کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: مکہ فتح ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1780
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " وَفَدَتْ وُفُودٌ إِلَى مُعَاوِيَةَ وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ ، فَكَانَ يَصْنَعُ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ الطَّعَامَ فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ مِمَّا يُكْثِرُ أَنْ يَدْعُوَنَا إِلَى رَحْلِهِ ، فَقُلْتُ : أَلَا أَصْنَعُ طَعَامًا فَأَدْعُوَهُمْ إِلَى رَحْلِي ، فَأَمَرْتُ بِطَعَامٍ يُصْنَعُ ثُمَّ لَقِيتُ أَبَا هُرَيْرَةَ مِنَ الْعَشِيِّ ، فَقُلْتُ : الدَّعْوَةُ عِنْدِي اللَّيْلَةَ ، فَقَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، فَدَعَوْتُهُمْ ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : أَلَا أُعْلِمُكُمْ بِحَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِكُمْ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ ذَكَرَ فَتْحَ مَكَّةَ ، فَقَالَ : أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ ، فَبَعَثَ الزُّبَيْرَ عَلَى إِحْدَى الْمُجَنِّبَتَيْنِ ، وَبَعَثَ خَالِدًا عَلَى الْمُجَنِّبَةِ الْأُخْرَى ، وَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ عَلَى الْحُسَّرِ ، فَأَخَذُوا بَطْنَ الْوَادِي وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كَتِيبَةٍ ، قَالَ : فَنَظَرَ فَرَآنِي ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : لَا يَأْتِينِي إِلَّا أَنْصَارِيٌّ " زَادَ غَيْرُ شَيْبَانَ ، فَقَالَ : اهْتِفْ لِي بِالْأَنْصَارِ ، قَالَ : فَأَطَافُوا بِهِ وَوَبَّشَتْ قُرَيْشٌ أَوْبَاشًا لَهَا وَأَتْبَاعًا ، فَقَالُوا نُقَدِّمُ هَؤُلَاءِ ، فَإِنْ كَانَ لَهُمْ شَيْءٌ كُنَّا مَعَهُمْ ، وَإِنْ أُصِيبُوا أَعْطَيْنَا الَّذِي سُئِلْنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَرَوْنَ إِلَى أَوْبَاشِ قُرَيْشٍ وَأَتْبَاعِهِمْ ، ثُمَّ قَالَ : بِيَدَيْهِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى ، ثُمَّ قَالَ : حَتَّى تُوَافُونِي بِالصَّفَا ، قَالَ : فَانْطَلَقْنَا فَمَا شَاءَ أَحَدٌ مِنَّا أَنْ يَقْتُلَ أَحَدًا إِلَّا قَتَلَهُ ، وَمَا أَحَدٌ مِنْهُمْ يُوَجِّهُ إِلَيْنَا شَيْئًا ، قَالَ : فَجَاءَ أَبُو سُفْيَانَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُبِيحَتْ خَضْرَاءُ قُرَيْشٍ لَا قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ ، ثُمَّ قَالَ : مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ ، فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : أَمَّا الرَّجُلُ فَأَدْرَكَتْهُ رَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ وَرَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : وَجَاءَ الْوَحْيُ وَكَانَ إِذَا جَاءَ الْوَحْيُ لَا يَخْفَى عَلَيْنَا ، فَإِذَا جَاءَ فَلَيْسَ أَحَدٌ يَرْفَعُ طَرْفَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَنْقَضِيَ الْوَحْيُ ، فَلَمَّا انْقَضَى الْوَحْيُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، قَالُوا : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : قُلْتُمْ أَمَّا الرَّجُلُ فَأَدْرَكَتْهُ رَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ ؟ ، قَالُوا : قَدْ كَانَ ذَاكَ ، قَالَ : كَلَّا إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ هَاجَرْتُ إِلَى اللَّهِ ، وَإِلَيْكُمْ وَالْمَحْيَا مَحْيَاكُمْ وَالْمَمَاتُ مَمَاتُكُمْ ، فَأَقْبَلُوا إِلَيْهِ يَبْكُونَ ، وَيَقُولُونَ : وَاللَّهِ مَا قُلْنَا الَّذِي قُلْنَا إِلَّا الضِّنَّ بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُصَدِّقَانِكُمْ وَيَعْذِرَانِكُمْ " ، قَالَ : فَأَقْبَلَ النَّاسُ إِلَى دَارِ أَبِي سُفْيَانَ وَأَغْلَقَ النَّاسُ أَبْوَابَهُمْ ، قَالَ : وَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَقْبَلَ إِلَى الْحَجَرِ فَاسْتَلَمَهُ ، ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ ، قَالَ : فَأَتَى عَلَى صَنَمٍ إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ كَانُوا يَعْبُدُونَهُ ، قَالَ : وَفِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْسٌ وَهُوَ آخِذٌ بِسِيَةِ الْقَوْسِ ، فَلَمَّا أَتَى عَلَى الصَّنَمِ جَعَلَ يَطْعُنُهُ فِي عَيْنِهِ ، وَيَقُولُ : جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ طَوَافِهِ أَتَى الصَّفَا فَعَلَا عَلَيْهِ حَتَّى نَظَرَ إِلَى الْبَيْتِ وَرَفَعَ يَدَيْهِ ، فَجَعَلَ يَحْمَدُ اللَّهَ وَيَدْعُو بِمَا شَاءَ أَنْ يَدْعُوَ " ،
شیبان بن فروخ نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں سلیمان بن مغیرہ نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں ثابت بنانی نے عبداللہ بن رباح سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: کئی وفود حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، یہ رمضان کا مہینہ تھا۔ (عبداللہ بن رباح نے کہا:) ہم ایک دوسرے کے لیے کھانا تیار کرتے تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جو ہمیں اکثر اپنی قیام گاہ پر بلاتے تھے۔ ایک (دن) میں نے کہا: میں بھی کیوں نہ کھانا تیار کروں اور سب کو اپنی قیام گاہ پر بلاؤں۔ میں نے کھانا بنانے کا کہہ دیا، پھر شام کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملا اور کہا: آج کی رات میرے یہاں دعوت ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تو نے مجھ سے پہلے کہہ دیا۔ (یعنی آج میں دعوت کرنے والا تھا) میں نے کہا: ہاں، پھر میں نے ان سب کو بلایا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے انصار کی جماعت! کیا میں تمہیں تمہارے متعلق احادیث میں سے ایک حدیث نہ بتاؤں؟ پھر انہوں نے مکہ کے فتح ہونے کا ذکر کیا۔ اس کے بعد کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے یہاں تک کہ مکہ میں داخل ہو گئے، پھر دو میں سے ایک بازو پر زبیر رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور دوسرے بازو پر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو، ابوعبیدہ (بن جراح) رضی اللہ عنہ کو ان لوگوں کا سردار کیا جن کے پاس زرہیں نہ تھیں۔ انہوں نے گھاٹی کے درمیان والا راستہ اختیار کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دستے میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا: ”ابوہریرہ!“ میں نے کہا: حاضر ہوں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے ساتھ انصاری کے سوا کوئی نہ آئے۔“ شیبان کے علاوہ دوسرے راویوں نے اضافہ کیا: آپ نے فرمایا: ”میرے لیے انصار کو آواز دو۔“ انصار آپ کے اردگرد آ گئے۔ اور قریش نے بھی اپنے اوباش لوگوں اور تابعداروں کو اکٹھا کیا اور کہا: ہم ان کو آگے کرتے ہیں، اگر کوئی چیز (کامیابی) ملی تو ہم بھی ان کے ساتھ ہیں اور اگر ان پر آفت آئی تو ہم سے جو مانگا جائے گا دے دیں گے۔ (دیت، جرمانہ وغیرہ۔) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم قریش کے اوباشوں اور تابعداروں (ہر کام میں پیروی کرنے والوں) کو دیکھ رہے ہو؟“ پھر آپ نے دونوں ہاتھوں سے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر (مارتے ہوئے) اشارہ فرمایا: ”(ان کا صفایا کر دو، ان کا فتنہ دبا دو)،“ پھر فرمایا: ”یہاں تک کہ تم مجھ سے صفا پر آ ملو۔“ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر ہم چلے، ہم میں سے جو کوئی (کافروں میں سے) جس کسی کو مارنا چاہتا، مار ڈالتا اور کوئی ہماری طرف کسی چیز (ہتھیار) کو آگے تک نہ کرتا، یہاں تک کہ ابوسفیان رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! قریش کی جماعت (کا خون) مباح کر دیا گیا اور آج کے بعد قریش نہ رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنا سابقہ بیان دہراتے ہوئے) فرمایا: ”جو شخص ابوسفیان کے گھر کے اندر چلا جائے اس کو امن ہے۔“ انصار ایک دوسرے سے کہنے لگے: ان کو (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو) اپنے وطن کی الفت اور اپنے کنبے والوں پر شفقت آ گئی ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اور وحی آنے لگی اور جب وحی آنے لگتی تھی تو ہم سے مخفی نہ رہتی۔ جب وحی آتی تو وحی (کا نزول) ختم ہونے تک کوئی شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اپنی آنکھ نہ اٹھاتا تھا، غرض جب وحی ختم ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے انصار کے لوگو!“ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم حاضر ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے یہ کہا: اس شخص (کے دل میں) اپنے گاؤں کی الفت آ گئی ہے۔“ انہوں نے کہا: یقیناً ایسا تو ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہرگز نہیں، میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ میں نے اللہ تعالیٰ کی طرف ہجرت کی اور تمہاری طرف (آیا) اب میری زندگی بھی تمہاری زندگی (کے ساتھ) ہے اور موت بھی تمہارے ساتھ ہے۔“ یہ سن کر انصار روتے ہوئے آگے بڑھے، وہ کہہ رہے تھے: اللہ تعالیٰ کی قسم! ہم نے کہا جو کہا محض اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شدید چاہت (اور ان کی معیت سے محرومی کے خوف) کی وجہ سے کہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ اور اس کا رسول تمہاری تصدیق کرتے ہیں اور تمہارا عذر قبول کرتے ہیں۔“ پھر لوگ ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف آ گئے اور لوگوں نے اپنے دروازے بند کر لیے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجراسود کے پاس تشریف لے آئے اور اس کو چوما، پھر بیت اللہ کا طواف کیا، پھر آپ بیت اللہ کے پہلو میں ایک بت کے پاس آئے، لوگ اس کی پوجا کیا کرتے تھے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں کمان تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ایک طرف سے پکڑا ہوا تھا، جب آپ بت کے پاس آئے تو اس کی آنکھ میں چبھونے لگے اور فرمانے لگے: ”حق آ گیا اور باطل مٹ گیا۔“ جب اپنے طواف سے فارغ ہوئے تو کوہِ صفا پر آئے، اس پر چڑھے یہاں تک کہ بیت اللہ کی طرف نظر اٹھائی اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، پھر اللہ تعالیٰ کی حمد کرنے لگے اور اللہ سے جو مانگنا چاہا وہ مانگنے لگے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجهاد والسير / حدیث: 1780
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1780
وحَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ ، ثُمّ قَالَ : بِيَدَيْهِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى احْصُدُوهُمْ حَصْدًا ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ : قَالُوا : قُلْنَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَمَا اسْمِي إِذًا كَلَّا إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ .
بہز نے کہا: سلیمان بن مغیرہ نے ہمیں اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، انہوں نے حدیث میں (یہ) اضافہ کیا: آپ نے دونوں ہاتھوں سے، ایک کو دوسرے کے ساتھ پھیرتے ہوئے اشارہ کیا: ان کو اسی طرح کاٹ ڈالو جس طرح فصل کاٹی جاتی ہے۔ انہوں نے حدیث میں (یہ بھی) کہا: ان لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم نے یہ کہا تھا۔ آپ نے فرمایا: ”تو پھر میرا نام کیا ہو گا؟ ہرگز نہیں، میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجهاد والسير / حدیث: 1780
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1780
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، قَالَ : " وَفَدْنَا إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، وَفِينَا أَبُو هُرَيْرَةَ فَكَانَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا يَصْنَعُ طَعَامًا يَوْمًا لِأَصْحَابِهِ ، فَكَانَتْ نَوْبَتِي ، فَقُلْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ : الْيَوْمُ نَوْبَتِي ، فَجَاءُوا إِلَى الْمَنْزِلِ وَلَمْ يُدْرِكْ طَعَامُنَا ، فَقُلْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ : لَوْ حَدَّثْتَنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يُدْرِكَ طَعَامُنَا ، فَقَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ ، فَجَعَلَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ عَلَى الْمُجَنِّبَةِ الْيُمْنَى ، وَجَعَلَ الزُّبَيْرَ عَلَى الْمُجَنِّبَةِ الْيُسْرَى ، وَجَعَلَ أَبَا عُبَيْدَةَ عَلَى الْبَيَاذِقَةِ وَبَطْنِ الْوَادِي ، فَقَالَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ : ادْعُ لِي الْأَنْصَارَ ، فَدَعَوْتُهُمْ فَجَاءُوا يُهَرْوِلُونَ ، فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ : هَلْ تَرَوْنَ أَوْبَاشَ قُرَيْشٍ ؟ ، قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : انْظُرُوا إِذَا لَقِيتُمُوهُمْ غَدًا أَنْ تَحْصُدُوهُمْ حَصْدًا ، وَأَخْفَى بِيَدِهِ وَوَضَعَ يَمِينَهُ عَلَى شِمَالِهِ ، وَقَالَ : مَوْعِدُكُمْ الصَّفَا ، قَالَ : فَمَا أَشْرَفَ يَوْمَئِذٍ لَهُمْ أَحَدٌ إِلَّا أَنَامُوهُ ، قَالَ وَصَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّفَا ، وَجَاءَتْ الْأَنْصَارُ ، فَأَطَافُوا بِالصَّفَا فَجَاءَ أَبُو سُفْيَانَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُبِيدَتْ خَضْرَاءُ قُرَيْشٍ لَا قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ ، قَالَ أَبُو سُفْيَانَ : ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ ، وَمَنْ أَلْقَى السِّلَاحَ فَهُوَ آمِنٌ ، وَمَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ ، فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ : أَمَّا الرَّجُلُ فَقَدْ أَخَذَتْهُ رَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ وَرَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ ، وَنَزَلَ الْوَحْيُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قُلْتُمْ أَمَّا الرَّجُلُ فَقَدْ أَخَذَتْهُ رَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ وَرَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ ، أَلَا فَمَا اسْمِي إِذًا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ أَنَا مُحَمَّدٌ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ هَاجَرْتُ إِلَى اللَّهِ ، وَإِلَيْكُمْ فَالْمَحْيَا مَحْيَاكُمْ وَالْمَمَاتُ مَمَاتُكُمْ ، قَالُوا : وَاللَّهِ مَا قُلْنَا إِلَّا ضِنًّا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ، قَالَ : فَإِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُصَدِّقَانِكُمْ وَيَعْذِرَانِكُمْ " .
ہمیں حماد بن سلمہ نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں ثابت نے عبداللہ بن رباح سے خبر دی، انہوں نے کہا: ہم بطور وفد حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، اور ہم لوگوں میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، ہم میں سے ہر آدمی ایک دن اپنے ساتھیوں کے لیے کھانا بناتا، ایک دن میری باری تھی، میں نے کہا: ابوہریرہ ! آج میری باری ہے، وہ سب میرے ٹھکانے پر آئے اور ابھی کھانا نہیں آیا تھا۔ میں نے کہا: ابوہریرہ ! کاش آپ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث سنائیں یہاں تک کہ کھانا آ جائے۔ انہوں نے کہا: ہم فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو دائیں بازو (میمنہ) پر (امیر) مقرر کیا اور زبیر رضی اللہ عنہ کو بائیں بازو (میسرہ) پر اور ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو پیادوں پر اور وادی کے اندر (کے راستے) پر تعینات کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوہریرہ! انصار کو بلاؤ۔“ میں نے ان کو بلایا، وہ دوڑتے ہوئے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار کے لوگو! کیا تم قریش کے اوباشوں کو دیکھ رہے ہو؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیکھو! کل جب تمہارا ان سے سامنا ہو تو ان کو اس طرح کاٹ دینا جس طرح فصل کاٹی جاتی ہے“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوشیدہ رکھتے ہوئے ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا اور داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا۔ اور فرمایا: ”اب تم سے ملاقات کا وعدہ کوہِ صفا پر ہے۔“ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تو اس روز جس کسی نے سر اٹھایا، انہوں نے اس کو سلا دیا، (یعنی مار ڈالا۔) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑ پر چڑھے، انصار آئے، انہوں نے صفا کو گھیر لیا، اتنے میں ابوسفیان رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! قریش کی جماعت مٹا دی گئی، آج سے قریش نہ رہے۔ ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی ابوسفیان کے گھر میں چلا گیا اس کو امن ہے اور جو ہتھیار ڈال دے اس کو بھی امن ہے اور جو اپنا دروازہ بند کر لے اس کو بھی امن ہے۔“ انصار نے کہا: آپ پر اپنے عزیزوں کی محبت اور اپنے شہر کی الفت غالب آ گئی ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگوں نے کہا: مجھ پر کنبے والوں کی محبت اور اپنے شہر کی الفت غالب آ گئی ہے، دیکھو! پھر (اس صورت میں) میرا نام کیا ہو گا؟“ آپ نے تین بار فرمایا:۔۔ ”میں محمد اللہ تعالیٰ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ میں نے اللہ کے لیے تمہاری طرف ہجرت کی، تو اب زندگی تمہاری زندگی (کے ساتھ) ہے اور موت تمہاری موت (کے ساتھ) ہے۔“ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم نے یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شدید چاہت (اور آپ کی معیت سے محرومی کے خوف) کے علاوہ کسی وجہ سے نہیں کہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اللہ اور اس کا رسول دونوں تم کو سچا جانتے ہیں اور تمہارا عذر قبول کرتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجهاد والسير / حدیث: 1780
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»