کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: جو مال کافروں کا بغیر لڑائی کے ہاتھ آئے اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 1756
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّمَا قَرْيَةٍ أَتَيْتُمُوهَا وَأَقَمْتُمْ فِيهَا ، فَسَهْمُكُمْ فِيهَا وَأَيُّمَا قَرْيَةٍ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، فَإِنَّ خُمُسَهَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ ثُمَّ هِيَ لَكُمْ " .
ہمام بن منبہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں، پھر انہوں نے چند احادیث ذکر کیں، ان میں سے یہ بھی تھی: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ جس بستی میں آؤ اور اس میں قیام کرو (بغیر جنگ کے تمہاری تحویل میں آ جائے) تو اس میں تمہارے لیے (دوسرے مسلمانوں کی طرح ایک) حصہ ہے اور جس بستی نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی (اور تم نے لڑ کر اسے حاصل کیا) تو اس کا خمس اللہ اور اس کے رسول کا حصہ ہے، پھر وہ (باقی سب) تمہارا ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجهاد والسير / حدیث: 1756
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1757
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : " كَانَتْ أَمْوَالُ بَنِي النَّضِيرِ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِمَّا لَمْ يُوجِفْ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ بِخَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ ، فَكَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً ، فَكَانَ يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةَ سَنَةٍ وَمَا بَقِيَ يَجْعَلُهُ فِي الْكُرَاعِ وَالسِّلَاحِ عُدَّةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ " ،
قتیبہ بن سعید، محمد بن عباد، ابوبکر بن ابی شیبہ اور اسحاق بن ابراہیم نے ہمیں حدیث بیان کی، الفاظ ابن ابی شیبہ کے ہیں۔ اسحاق نے کہا کہ ہمیں خبر دی، جبکہ دوسروں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی سفیان نے عمرو سے، انہوں نے زہری سے، انہوں نے مالک بن اوس سے اور انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: بنونضیر کے اموال ان اموال میں سے تھے جو اللہ نے اپنے رسول کو (بطور فے) عطا کیے جس پر مسلمانوں نے نہ گھوڑے دوڑائے نہ اونٹ۔ تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص تھے۔ آپ (ان میں سے) اپنے اہل و عیال کے لیے ایک سال کا خرچ لیتے اور جو بچ جاتا اسے اللہ کی راہ میں (جہاد کی) تیاری کے لیے جنگی سواریوں اور اسلحے پر لگا دیتے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجهاد والسير / حدیث: 1757
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1757
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ .
معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ روایت کی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجهاد والسير / حدیث: 1757
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1757
وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ : أَنَّ مَالِكَ بْنَ أَوْسٍ حَدَّثَهُ ، قَالَ : " أَرْسَلَ إِلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَجِئْتُهُ حِينَ تَعَالَى النَّهَارُ ، قَالَ : فَوَجَدْتُهُ فِي بَيْتِهِ جَالِسًا عَلَى سَرِيرٍ مُفْضِيًا إِلَى رُمَالِهِ مُتَّكِئًا عَلَى وِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ ، فَقَالَ لِي : يَا مَالُ إِنَّهُ قَدْ دَفَّ أَهْلُ أَبْيَاتٍ مِنْ قَوْمِكَ وَقَدْ أَمَرْتُ فِيهِمْ بِرَضْخٍ فَخُذْهُ ، فَاقْسِمْهُ بَيْنَهُمْ ، قَالَ : قُلْتُ : لَوْ أَمَرْتَ بِهَذَا غَيْرِي ، قَالَ : خُذْهُ يَا مَالُ ، قَالَ : فَجَاءَ يَرْفَا ، فَقَالَ : هَلْ لَكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فِي عُثْمَانَ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، وَالزُّبَيْرِ ، وَسَعْدٍ ؟ ، فَقَالَ عُمَرُ : نَعَمْ فَأَذِنَ لَهُمْ ، فَدَخَلُوا ثُمَّ جَاءَ ، فَقَالَ : هَلْ لَكَ فِي عَبَّاسٍ ، وَعَلِيٍّ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، فَأَذِنَ لَهُمَا ، فَقَالَ عَبَّاسٌ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، اقْضِ بَيْنِي وَبَيْنَ هَذَا الْكَاذِبِ الْآثِمِ الْغَادِرِ الْخَائِنِ ، فَقَالَ : الْقَوْمُ أَجَلْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، فَاقْضِ بَيْنَهُمْ وَأَرِحْهُمْ ، فَقَالَ مَالِكُ بْنُ أَوْسٍ : يُخَيَّلُ إِلَيَّ أَنَّهُمْ قَدْ كَانُوا قَدَّمُوهُمْ لِذَلِكَ ، فَقَالَ عُمَرُ : اتَّئِدَا أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ أَتَعْلَمُونَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ، قَالُوا : نَعَمْ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الْعَبَّاسِ ، وَعَلِيٍّ ، فَقَالَ : أَنْشُدُكُمَا بِاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ أَتَعْلَمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَاهُ صَدَقَةٌ ، قَالَا : نَعَمْ ، فَقَالَ عُمَرُ : إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَزَّ كَانَ خَصَّ رَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَاصَّةٍ لَمْ يُخَصِّصْ بِهَا أَحَدًا غَيْرَهُ ، قَالَ : مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ سورة الحشر آية 7 ، مَا أَدْرِي هَلْ قَرَأَ الْآيَةَ الَّتِي قَبْلَهَا أَمْ لَا ، قَالَ : فَقَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَكُمْ أَمْوَالَ بَنِي النَّضِيرِ ، فَوَاللَّهِ مَا اسْتَأْثَرَ عَلَيْكُمْ وَلَا أَخَذَهَا دُونَكُمْ حَتَّى بَقِيَ هَذَا الْمَالُ ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَأْخُذُ مِنْهُ نَفَقَةَ سَنَةٍ ثُمَّ يَجْعَلُ مَا بَقِيَ أُسْوَةَ الْمَالِ ، ثُمَّ قَالَ : أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ أَتَعْلَمُونَ ذَلِكَ ؟ ، قَالُوا : نَعَمْ ، ثُمَّ نَشَدَ عَبَّاسًا ، وَعَلِيًّا بِمِثْلِ مَا نَشَدَ بِهِ الْقَوْمَ أَتَعْلَمَانِ ذَلِكَ ؟ ، قَالَا : نَعَمْ ، قَالَ : فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجِئْتُمَا تَطْلُبُ مِيرَاثَكَ مِنَ ابْنِ أَخِيكَ وَيَطْلُبُ هَذَا مِيرَاثَ امْرَأَتِهِ مِنْ أَبِيهَا ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَاهُ صَدَقَةٌ " ، فَرَأَيْتُمَاهُ كَاذِبًا آثِمًا غَادِرًا خَائِنًا وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّهُ لَصَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ ، ثُمَّ تُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ وَأَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَلِيُّ أَبِي بَكْرٍ ، فَرَأَيْتُمَانِي كَاذِبًا آثِمًا غَادِرًا خَائِنًا وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنِّي لَصَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ ، فَوَلِيتُهَا ثُمَّ جِئْتَنِي أَنْتَ وَهَذَا وَأَنْتُمَا جَمِيعٌ وَأَمْرُكُمَا وَاحِدٌ ، فَقُلْتُمَا : ادْفَعْهَا إِلَيْنَا ، فَقُلْتُ : إِنْ شِئْتُمْ دَفَعْتُهَا إِلَيْكُمَا ، عَلَى أَنَّ عَلَيْكُمَا عَهْدَ اللَّهِ أَنْ تَعْمَلَا فِيهَا بِالَّذِي كَانَ يَعْمَلُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخَذْتُمَاهَا بِذَلِكَ ، قَالَ : أَكَذَلِكَ ؟ ، قَالَا : نَعَمْ ، قَالَ : ثُمَّ جِئْتُمَانِي لِأَقْضِيَ بَيْنَكُمَا وَلَا وَاللَّهِ لَا أَقْضِي بَيْنَكُمَا بِغَيْرِ ذَلِكَ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ ، فَإِنْ عَجَزْتُمَا عَنْهَا فَرُدَّاهَا إِلَيَّ ،
حضرت مالک بن اوس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے مجھے پیغام ارسال کیا تو میں دن چڑھنے کے بعد ان کے پاس آیا تو میں نے انہیں اپنے گھر میں چار پائی کے بان پر چمڑے کے تکیہ کے ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے پایا تو انہوں نے مجھے کہا، اے مال یعنی اے مالک رضی اللہ تعالی عنہ تیری قوم کے کچھ لوگ تیزی سے آئے تھے میں نے انہیں تھوڑا سا عطیہ دینے کا حکم دیا ہے تو وہ لے لو اور ان میں بانٹ دو، میں نے کہا، اے کاش، آپ کسی اور کو حکم دیتے! انہوں نے کہا، اے مال، اسے لے لو، اتنے میں (ان کا غلام) یرفا آ گیا اور کہنے لگا، اے امیر المؤمنین! کیا آپ عثمان، عبدالرحمٰن بن عوف، زبیر اور سعد رضی اللہ تعالی عنہم کو اجازت دینے کے لیے تیار ہیں؟ اس پر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، ہاں، تو اس نے انہیں اجازت دے دی، وہ اندر آ گئے، پھر غلام دوبارہ آ کر کہنے لگا کیا آپ عباس اور علی رضی اللہ تعالی عنہ کو اجازت دینے پر رضامند ہیں؟ انہوں نے کہا، ہاں، تو اس نے ان دونوں کو اجازت دے دی تو حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے آ کر کہا، اے امیر المؤمنین، آپ میرے اور اس جھوٹے گناہ گار، عہد شکن اور خائن کا فیصلہ کر دیں، باقی صحابہ نے بھی ان کی تائید کی کہ اے امیر المؤمنین! ان کے درمیان فیصلہ کر دیجئے اور ان کو راحت بخشیے، حضرت مالک بن اوس رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں، مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے (عباس، علی رضی اللہ تعالی عنہما نے) انہیں آگے بھیجا تھا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، ذرا ٹھہر جاؤ، میں تم سے اس اللہ کے نام پر سوال کرتا ہوں، جس کے حکم سے آسمان اور زمین قائم ہیں، کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارا وارث نہیں بنایا جائے گا ہم نے جو کچھ چھوڑا صدقہ ہو گا؟‘‘ سب نے کہا، جی ہاں، پھر وہ حضرت عباس اور علی رضی اللہ تعالی عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا، میں تمہیں اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، جس کی اجازت سے آسمان اور زمین قائم ہیں، کیا تم دونوں جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارا وارث نہیں بنایا جائے گا، جو کچھ ہم نے چھوڑا، وہ صدقہ ہو گا۔‘‘ دونوں نے کہا، ہاں، تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، اللہ عزت و جلال والے نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک چیز خاص کی تھی، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی کے لیے خاص نہیں کی گئی تھی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اللہ نے بستیوں والوں کی طرف سے اپنے رسول کی طرف جو کچھ لوٹایا ہے تو وہ اللہ اور اس کے رسول کا ہے،‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجهاد والسير / حدیث: 1757
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1757
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، قَالَ : أَرْسَلَ إِلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ : إِنَّهُ قَدْ حَضَرَ أَهْلُ أَبْيَاتٍ مِنْ قَوْمِكَ ، بِنَحْوِ حَدِيثِ مَالِكٍ غَيْرَ أَنَّ فِيهِ ، فَكَانَ يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ مِنْهُ سَنَةً ، وَرُبَّمَا قَالَ : مَعْمَرٌ يَحْبِسُ قُوتَ أَهْلِهِ مِنْهُ سَنَةً ثُمَّ يَجْعَلُ مَا بَقِيَ مِنْهُ مَجْعَلَ مَالِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ .
معمر نے ہمیں زہری سے خبر دی، انہوں نے مالک بن اوس بن حدثان سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے میری طرف پیغام بھیجا اور کہا: تمہاری قوم میں سے کچھ گھرانوں کے لوگ آئے تھے۔۔ مالک کی حدیث کی طرح، البتہ انہوں نے اس میں کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے سال بھر اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتے۔ اور (حدیث بیان کرتے ہوئے) بسا اوقات معمر نے کہا: آپ اس سے اپنے گھر والوں کی سال بھر کی کم از کم خوراک الگ کر لیتے، پھر جو بچتا اسے اللہ کے مال (بیت المال) کے مصارف پر لگاتے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجهاد والسير / حدیث: 1757
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»