کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ اس سائل نے جس حدکا ارتکاب کیا تھا
حدیث نمبر: Q312
فَأَعْلَمَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ اللَّهَ قَدْ عَفَا عَنْهُ بِوُضُوئِهِ وَصَلَاتِهِ كَانَ مَعْصِيَةٌ ارْتَكَبَهَا دُونَ الزِّنَا الَّذِي يُوجِبُ الْحَدَّ ‏"‏ إِذْ كُلُّ مَا زَجَرَ اللَّهُ عَنْهُ قَدْ يَقَعُ عَلَيْهِ اسْمُ حَدٍّ،
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بتایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے وضو اور نماز کی ادائیگی سے معاف کردیا ہے وہ حد واجب کرنے والے زنا سے کم گناہ کا ارتکاب تھا
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / كتاب‏:‏ الصلاة / حدیث: Q312
حدیث نمبر: Q312
وَلَيْسَ اسْمُ الْحَدِّ إِنَّمَا يَقَعُ عَلَى مَا يُوجِبُ جَلْدًا أَوْ رَجْمًا أَوْ قَطْعًا قَطُّ‏.‏ قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي ذِكْرِ الْمُطَلَّقَةِ‏:‏ ‏[‏لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ ‏[‏اللَّهِ‏]‏ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ‏]‏ ‏[‏الطَّلَاقِ‏:‏ 1‏]‏ قَالَ‏:‏ ‏(‏تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا‏]‏ ‏[‏الْبَقَرَةِ‏:‏ 229‏]‏، فَكُلُّ مَا زَجَرَ اللَّهُ عَنْهُ فَاسْمُ الْحَدِّ وَاقِعٌ عَلَيْهِ، إِذِ اللَّهُ- عَزَّ وَجَلَّ- قَدْ أَمَرَ بِالْوُقُوفِ عِنْدَهُ فَلَا يُجَاوَزُ وَلَا يُتَعَدَّى
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
کیونکہ ہر وہ کام جس سے الله تعالیٰ سختی سے منع کریں اس پر حد کا اطلاق ہو جاتا ہے، حد صرف اس گناه ہی کو نہیں کہتے جو کوڑے ، رجم یا ہاتھ پاؤں کاٹنے کو واجب کر دیتا ہے، اللہ تعالی نے مطلقہ عورت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: « لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِن بُيُوتِهِنَّ .... فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ » [ سورة الطلاق ] ” تم اُنہیں اُن کے گھروں سے مت نکالو اور نہ وہ از خود نکلیں ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ کھلی برائی کر بیٹھیں یہ الله کی مقرر کردہ حدیں ہیں۔ جو شخص الله کی حدوں سے آگے بڑھ جائے اس نے یقیناً اپنے اوپر ظلم کیا۔ “ اور ارشاد باری تعالی ہے: « تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا » [ سورة البقرة ] ” یہ اللہ تعالی کی حدیں ہیں تو ان سے تجاوز نہ کرو۔“ لہذا جس کام سے اللہ تعالی نے ڈانٹا ہے اُس پر حد کا اطلاق ہوتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اُن حدوں پر ٹھرنے کا حُکم دیا ہے تو اُن سے تجاوز کیا جائے نہ آگے بڑھا جائے۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / كتاب‏:‏ الصلاة / حدیث: Q312
حدیث نمبر: 312
أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، قَالا : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، نا أَبُو عُثْمَانَ ، عَنِ ابْنُ مَسْعُودٍ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ لَهُ أَنَّهُ أَصَابَ مِنَ امْرَأَةٍ إِمَّا قُبْلَةً ، أَوْ مَسًّا بَيْدٍ ، أَوْ شَيْئًا كَأَنَّهُ يَسْأَلُ عَنْ كَفَّارَتِهَا ، قَالَ : فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ ، إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ، ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ سورة هود آية 114 ، قَالَ : فَقَالَ الرَّجُلُ : أَلِي هَذِهِ ؟ قَالَ : " هِيَ لِمَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ أُمَّتِي " . قَالَ : وَحَدَّثَنَاهُ الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدَ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ وَهُوَ التَّمِيمِيُّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، فَقَالَ : أَصَابَ مِنَ امْرَأَةٍ قُبْلَةً ، وَلَمْ يَشُكَّ ، وَلَمْ يَقُلْ كَأَنَّهُ يَسْأَلُ عَنْ كَفَّارَتِهَا
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اُس نے بتایا کہ اُس نے کسی عورت کا بوسہ لیا ہے یا ہاتھ سے اُسے چُھوا ہے یا کچھ اور کام کیا ہے۔ گویا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا کفّارہ پوچھ رہا تھا ۔ کہتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی « وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ اللَّيْلِ ۚ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ۚ ذَٰلِكَ ذِكْرَىٰ لِلذَّاكِرِينَ » [ سورة هود ] ” دن کے دونوں سروں اور رات کی گھڑیوں میں نماز قائم کرو ۔ یقیناًً ً نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں ۔ یہ نصیحت ہے نصیحت پکڑنے والوں کے لئے۔ “ کہتے ہیں کہ اُس شخص نے پوچھا ، کیا یہ صرف میرے لیے ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ میرے ہر اُمّتی کے لئے ہے جو اس پر عمل کرے ۔ “ امام ابوبکر رحمہ اللہ نے سلیمان تمیمی کی سند سے مذکورہ بالا روایت ہی کی طرح روایت بیان کی ہے ۔ اس میں ہے اُس نے ایک عورت کا بوسہ لیا ہے اس میں شک کے الفاظ بیان نہیں کیے ۔ اور نہ یہ الفاظ روایت کیے ہیں کہ گویا کہ وہ اس کا کفّارہ پوچھ رہا تھا ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / كتاب‏:‏ الصلاة / حدیث: 312
تخریج حدیث صحيح بخاري
حدیث نمبر: 313
نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، نا وَكِيعٌ ، نا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، وَالأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي لَقِيتُ امْرَأَةً فِي الْبُسْتَانِ ، فَضَمَمْتُهَا إِلَيَّ وَبَاشَرْتُهَا ، وَقَبَّلْتُهَا ، وَفَعَلْتُ بِهَا كُلَّ شَيْءٍ ، إِلا أَنِّي لَمْ أُجَامِعْهَا ، فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ : إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ، ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ سورة هود آية 114 ، فَدَعَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَرَأَهَا عَلَيْهِ ، فَقَالَ عُمَرَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَلَهُ خَاصَّةً أَوْ لِلنَّاسِ كَافَّةً ؟ فَقَالَ : " لا , بَلْ لِلنَّاسِ كَافَّةً "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکر صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو اُس نے کہا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، میں ایک عورت سے باغ میں ملا تو میں نے اُسے اپنے ساتھ چمٹالیا، اُس کے ساتھ پیار محبت کیا، اُسے بوسہ دیا اور اُس سے جماع کے سوا ہر کام کیا ہے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے، تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ” بیشک نیکیاں برائیوں کوختم کر دیتی ہیں ۔ یہ نصیحت پکڑنے والوں کے لئے نصیحت ہے۔ “ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے بلایا اور اُس پر یہ آیت تلاوت فرمائی ۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، کیا یہ حُکم اس کے لئے خاص ہے یا تمام لوگوں کے لئے ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بلکہ تمام لوگوں کے لئے ہے ۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / كتاب‏:‏ الصلاة / حدیث: 313
تخریج حدیث اسناده صحيح