کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی اکرم محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے انبیاء کرام پر پانچ نمازیں فرض تھیں جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت پر فرض ہیں
حدیث نمبر: Q325
وَأَنَّ أَوْقَاتِ صَلَوَاتِهِمْ كَانَتْ أَوْقَاتِ النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ- صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – وَأُمَّتِهِ‏.‏
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
اور اُن کی نمازوں کے اوقات بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپکی اُمّت کے نمازوں کے اوقات والے تھے ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / كتاب‏:‏ الصلاة / حدیث: Q325
حدیث نمبر: 325
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جبرائیل نے بیت اللہ شریف کے پاس مُجھے دو دفعہ امامت کروائی ، تو اُنہوں نے مجھے ظہر کی نماز اُس وقت پڑھائی جب سورج تسمے کے برابر ڈھل گیا ۔ اور عصر کی نماز اُس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اُس کے برابر ہو گیا ۔ اور مغرب کی نماز اُس وقت پڑھائی جب روزے دار نے روزہ کھول لیا ۔ اور عشاء کی نماز اُس وقت پڑھائی جب سُرخی غائب ہو گئی۔ اور فجر کی نماز اُس وقت پڑھائی جب روزے دار پر کھانا پینا حرام ہوگیا ۔ اور دوسرے دن مجھے ظہر کی نماز اُس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اُس کے برابر ہوگیا ۔ اور عصر کی نماز اُس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس سے دُگنا ہوگیا، اور نماز مغرب اس وقت پڑھائی جب روزے دار نے روزہ افطار کرلیا ، اور عشاء کی نماز تہائی رات گزرنے پر پڑھائی اور صبح کی نماز روشنی ہونے کے بعد پڑھائی ۔ پھر میری طرف متوجہ ہوئے تو کہا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نماز کا وقت ان دو وقتوں کے درمیان ہے۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وقت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے انبیائے کرام علیہم السلام ( کی نماز ) کا وقت ہے ۔ یہ احمد بن عبدہ کی حدیث کے الفاظ ہیں ۔ وکیع کی روایت میں حکیم بن حکیم بن عباد بن حنیف ہے ۔ اما م رحمہ اللہ کے کلام جیسے وہ اس باب کے آخر پر ذکر کر چکے ہیں اُسے اس مقام پر لکھا جائے گا ان شاءاللہ ۔ ( یعنی امام صاحب کا گزشتہ تبصرہ اس جگہ درج کیا جائے گا۔ )
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / كتاب‏:‏ الصلاة / حدیث: 325
تخریج حدیث اسناده حسن صحيح