بَلَى ، قَالَ : أَلَيْسَ قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ وَقَتْلَاهُمْ فِي النَّارِ ؟ ، قَالَ : بَلَى ، قَالَ : فَعَلَامَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا وَنَرْجِعُ وَلَمَّا يَحْكُمِ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ ؟ ، فَقَالَ : يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، إِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ وَلَنْ يُضَيِّعَهُ اللَّهُ أَبَدًا ، قَالَ : فَنَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْفَتْحِ ، فَأَرْسَلَ إِلَى عُمَرَ فَأَقْرَأَهُ إِيَّاهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوْ فَتْحٌ هُوَ ، قَالَ : نَعَمْ فَطَابَتْ نَفْسُهُ وَرَجَعَ " .
حبیب بن ابی ثابت نے ابووائل (شقیق) سے روایت کی، انہوں نے کہا: سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ جنگ صفین کے روز کھڑے ہوئے اور (لوگوں کو مخاطب کر کے) کہا: لوگو! (امیر المومنین پر الزام لگانے کے بجائے) خود کو الزام دو (صلح کو مسترد کر کے اللہ اور اس کے بتائے ہوئے راستے سے تم ہٹ رہے ہو) ہم حدیبیہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے اور اگر ہم جنگ (ہی کو ناگزیر) دیکھتے تو جنگ کر گزرتے۔ یہ اس صلح کا واقعہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکین کے درمیان ہوئی۔ (اب تو مسلمانوں کے دو گروہوں کا معاملہ ہے۔) عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ آئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم حق پر اور وہ باطل پر نہیں؟ آپ نے فرمایا: ”کیوں نہیں!“ عرض کی: کیا ہمارے مقتول جنت میں اور ان کے مقتول آگ میں نہ جائیں گے؟ فرمایا: ”کیوں نہیں!“ عرض کی: تو ہم اپنے دین میں نیچے لگ کر (صلح) کیوں کریں؟ اور اس طرح کیوں لوٹ جائیں کہ اللہ نے ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ نہیں کیا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خطاب کے بیٹے! میں اللہ کا رسول ہوں، (اس کے حکم سے صلح کر رہا ہوں) اللہ مجھے کبھی ضائع نہیں کرے گا۔“ کہا: عمر رضی اللہ عنہ غصے کے عالم میں چل پڑے اور صبر نہ کر سکے۔ وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: اے ابوبکر! کیا ہم حق پر اور وہ باطل پر نہیں؟ کہا: کیوں نہیں! کہا: کیا ہمارے مقتول جنت میں اور ان کے مقتول آگ میں نہیں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں! (حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو ہم اپنے دین میں نیچے لگ کر (جیسی صلح وہ چاہتے ہیں انہیں) کیوں دیں؟ اور اس طرح کیوں لوٹ جائیں کہ اللہ نے ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ نہیں کیا؟ تو انہوں نے کہا: ابن خطاب! وہ اللہ کے رسول ہیں، اللہ انہیں ہرگز کبھی ضائع نہیں کرے گا۔ کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر فتح (کی خوشخبری) کے ساتھ قرآن اترا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور انہیں (جو نازل ہوا تھا) وہ پڑھوایا۔ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا یہ فتح ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ تو (اس پر) عمر رضی اللہ عنہ کا دل خوش ہو گیا اور وہ لوٹ آئے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجهاد والسير / حدیث: 1785
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1785
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ ، يَقُولُ : " بِصِفِّينَ أَيُّهَا النَّاسُ اتَّهِمُوا رَأْيَكُمْ وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُنِي يَوْمَ أَبِي جَنْدَلٍ ، وَلَوْ أَنِّي أَسْتَطِيعُ أَنْ أَرُدَّ أَمْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَرَدَدْتُهُ وَاللَّهِ ، مَا وَضَعْنَا سُيُوفَنَا عَلَى عَوَاتِقِنَا إِلَى أَمْرٍ قَطُّ ، إِلَّا أَسْهَلْنَ بِنَا إِلَى أَمْرٍ نَعْرِفُهُ إِلَّا أَمْرَكُمْ هَذَا " ، لَمْ يَذْكُرْ ابْنُ نُمَيْرٍ إِلَى أَمْرٍ قَطُّ ،
حضرت شقیق بیان کرتے ہیں کہ میں نے سہل بن حنیف رضی اللہ تعالی عنہ کو صفین کے موقعہ پر یہ کہتے سنا، اے لوگو! اپنی سوچ پر الزام عائد کرو، اللہ کی قسم! میں نے ابو جندل کے دن اپنے آپ کو اس حال میں پایا کہ اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم رد کر سکتا ہوتا تو ضرور رد کر دیتا، اللہ کی قسم! ہم نے جب بھی کسی معاملہ کے سلسلہ میں تلواریں اپنے کندھوں پر رکھیں تو وہ آسانی کے ساتھ ہمیں اچھی اور بہترین نتیجہ کی طرف لے گئیں، مگر تمہارا یہ معاملہ (تلواروں سے حل نہیں ہو رہا) ابن نمیر کی روایت میں الى امر قط
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجهاد والسير / حدیث: 1785
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1785
وحَدَّثَنَاه عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ جَمِيعًا ، عَنْ جَرِيرٍ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ كِلَاهُمَا ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِهِمَا إِلَى أَمْرٍ يُفْظِعُنَا .
جریر اور وکیع دونوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، ان دونوں کی حدیث میں یہ الفاظ ہیں: ”ایسے کام کی طرف جو ہمیں مشکل میں مبتلا کر رہا تھا۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجهاد والسير / حدیث: 1785
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1785
وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ بِصِفِّينَ ، يَقُولُ : " اتَّهِمُوا رَأْيَكُمْ عَلَى دِينِكُمْ ، فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي يَوْمَ أَبِي جَنْدَلٍ وَلَوْ أَسْتَطِيعُ أَنْ أَرُدَّ أَمْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَا فَتَحْنَا مِنْهُ فِي خُصْمٍ إِلَّا انْفَجَرَ عَلَيْنَا مِنْهُ خُصْمٌ " .
حضرت ابو وائل بیان کرتے ہیں کہ میں نے جنگ صفین کے موقع پر حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ تعالی عنہ سے سنا، دین کے سلسلہ میں اپنی سوچ اور رائے کو ناقص سمجھو، میں نے ابو جندل رضی اللہ تعالی عنہ کے دن اپنے آپ کو اس کیفیت میں پایا کہ اگر میرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو رد کرنا ممکن ہوتا (تو میں ضرور رد کر دیتا)
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجهاد والسير / حدیث: 1785
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1786
وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ ، قَالَ : " لَمَّا نَزَلَتْ إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا { 1 } لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ سورة الفتح آية 1-2 إِلَى قَوْلِهِ فَوْزًا عَظِيمًا سورة الفتح آية 5 مَرْجِعَهُ مِنْ الْحُدَيْبِيَةِ ، وَهُمْ يُخَالِطُهُمُ الْحُزْنُ وَالْكَآبَةُ ، وَقَدْ نَحَرَ الْهَدْيَ بِالْحُدَيْبِيَةِ ، فَقَالَ : لَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آيَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا جَمِيعًا " ،
سعید بن ابی عروبہ نے ہمیں قتادہ سے حدیث سنائی کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث سنائی، کہا: جب آیت: (إِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِینًا ﴿﴾ لِّیَغْفِرَ لَکَ ٱللَّـہُ۔۔۔ فَوْزًا عَظِیمًا ﴿﴾) تک اتری (تو یہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیبیہ سے واپسی کا موقع تھا اور لوگوں کے دلوں میں غم اور دکھ کی کیفیت طاری تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں قربانی کے اونٹ نحر کر دیے تھے تو (اس موقع پر) آپ نے فرمایا: ”مجھ پر ایک ایسی آیت نازل کی گئی ہے جو مجھے پوری دنیا سے زیادہ محبوب ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجهاد والسير / حدیث: 1786
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1786
وحَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ جَمِيعًا ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ .
معتمر کے والد (سلیمان)، ہمام اور شیبان سب نے قتادہ سے روایت کی، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سعید بن ابی عروبہ کی حدیث کی طرح روایت کی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجهاد والسير / حدیث: 1786
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»