حدیث نمبر: 1705
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ السُّدِّيِّ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : خَطَبَ عَلِيٌّ ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَقِيمُوا عَلَى أَرِقَّائِكُمُ الْحَدَّ مَنْ أَحْصَنَ مِنْهُمْ ، وَمَنْ لَمْ يُحْصِنْ ، فَإِنَّ أَمَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَنَتْ فَأَمَرَنِي أَنْ أَجْلِدَهَا ، فَإِذَا هِيَ حَدِيثُ عَهْدٍ بِنِفَاسٍ ، فَخَشِيتُ إِنْ أَنَا جَلَدْتُهَا أَنْ أَقْتُلَهَا ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَحْسَنْتَ " ،
زائدہ نے سُدی سے، انہوں نے سعد بن عبیدہ سے اور انہوں نے ابوعبدالرحمان سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے خطبہ دیا اور کہا: اے لوگو! اپنے غلاموں پر حد نافذ کرو، جو ان میں سے شادی شدہ ہوں اور جو شادی شدہ نہ ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کے خاندان) کی ایک لونڈی نے زنا کیا تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ اسے کوڑے لگاؤں، تو اچانک پتہ چلا کہ اسے نفاس (بچے کی ولادت سے خون آنے) کی حالت میں تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا۔ مجھے ڈر محسوس ہوا کہ اگر میں نے اسے کوڑے مارے تو میں اسے مار ڈالوں گا، چنانچہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات عرض کی، تو آپ نے فرمایا: ”تم نے اچھا کیا۔“
حدیث نمبر: 1705
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ السُّدِّيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَنْ أَحْصَنَ مِنْهُمْ ، وَمَنْ لَمْ يُحْصِنْ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ اتْرُكْهَا حَتَّى تَمَاثَلَ .
امام صاحب یہی روایت ایک اور استاد سے سدی کی مذکورہ بالا سند سے بیان کرتے ہیں اور اس میں یہ لفظ نہیں، وہ شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ اور یہ اضافہ ہے، ”اس کو چھوڑ دے حتی کہ وہ ٹھیک ہو جائے۔‘‘