کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: قاتلوں کو مقتول کا سامان دلانا۔
حدیث نمبر: 1751
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيِّ وَكَانَ جَلِيسًا لِأَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو قَتَادَةَ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ ،
ہشیم نے یحییٰ بن سعید سے، انہوں نے عمر بن کثیر بن افلح سے اور انہوں نے ابومحمد انصاری سے روایت کی اور وہ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے ہم نشیں تھے، انہوں نے کہا: حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا۔۔ اور انہوں (ابومحمد) نے حدیث بیان کی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجهاد والسير / حدیث: 1751
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1751
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ : أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ ، قَالَ : وَسَاقَ الْحَدِيثَ ،
لیث نے یحییٰ بن سعید سے، انہوں نے عمر بن کثیر بن افلح سے، انہوں نے ابومحمد (المعروف بہ) مولیٰ ابوقتادہ سے روایت کی کہ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا۔۔ اور حدیث بیان کی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجهاد والسير / حدیث: 1751
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1751
وحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ وَاللَّفْظُ لَهُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حُنَيْنٍ ، فَلَمَّا الْتَقَيْنَا كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ جَوْلَةٌ ، قَالَ : فَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ عَلَا رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، فَاسْتَدَرْتُ إِلَيْهِ حَتَّى أَتَيْتُهُ مِنْ وَرَائِهِ فَضَرَبْتُهُ عَلَى حَبْلِ عَاتِقِهِ وَأَقْبَلَ عَلَيَّ ، فَضَمَّنِي ضَمَّةً وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ الْمَوْتِ ثُمَّ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ ، فَأَرْسَلَنِي ، فَلَحِقْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ : مَا لِلنَّاسِ ؟ ، فَقُلْتُ : أَمْرُ اللَّهِ ، ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ رَجَعُوا وَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ ، قَالَ : فَقُمْتُ ، فَقُلْتُ : مَنْ يَشْهَدُ لِي ، ثُمَّ جَلَسْتُ ، ثُمَّ قَالَ : مِثْلَ ذَلِكَ ، فَقَالَ : فَقُمْتُ ، فَقُلْتُ مَنْ يَشْهَدُ لِي ، ثُمَّ جَلَسْتُ ، ثُمَّ قَالَ : ذَلِكَ الثَّالِثَةَ ، فَقُمْتُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا لَكَ يَا أَبَا قَتَادَةَ ؟ ، فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : صَدَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، سَلَبُ ذَلِكَ الْقَتِيلِ عِنْدِي فَأَرْضِهِ مِنْ حَقِّهِ ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ : لَا هَا اللَّهِ إِذًا لَا يَعْمِدُ إِلَى أَسَدٍ مِنْ أُسُدِ اللَّهِ ، يُقَاتِلُ عَنِ اللَّهِ وَعَنْ رَسُولِهِ ، فَيُعْطِيكَ سَلَبَهُ ؟ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صَدَقَ فَأَعْطِهِ إِيَّاهُ " ، فَأَعْطَانِي ، قَالَ : فَبِعْتُ الدِّرْعَ فَابْتَعْتُ بِهِ مَخْرَفًا فِي بَنِي سَلِمَةَ فَإِنَّهُ لَأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ فِي الْإِسْلَامِ ، وَفِي حَدِيثِ اللَّيْثِ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : كَلَّا لَا يُعْطِيهِ أُضَيْبِعَ مِنْ قُرَيْشٍ وَيَدَعُ أَسَدًا مِنْ أُسُدِ اللَّهِ ، وَفِي حَدِيثِ اللَّيْثِ لَأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ .
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم جنگ حنین کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، تو جب دشمن کے ساتھ ہماری مڈبھیڑ ہوئی تو مسلمان بھاگ کھڑے ہوئے (پھر حملہ کیا) تو میں نے ایک مشرک آدمی کو دیکھا، وہ ایک مسلمان پر غلبہ پا رہا ہے تو میں اس کی طرف گھوم گیا حتی کہ اس کے پیچھے سے آ گیا اور اس کے شانہ کے پٹھے پر تلوار ماری اور وہ میری طرف بڑھا اور مجھے اس قدر زور سے بھینچا کہ مجھے موت نظر آنے لگی، پھر اسے موت نے آ لیا اور اس نے مجھے چھوڑ دیا، میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس پہنچا تو انہوں نے پوچھا، لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ میں نے عرض کیا، اللہ کو یہی منظور ہے، پھر لوگ واپس پلٹے، (دشمن کے مقابلہ میں آئے اور جنگ کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور آپﷺ نے فرمایا: ”جس شخص نے کسی کو قتل کیا ہے اور اس پر شہادت موجود ہے تو مقتول سے چھینا ہوا مال اس (قاتل) کو ملے گا۔‘‘ تو میں کھڑا ہو گیا، پھر میں نے سوچا، میرے حق میں گواہی کون دے گا؟ اس لیے میں بیٹھ گیا، پھر آپﷺ نے اپنی بات دہرائی تو میں کھڑا ہو گیا، پھر میں نے اپنے آپ سے پوچھا، میرے حق میں گواہی کون دے گا؟ پھر میں بیٹھ گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی بات فرمائی، تیسری مرتبہ تو میں کھڑا ہوا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا معاملہ ہے؟ اے ابو قتادہ‘‘ تو میں نے آپﷺ کو مکمل واقعہ سنا دیا تو لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا، اے اللہ کے رسولﷺ! اس نے سچ کہا ہے، اس مقتول سے چھینا ہوا مال میرے پاس ہے تو اس کو اس کے حق کے سلسلہ میں راضی کر دیں کہ یہ مجھے بخوشی دے دے۔ اور ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، نہیں، اللہ کی قسم! ایسی صورت میں، آپ اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر کی طرف اس لیے رخ نہ فرمائیں گے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے لڑے اور آپﷺ اس کی سلب تجھے دے دیں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر نے سچ کہا، سلب اسے دے دو۔‘‘ تو اس نے سلب مجھے دے دی تو میں نے وہ زرہ فروخت کر کے اس کے عوض بنو سلمہ میں ایک باغ خرید لیا اور وہ سب سے پہلا مال تھا، جو میں نے اسلام کے دور میں حاصل کیا اور لیث کی حدیث میں یہ ہے کہ ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، ہرگز نہیں، آپ وہ مال قریش کی ایک لومڑی کو نہیں دیں گے کہ اس کی خاطر اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر کو نظرانداز کر دیں اور لیث کی حدیث میں ہے، وہ پہلا مال تھا جو میں نے سمیٹا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجهاد والسير / حدیث: 1751
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1752
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " بَيْنَا أَنَا وَاقِفٌ فِي الصَّفِّ يَوْمَ بَدْرٍ نَظَرْتُ عَنْ يَمِينِي وَشِمَالِي ، فَإِذَا أَنَا بَيْنَ غُلَامَيْنِ مِنْ الْأَنْصَارِ حَدِيثَةٍ أَسْنَانُهُمَا تَمَنَّيْتُ لَوْ كُنْتُ بَيْنَ أَضْلَعَ مِنْهُمَا ، فَغَمَزَنِي أَحَدُهُمَا ، فَقَالَ : يَا عَمِّ هَلْ تَعْرِفُ أَبَا جَهْلٍ ، قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، وَمَا حَاجَتُكَ إِلَيْهِ يَا ابْنَ أَخِي ؟ ، قَالَ : أُخْبِرْتُ أَنَّهُ يَسُبُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَئِنْ رَأَيْتُهُ لَا يُفَارِقُ سَوَادِي سَوَادَهُ حَتَّى يَمُوتَ الْأَعْجَلُ مِنَّا ، قَالَ : فَتَعَجَّبْتُ لِذَلِكَ ، فَغَمَزَنِي الْآخَرُ ، فَقَالَ : مِثْلَهَا قَالَ : فَلَمْ أَنْشَبْ أَنْ نَظَرْتُ إِلَى أَبِي جَهْلٍ يَزُولُ فِي النَّاسِ ، فَقُلْتُ : أَلَا تَرَيَانِ هَذَا صَاحِبُكُمَا الَّذِي تَسْأَلَانِ عَنْهُ ؟ ، قَالَ : فَابْتَدَرَاهُ فَضَرَبَاهُ بِسَيْفَيْهِمَا حَتَّى قَتَلَاهُ ، ثُمَّ انْصَرَفَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَاهُ ، فَقَالَ : أَيُّكُمَا قَتَلَهُ ، فَقَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا : أَنَا قَتَلْتُ ، فَقَالَ : هَلْ مَسَحْتُمَا سَيْفَيْكُمَا ؟ ، قَالَا : لَا ، فَنَظَرَ فِي السَّيْفَيْنِ ، فَقَالَ : كِلَاكُمَا قَتَلَهُ " ، وَقَضَى بِسَلَبِهِ لِمُعَاذِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ ، وَالرَّجُلَانِ مُعَاذُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ ، وَمُعَاذُ بْنُ عَفْرَاءَ .
حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں غزوہ بدر کے موقع پر صف میں کھڑا ہوا تھا، اس اثناء میں میں نے اپنے دائیں اور بائیں دیکھا تو میں دو نو عمر انصاری لڑکوں کے درمیان تھا، میں نے آرزو کی، اے کاش، میں ان سے زور آور، طاقتور آدمیوں کے درمیان ہوتا تو ان میں سے ایک نے مجھے دبایا، (کچوکا لگایا) اور پوچھا، اے چچا جان! کیا آپ ابوجہل کو پہچانتے ہیں؟ میں نے کہا، ہاں اور تجھے اس سے کیا کام ہے؟ اے میرے بھتیجے، اس نے جواب دیا، مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہتا ہے اور اس ذات کی قسم، جس کے قبضہ میں میری جان ہے، اگر میں نے اسے دیکھ لیا، تو میں اس سے اس وقت تک جدا نہیں ہوں گا، جب تک ہم میں سے وہ مر نہ جائے، جس کی موت پہلے آنی ہے تو مجھے اس کی اس بات سے حیرت ہوئی، اتنے میں مجھے دوسرے نے دبایا اور پہلے والی بات کہی، تھوڑا ہی وقت گزرا تھا کہ میں نے ابوجہل کو لوگوں میں گھومتے پھرتے دیکھا تو میں نے کہا، کیا دیکھ رہے ہو؟ یہی وہ شخص ہے جس کے بارے میں تم دونوں پوچھ رہے تھے تو وہ دونوں اس پر جھپٹے اور اپنی اپنی تلوار سے اسے نشانہ بنایا حتی کہ اسے قتل کر دیا، (قریب الموت کر دیا) پھر دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پلٹے اور آپﷺ کو اطلاع دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم میں سے کس نے اسے قتل کیا ہے؟‘‘ تو ان میں سے ہر ایک نے کہا، میں نے قتل کیا ہے تو آپ نے پوچھا: ”کیا تم نے اپنی تلواریں صاف کر لی ہیں؟‘‘ ان دونوں نے کہا، جی نہیں، تو آپﷺ نے دونوں کی تلواروں کو دیکھا اور فرمایا: ”دونوں نے قتل کرنے کی کوشش کی ہے۔‘‘ اور آپﷺ نے اس کی سلب کا فیصلہ معاذ بن عمرو بن جموح کے حق میں دیا، (اور وہ دونوں معاذ بن عمرو بن جموح اور معاذ بن عفراء تھے)
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجهاد والسير / حدیث: 1752
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1753
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " قَتَلَ رَجُلٌ مِنْ حِمْيَرَ رَجُلًا مِنَ الْعَدُوِّ ، فَأَرَادَ سَلَبَهُ ، فَمَنَعَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَكَانَ وَالِيًا عَلَيْهِمْ ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ لِخَالِدٍ : مَا مَنَعَكَ أَنْ تُعْطِيَهُ سَلَبَهُ ؟ ، قَالَ : اسْتَكْثَرْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : ادْفَعْهُ إِلَيْهِ ، فَمَرَّ خَالِدٌ ، بِعَوْفٍ فَجَرَّ بِرِدَائِهِ ، ثُمَّ قَالَ : هَلْ أَنْجَزْتُ لَكَ مَا ذَكَرْتُ لَكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، فَسَمِعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتُغْضِبَ ، فَقَالَ : لَا تُعْطِهِ يَا خَالِدُ لَا تُعْطِهِ يَا خَالِدُ ، هَلْ أَنْتُمْ تَارِكُونَ لِي أُمَرَائِي ؟ إِنَّمَا مَثَلُكُمْ وَمَثَلُهُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتُرْعِيَ إِبِلًا أَوْ غَنَمًا ، فَرَعَاهَا ثُمَّ تَحَيَّنَ سَقْيَهَا فَأَوْرَدَهَا حَوْضًا ، فَشَرَعَتْ فِيهِ ، فَشَرِبَتْ صَفْوَهُ وَتَرَكَتْ كَدْرَهُ فَصَفْوُهُ لَكُمْ وَكَدْرُهُ عَلَيْهِمْ " ،
معاویہ بن صالح نے عبدالرحمان بن جبیر سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: حمیر کے ایک آدمی نے دشمن کے ایک آدمی کو قتل کر دیا اور اس کا سلب (مقتول کا سازوسامان) لینا چاہا تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے انہیں منع کر دیا اور وہ ان پر امیر تھے، چنانچہ عوف بن مالک رضی اللہ عنہ (اپنے حمیری ساتھی کی حمایت کے لیے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو بتایا تو آپ نے خالد رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”تمہیں اس کے مقتول کا سامان اسے دینے سے کیا امر مانع ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: اللہ کے رسول! میں نے اسے زیادہ سمجھا۔ آپ نے فرمایا: ”وہ (سامان) ان کے حوالے کر دو۔“ اس کے بعد حضرت خالد رضی اللہ عنہ حضرت عوف رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو انہوں نے ان کی چادر کھینچی اور کہا: کیا میں نے پورا کر دیا جو میں نے آپ کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کہا تھا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بات سن لی تو آپ کو غصہ آ گیا اور فرمایا: ”خالد! اسے مت دو، خالد! اسے مت دو۔ کیا تم میرے (مقرر کیے ہوئے) امیروں کو میرے لیے چھوڑ سکتے ہو (کہ میں اصلاح کروں، تم طعن و تشنیع نہ کرو!) تمہاری اور ان کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جسے اونٹوں یا بکریوں کا چرواہا بنایا گیا، اس نے انہیں چرایا، پھر ان کو پانی پلانے کے وقت کا انتظار کیا اور انہیں حوض پر لے گیا، انہوں نے اس میں سے پینا شروع کیا تو انہوں نے اس کا صاف پانی پی لیا اور گدلا چھوڑ دیا تو صاف پانی تمہارے لیے ہے اور گدلا ان کا۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجهاد والسير / حدیث: 1753
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1753
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ مَنْ خَرَجَ مَعَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ فِي غَزْوَةِ مُؤْتَةَ ، وَرَافَقَنِي مَدَدِيٌّ مِنْ الْيَمَنِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ غَيْرَ ، أَنَّهُ قَالَ : فِي الْحَدِيثِ ، قَالَ عَوْفٌ : فَقُلْتُ يَا خَالِدُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالسَّلَبِ لِلْقَاتِلِ ، قَالَ : بَلَى وَلَكِنِّي اسْتَكْثَرْتُهُ .
صفوان بن عمرو نے عبدالرحمان بن جبیر بن نفیر سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں غزوہ موتہ میں حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ جانے والوں کے ساتھ روانہ ہوا، یمن سے مدد کے لیے آنے والا ایک آدمی بھی میرا رفیق سفر ہوا۔۔، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی طرح حدیث بیان کی، البتہ انہوں نے حدیث میں کہا: عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے کہا: خالد! کیا آپ کو معلوم نہیں تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلب (مقتول کے سازوسامان) کا فیصلہ قاتل کے حق میں کیا تھا؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں! لیکن میں نے اسے زیادہ خیال کیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجهاد والسير / حدیث: 1753
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1754
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنِي أَبِي سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ ، قَالَ : " غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَوَازِنَ ، فَبَيْنَا نَحْنُ نَتَضَحَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ ، فَأَنَاخَهُ ثُمَّ انْتَزَعَ طَلَقًا مِنْ حَقَبِهِ ، فَقَيَّدَ بِهِ الْجَمَلَ ثُمَّ تَقَدَّمَ يَتَغَدَّى مَعَ الْقَوْمِ وَجَعَلَ يَنْظُرُ وَفِينَا ضَعْفَةٌ وَرِقَّةٌ فِي الظَّهْرِ وَبَعْضُنَا مُشَاةٌ ، إِذْ خَرَجَ يَشْتَدُّ ، فَأَتَى جَمَلَهُ ، فَأَطْلَقَ قَيْدَهُ ثُمَّ أَنَاخَهُ وَقَعَدَ عَلَيْهِ ، فَأَثَارَهُ فَاشْتَدَّ بِهِ الْجَمَلُ فَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ عَلَى نَاقَةٍ وَرْقَاءَ ، قَالَ سَلَمَةُ : وَخَرَجْتُ أَشْتَدُّ ، فَكُنْتُ عِنْدَ وَرِكِ النَّاقَةِ ثُمَّ تَقَدَّمْتُ حَتَّى كُنْتُ عِنْدَ وَرِكِ الْجَمَلِ ، ثُمَّ تَقَدَّمْتُ حَتَّى أَخَذْتُ بِخِطَامِ الْجَمَلِ ، فَأَنَخْتُهُ فَلَمَّا وَضَعَ رُكْبَتَهُ فِي الْأَرْضِ اخْتَرَطْتُ سَيْفِي ، فَضَرَبْتُ رَأْسَ الرَّجُلِ فَنَدَرَ ثُمَّ جِئْتُ بِالْجَمَلِ أَقُودُهُ عَلَيْهِ رَحْلُهُ وَسِلَاحُهُ ، فَاسْتَقْبَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ ، فَقَالَ : مَنْ قَتَلَ الرَّجُلَ ؟ ، قَالُوا : ابْنُ الْأَكْوَعِ ، قَالَ : لَهُ سَلَبُهُ أَجْمَعُ " .
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں ہوازن سے جنگ لڑی اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صبح کا کھانا کھا رہے تھے کہ اس دوران ایک آدمی سرخ اونٹ پر آیا اور اس نے اسے بٹھا دیا اور اپنی کمر سے اس کے لیے تسمہ نکال کر اس کے ساتھ اونٹ کو باندھ دیا، پھر لوگوں کے ساتھ صبح کا کھانا کھانے کے لیے آگے بڑھا اور جائزہ لینے لگا، ہم میں کمزور لوگ تھے یا کمزوری تھی اور سواریوں کی کمی تھی اور ہم میں سے بعض لوگ پیدل تھے، پھر اپنے اونٹ کے پاس آیا، اس کا تسمہ کھولا، پھر اسے بٹھایا اور اس پر سوار ہو گیا اور اسے اٹھایا اور اونٹ اسے لے کر دوڑ پڑا، ایک آدمی نے خاکستری اونٹنی پر اس کا تعاقب کیا اور میں اونٹنی کی سرین تک پہنچا، پھر آگے بڑھ گیا حتی کہ اونٹ کی سرین تک جا پہنچا، پھر آگے بڑھا حتی کہ میں نے اونٹ کی نکیل پکڑ کر اس کو بٹھا لیا تو جب اس نے اپنا گھٹنا زمین پر رکھا میں نے اپنی تلوار سونت لی اور اس آدمی کی گردن (سر) اڑا دی تو وہ گر پڑا، پھر میں اونٹ کو کھینچ لایا، اس کا پالان اور اسلحہ اس پر تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے ساتھ میرا استقبال کیا اور پوچھا، ”اس آدمی کو کس نے قتل کیا ہے۔‘‘ لوگوں نے کہا، ابن اکوع رضی اللہ تعالی عنہ نے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی تمام سلب اس کی ہے۔‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجهاد والسير / حدیث: 1754
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»