حدیث نمبر: 1781
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ وَحَوْلَ الْكَعْبَةِ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَسِتُّونَ نُصُبًا ، فَجَعَلَ يَطْعُنُهَا بِعُودٍ كَانَ بِيَدِهِ ، وَيَقُولُ : جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ، إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا جَاءَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ " ، زَادَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ يَوْمَ الْفَتْحِ ،
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے اور کعبہ کے اردگرد تین سو ساٹھ بت تھے، آپﷺ اپنے ہاتھ کی چھڑی سے انہیں کچوکا لگانے لگے اور فرمانے لگے: ”حق آ گیا باطل مٹ گیا، باطل مٹنے ہی والا ہے،‘‘
حدیث نمبر: 1781
وحَدَّثَنَاه حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَى قَوْلِهِ : زَهُوقًا ، وَلَمْ يَذْكُرِ الْآيَةَ الْأُخْرَى ، وَقَالَ : بَدَلَ نُصُبًا صَنَمًا .
ثوری نے ابن ابی نجیح سے اسی سند کے ساتھ زہوقا (پہلی آیت کے آخر) تک روایت کی، دوسری آیت بیان نہیں کی اور نصبا کے بجائے، صنما کہا: (دونوں کے معنی بت کے ہیں)۔