حدیث نمبر: 1691
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : " أَتَى رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَنَادَاهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي زَنَيْتُ ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَتَنَحَّى تِلْقَاءَ وَجْهِهِ ، فَقَالَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي زَنَيْتُ ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ حَتَّى ثَنَى ذَلِكَ عَلَيْهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ ، فَلَمَّا شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ دَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَبِكَ جُنُونٌ ؟ ، قَالَ : لَا ، قَالَ : فَهَلْ أَحْصَنْتَ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ " ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : فَأَخْبَرَنِي مَنْ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : فَكُنْتُ فِيمَنْ رَجَمَهُ فَرَجَمْنَاهُ بِالْمُصَلَّى ، فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ هَرَبَ فَأَدْرَكْنَاهُ بِالْحَرَّةِ ، فَرَجَمْنَاهُ
عقیل (بن خالد اموی) نے ابن شہاب سے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمان بن عوف اور سعید بن مسیب سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: مسلمانوں میں سے ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ مسجد میں تشریف فرما تھے، اس نے آپ کو آواز دی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف سے منہ پھیر لیا، وہ گھوم کر ایک طرف سے آپ کے سامنے آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے۔ آپ نے (پھر) اس سے منہ پھر لیا حتی کہ اس نے آپ کے سامنے یہی کلمات چار مرتبہ دہرائے۔ جب اس نے اپنے خلاف چار گواہیاں دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور پوچھا: ”کیا تمہیں جنون ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے پوچھا: ”کیا تم نے شادی کی ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لے جاؤ اور رجم کرو۔“ ابن شہاب نے کہا: مجھے اس آدمی نے بتایا جس نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی تھی، وہ کہہ رہے تھے: میں بھی ان لوگوں میں تھا جنہوں نے اسے رجم کیا، ہم نے اسے جنازہ گاہ میں رجم کیا تھا، جب پتھروں نے اس کی برداشت ختم کر دی تو وہ بھاگ نکلا، ہم نے اسے سیاہ پتھروں والی زمین میں جا لیا اور رجم کر دیا۔
حدیث نمبر: 1691
وَرَوَاهُ اللَّيْثُ أَيْضًا ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ ،
یہی روایت، امام لیث، زہری ہی کی سند سے بیان کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 1691
وحَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَيْضًا وَفِي حَدِيثِهِمَا جَمِيعًا ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : أَخْبَرَنِي مَنْسَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ كَمَا ذَكَرَ عُقَيْلٌ ،
یہی روایت امام صاحب امام دارمی کی سند سے زہری ہی کی سند سے بیان کرتے ہیں، امام لیث اور امام دارمی دونوں کی حدیث میں، ابن شہاب، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما کا قول نقل کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 1691
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، وَابْنُ جُرَيْجٍ كلهم ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ رِوَايَةِ عُقَيْلٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، وَأَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
یونس، معمر اور ابن جریج سب نے زہری سے، انہوں نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت بیان کی جس طرح عقیل نے زہری سے، انہوں نے سعید (بن مسیب) اور ابوسلمہ (بن عبدالرحمان بن عوف) سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔
حدیث نمبر: 1692
وحَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : " رَأَيْتُ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ حِينَ جِيءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ قَصِيرٌ أَعْضَلُ لَيْسَ عَلَيْهِ رِدَاءٌ ، فَشَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ أَنَّهُ زَنَى ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَلَعَلَّكَ ؟ ، قَالَ : لَا ، وَاللَّهِ إِنَّهُ قَدْ زَنَى الْأَخِرُ ، قَالَ : فَرَجَمَهُ ، ثُمَّ خَطَبَ ، فَقَالَ : أَلَا كُلَّمَا نَفَرْنَا غَازِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، خَلَفَ أَحَدُهُمْ لَهُ نَبِيبٌ كَنَبِيبِ التَّيْسِ يَمْنَحُ أَحَدُهُمُ الْكُثْبَةَ ، أَمَا وَاللَّهِ إِنْ يُمْكِنِّي مِنْ أَحَدِهِمْ لَأُنَكِّلَنَّهُ عَنْهُ " .
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ماعز بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ کو دیکھا، جب اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، چھوٹا قد، مضبوط جسم، جس پر چادر نہیں ہے، اس نے اپنے بارے میں چار دفعہ زنا کرنے کی شہادت دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید تو نے۔۔؟‘‘ (بوس و کنار کیا ہو یا چٹکی لی ہو) اس نے کہا، نہیں، اللہ کی قسم! ذلیل اور کمینے آدمی نے زنا کیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا، پھر خطبہ دیا اور فرمایا: ”خبردار، جب بھی ہم اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلتے ہیں تو کوئی فرد پیچھے رہتا ہے اور بکرے کی طرح جنسی آوازیں نکالتا ہے، کسی کو معمولی اور حقیر چیز پیش کرتا ہے، ہاں اللہ کی قسم! اگر ان میں سے کوئی میرے قابو میں آ گیا تو میں اس کو سامان عبرت بنا دوں گا۔‘‘
حدیث نمبر: 1692
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، يَقُولُ : " أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ قَصِيرٍ أَشْعَثَ ذِي عَضَلَاتٍ عَلَيْهِ إِزَارٌ وَقَدْ زَنَى ، فَرَدَّهُ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ أَمَرَ بِهِ ، فَرُجِمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُلَّمَا نَفَرْنَا غَازِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، تَخَلَّفَ أَحَدُكُمْ يَنِبُّ نَبِيبَ التَّيْسِ يَمْنَحُ إِحْدَاهُنَّ الْكُثْبَةَ ، إِنَّ اللَّهَ لَا يُمْكِنِّي مِنْ أَحَدٍ مِنْهُمْ إِلَّا جَعَلْتُهُ نَكَالًا أَوْ نَكَّلْتُهُ " ، قَالَ : فَحَدَّثْتُهُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، فَقَالَ : إِنَّهُ رَدَّهُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ ،
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے سماک بن حرب سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چھوٹے قد، پراگندہ بالوں اور مضبوط پٹھوں والا ایک شخص لایا گیا، اس (کے جسم) پر ایک تہبند تھا اور اس نے زنا کا ارتکاب کیا تھا، آپ نے اسے دوبارہ لوٹایا، پھر اسے (رجم کرنے کا) حکم دیا تو اسے رجم کر دیا گیا، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (خطبہ دیتے ہوئے) فرمایا: ”ہم جب بھی اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلتے ہیں تو تم لوگوں میں سے کوئی شخص پیچھے رہ جاتا ہے، وہ نسل کشی کے بکرے کی طرح جوش سے آوازیں نکالتا ہے اور عورتوں میں سے کسی کو (آمادہ کرنے کے لیے) معمولی سی چیز پیش کرتا ہے۔ بلاشبہ اللہ جب بھی مجھے ان میں سے کسی ایک پر قابودے گا تو میں لازماً اسے (لوگوں کے لیے) عبرت بنا دوں گا، یا عبرتناک سزا دوں گا۔“ کہا: میں نے یہ حدیث سعید بن جبیر کو بیان کی تو انہوں نے کہا: آپ نے اسے چار بار واپس کیا تھا۔
حدیث نمبر: 1692
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ كِلَاهُمَا ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ وَوَافَقَهُ شَبَابَةُ عَلَى قَوْلِهِ فَرَدَّهُ مَرَّتَيْنِ ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَامِرٍ فَرَدَّهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا .
شبابہ اور ابوعامر عقدی دونوں نے شعبہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے سماک سے، انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ابن جعفر کی حدیث کی طرح روایت کی اور شبابہ نے اس بات میں ان کی موافقت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوبار لوٹایا۔ اور ابوعامر کی حدیث میں ہے: آپ نے اسے دو یا تین بار واپس کیا۔
حدیث نمبر: 1693
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ : " أَحَقٌّ مَا بَلَغَنِي عَنْكَ ؟ ، قَالَ : وَمَا بَلَغَكَ عَنِّي ؟ ، قَالَ : بَلَغَنِي أَنَّكَ وَقَعْتَ بِجَارِيَةِ آلِ فُلَانٍ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ " .
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا: ”کیا تیرے بارے میں مجھ تک جو کچھ پہنچا ہے، ٹھیک ہے، (حقیقت ہے)۔‘‘ اس نے عرض کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے بارے میں کیا خبر ملی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے خبر ملی ہے کہ تو نے فلاں خاندان کی لونڈی سے زنا کیا ہے؟‘‘ اس نے کہا، جی ہاں، اس نے چار مرتبہ اس کی شہادت دی، پھر آپﷺ نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 1694
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ " أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ يُقَالُ لَهُ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّي أَصَبْتُ فَاحِشَةً فَأَقِمْهُ عَلَيَّ ، فَرَدَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِرَارًا ، قَالَ : ثُمَّ سَأَلَ قَوْمَهُ ، فَقَالُوا : مَا نَعْلَمُ بِهِ بَأْسًا إِلَّا أَنَّهُ أَصَابَ شَيْئًا يَرَى أَنَّهُ لَا يُخْرِجُهُ مِنْهُ إِلَّا أَنْ يُقَامَ فِيهِ الْحَدُّ ، قَالَ : فَرَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنَا أَنْ نَرْجُمَهُ ، قَالَ : فَانْطَلَقْنَا بِهِ إِلَى بَقِيعِ الْغَرْقَدِ ، قَالَ : فَمَا أَوْثَقْنَاهُ وَلَا حَفَرْنَا لَهُ ، قَالَ : فَرَمَيْنَاهُ بِالْعَظْمِ وَالْمَدَرِ وَالْخَزَفِ ، قَالَ : فَاشْتَدَّ فَاشْتَددْنَا خَلْفَهُ حَتَّى أَتَى عُرْضَ الْحَرَّةِ ، فَانْتَصَبَ لَنَا ، فَرَمَيْنَاهُ بِجَلَامِيدِ الْحَرَّةِ يَعْنِي الْحِجَارَةَ حَتَّى سَكَتَ ، قَالَ : ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا مِنَ الْعَشِيِّ ، فَقَالَ : أَوَ كُلَّمَا انْطَلَقْنَا غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، تَخَلَّفَ رَجُلٌ فِي عِيَالِنَا لَهُ نَبِيبٌ كَنَبِيبِ التَّيْسِ عَلَيَّ أَنْ لَا أُوتَى بِرَجُلٍ فَعَلَ ذَلِكَ ، إِلَّا نَكَّلْتُ بِهِ " ، قَالَ : فَمَا اسْتَغْفَرَ لَهُ وَلَا سَبَّهُ ،
عبدالاعلیٰ نے کہا: ہمیں داود نے ابونضرہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اسلم قبیلے کا ایک آدمی، جسے ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: مجھ سے بدکاری ہو گئی ہے، مجھ پر اس کی حد نافذ کیجیے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کئی بار واپس کیا۔ کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قوم سے پوچھا تو انہوں نے کہا: ہم ان کی کسی برائی کو نہیں جانتے، مگر ان سے کوئی بات سرزد ضرور ہوئی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ انہیں اس کیفیت سے، اس کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں نکال سکتی کہ ان پر حد قائم کر دی جائے۔ کہا: اس کے بعد وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پھر واپس آئے تو آپ نے ہمیں حکم دیا کہ انہیں رجم کر دیں۔ کہا: ہم انہیں بقیع الغرقد کی طرف لے کر گئے۔ کہا: نہ ہم نے انہیں باندھا، نہ ان کے لیے گڑھا کھودا۔ کہا: ہم نے انہیں ہڈیوں، مٹی کے ڈھیلوں اور ٹھیکروں سے مارا۔ کہا: وہ بھاگ نکلے تو ہم بھی ان کے پیچھے بھاگے حتی کہ وہ حرہ (سیاہ پتھروں والی زمین) کے ایک کنارے پر آئے اور ہمارے سامنے جم کر کھڑے ہو گئے، پھر ہم نے انہیں حرہ کی چٹانوں کے ٹکڑوں، یعنی (بڑے بڑے) پتھروں سے مارا حتی کہ وہ بے جان ہو گئے، کہا: پھر شام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”جب بھی ہم اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لیے نکلتے ہیں کوئی آدمی پیچھے ہمارے اہل و عیال کے درمیان رہ جاتا ہے اور بکرے کی طرح جوش میں آوازیں نکالتا ہے، مجھ پر لازم ہے کہ میرے پاس کوئی ایسا آدمی نہیں لایا جائے گا جس نے ایسا کیا ہو گا مگر میں اسے عبرتناک سزا دوں گا۔“ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (خطبے کے دوران میں) نہ ان کے لیے استغفار کیا، نہ انہیں برا بھلا کہا۔
حدیث نمبر: 1694
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ مَعْنَاهُ ، وَقَالَ : فِي الْحَدِيثِ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعَشِيِّ : فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَال : " أَمَّا بَعْدُ فَمَا بَالُ أَقْوَامٍ إِذَا غَزَوْنَا يَتَخَلَّفُ أَحَدُهُمْ عَنَّا ، لَهُ نَبِيبٌ كَنَبِيبِ التَّيْسِ " وَلَمْ يَقُلْ فِي عِيَالِنَا ،
یزید بن زریع نے کہا: ہمیں داود نے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی اور انہوں نے حدیث میں کہا: شام کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد اور ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”اما بعد! لوگوں کا کیا حال ہے؟ جب ہم جہاد کے لیے جاتے ہیں تو ان میں سے کوئی شخص پیچھے رہ جاتا ہے، وہ نسل کشی کے بکرے کی طرح آوازیں نکالتا ہے۔۔“ انہوں (یزید بن زریع) نے ”ہمارے اہل و عیال میں“ کے الفاظ نہیں کہے۔
حدیث نمبر: 1694
وحَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كِلَاهُمَا ، عَنْ دَاوُدَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ بَعْضَ هَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ ، فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ .
یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ اور سفیان دونوں نے داود سے اسی سند کے ساتھ اس حدیث کا کچھ حصہ بیان کیا، البتہ سفیان کی حدیث میں ہے: اس نے تین بار زنا کا اعتراف کیا۔ (چوتھی بار کے اعتراف پر اسے سزا سنائی گئی۔)
حدیث نمبر: 1695
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ غَيْلَانَ وَهُوَ ابْنُ جَامِعٍ الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، طَهِّرْنِي ، فَقَالَ : وَيْحَكَ ارْجِعْ فَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ وَتُبْ إِلَيْهِ ، قَالَ : فَرَجَعَ غَيْرَ بَعِيدٍ ثُمَّ جَاءَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، طَهِّرْنِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَيْحَكَ ارْجِعْ فَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ وَتُبْ إِلَيْهِ ، قَالَ : فَرَجَعَ غَيْرَ بَعِيدٍ ثُمَّ جَاءَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، طَهِّرْنِي ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الرَّابِعَةُ ، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ : فِيمَ أُطَهِّرُكَ ؟ ، فَقَالَ : مِنَ الزِّنَا ، فَسَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَبِهِ جُنُونٌ ؟ ، فَأُخْبِرَ أَنَّهُ لَيْسَ بِمَجْنُونٍ ، فَقَالَ : أَشَرِبَ خَمْرًا ، فَقَامَ رَجُلٌ فَاسْتَنْكَهَهُ فَلَمْ يَجِدْ مِنْهُ رِيحَ خَمْرٍ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَزَنَيْتَ ؟ ، فَقَالَ : نَعَمْ ، فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ ، فَكَانَ النَّاسُ فِيهِ فِرْقَتَيْنِ قَائِلٌ ، يَقُولُ : لَقَدْ هَلَكَ لَقَدْ أَحَاطَتْ بِهِ خَطِيئَتُهُ ، وَقَائِلٌ يَقُولُ : مَا تَوْبَةٌ أَفْضَلَ مِنْ تَوْبَةِ مَاعِزٍ أَنَّهُ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَ يَدَهُ فِي يَدِهِ ، ثُمَّ قَالَ : اقْتُلْنِي بِالْحِجَارَةِ ، قَالَ : فَلَبِثُوا بِذَلِكَ يَوْمَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً ، ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ جُلُوسٌ فَسَلَّمَ ثُمَّ جَلَسَ ، فَقَالَ : اسْتَغْفِرُوا لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : فَقَالُوا : غَفَرَ اللَّهُ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ أُمَّةٍ لَوَسِعَتْهُمْ ، قَالَ : ثُمَّ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ غَامِدٍ مِنَ الْأَزْدِ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ طَهِّرْنِي ، فَقَالَ : وَيْحَكِ ارْجِعِي فَاسْتَغْفِرِي اللَّهَ وَتُوبِي إِلَيْهِ ، فَقَالَتْ : أَرَاكَ تُرِيدُ أَنْ تُرَدِّدَنِي كَمَا رَدَّدْتَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : وَمَا ذَاكِ ؟ ، قَالَتْ : إِنَّهَا حُبْلَى مِنَ الزّنَا ، فَقَالَ : آنْتِ ، قَالَتْ : نَعَمْ ، فَقَالَ لَهَا : حَتَّى تَضَعِي مَا فِي بَطْنِكِ ، قَالَ : فَكَفَلَهَا رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ حَتَّى وَضَعَتْ ، قَالَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : قَدْ وَضَعَتِ الْغَامِدِيَّةُ ، فَقَالَ : إِذًا لَا نَرْجُمُهَا وَنَدَعُ وَلَدَهَا صَغِيرًا لَيْسَ لَهُ مَنْ يُرْضِعُهُ ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَقَالَ : إِلَيَّ رَضَاعُهُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، قَالَ : فَرَجَمَهَا " .
سلیمان بن بریدہ نے اپنے والد (بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، انہوں نے کہا: ماعز بن مالک (اسلمی) رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! مجھے پاک کیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پر افسوس! جاؤ، اللہ سے استغفار کرو اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرو۔“ کہا: وہ لوٹ کر تھوڑی دور تک گئے، پھر واپس آئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! مجھے پاک کیجیے۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پر افسوس! جاؤ، اللہ سے استغفار کرو اور اس کی طرف رجوع کرو۔“ کہا: وہ لوٹ کر تھوڑی دور تک گئے، پھر آئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! مجھے پاک کیجیے۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (پھر) اسی طرح فرمایا حتی کہ جب چوتھی بار (یہی بات) ہوئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”میں تمہیں کس چیز سے پاک کروں؟“ انہوں نے کہا: زنا سے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا اسے جنون ہے؟“ تو آپ کو بتایا گیا کہ یہ مجنون نہیں ہے۔ تو آپ نے پوچھا: ”کیا اس نے شراب پی ہے؟“ اس پر ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس کا منہ سونگھا تو اسے اس سے شراب کی بو نہ آئی۔ کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم نے زنا کیا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں (یہیں آپ نے اس سے اس واقعے کی تصدیق چاہی جو آپ تک پہنچا تھا) پھر آپ نے ان (کو رجم کرنے) کے بارے میں حکم دیا، چنانچہ انہیں رجم کر دیا گیا۔ بعد ازاں ان کے حوالے سے لوگوں کے دو گروہ بن گئے، کچھ کہنے والے یہ کہتے: وہ تباہ و برباد ہو گیا، اس کے گناہ نے اسے گھیر لیا۔ اور کچھ کہنے والے یہ کہتے: ماعز کی توبہ سے افضل کوئی توبہ نہیں (ہو سکتی) کہ وہ (خود) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیا، پھر کہا: مجھے پتھروں سے مار ڈالیے۔ کہا: دو یا تین دن وہ (اختلاف کی) اسی کیفیت میں رہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، وہ سب بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے سلام کہا، پھر بیٹھ گئے اور فرمایا: ”ماعز بن مالک کے لیے بخشش مانگو۔“ کہا: تو لوگوں نے کہا: اللہ ماعز بن مالک کو معاف فرمائے! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ انہوں نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر وہ ایک امت میں بانٹ دی جائے تو ان سب کو کافی ہو جائے۔“ کہا: پھر آپ کے پاس ازد قبیلے کی شاخ غامد کی ایک عورت آئی اور کہنے لگی: اللہ کے رسول! مجھے پاک کیجیے۔ تو آپ نے فرمایا: ”تم پر افسوس! لوٹ جاؤ، اللہ سے بخشش مانگو اور اس کی طرف رجوع کرو۔“ اس نے کہا: میرا خیال ہے آپ مجھے بھی بار بار لوٹانا چاہتے ہیں جیسے ماعز بن مالک کو لوٹایا تھا۔ آپ نے پوچھا: ”وہ کیا بات ہے (جس میں تم تطہیر چاہتی ہو؟)“ اس نے کہا: وہ زنا کی وجہ سے حاملہ ہے۔ تو آپ نے (تاکیداً) پوچھا: ”کیا تم خود؟“ اس نے جواب دیا: جی ہاں، تو آپ نے اسے فرمایا: ”(جاؤ) یہاں تک کہ جو تمہارے پیٹ میں ہے اسے جنم دے دو۔“ کہا: تو انصار کے ایک آدمی نے اس کی کفالت کی حتی کہ اس نے بچے کو جنم دیا۔ کہا: تو وہ آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: غامدی عورت نے بچے کو جنم دے دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تب ہم (ابھی) اسے رجم نہیں کریں گے اور اس کے بچے کو کم سنی میں (اس طرح) نہیں چھوڑیں گے کہ کوئی اسے دودھ پلانے والا نہ ہو۔“ پھر انصار کا ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہا: اے اللہ کے نبی! اس کی رضاعت میرے ذمے ہے۔ کہا: تو آپ نے اسے رجم کرنے کا حکم دے دیا۔
حدیث نمبر: 1695
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَتَقَارَبَا فِي لَفْظِ الْحَدِيثِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ " أَنَّ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ الْأَسْلَمِيَّ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي قَدْ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَزَنَيْتُ وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ تُطَهِّرَنِي ، فَرَدَّهُ فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَاهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ ، فَرَدَّهُ الثَّانِيَةَ ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَوْمِهِ ، فَقَالَ : أَتَعْلَمُونَ بِعَقْلِهِ بَأْسًا تُنْكِرُونَ مِنْهُ شَيْئًا ؟ ، فَقَالُوا : مَا نَعْلَمُهُ إِلَّا وَفِيَّ الْعَقْلِ مِنْ صَالِحِينَا ، فِيمَا نُرَى ، فَأَتَاهُ الثَّالِثَةَ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ أَيْضًا ، فَسَأَلَ عَنْهُ فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ وَلَا بِعَقْلِهِ ، فَلَمَّا كَانَ الرَّابِعَةَ حَفَرَ لَهُ حُفْرَةً ، ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ ، قَالَ : فَجَاءَتِ الْغَامِدِيَّةُ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ فَطَهِّرْنِي وَإِنَّهُ رَدَّهَا ، فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لِمَ تَرُدُّنِي لَعَلَّكَ أَنْ تَرُدَّنِي كَمَا رَدَدْتَ مَاعِزًا فَوَاللَّهِ إِنِّي لَحُبْلَى ، قَالَ : إِمَّا لَا فَاذْهَبِي حَتَّى تَلِدِي ، فَلَمَّا وَلَدَتْ أَتَتْهُ بِالصَّبِيِّ فِي خِرْقَةٍ ، قَالَتْ : هَذَا قَدْ وَلَدْتُهُ ، قَالَ : اذْهَبِي فَأَرْضِعِيهِ حَتَّى تَفْطِمِيهِ ، فَلَمَّا فَطَمَتْهُ أَتَتْهُ بِالصَّبِيِّ فِي يَدِهِ كِسْرَةُ خُبْزٍ ، فَقَالَتْ : هَذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَدْ فَطَمْتُهُ وَقَدْ أَكَلَ الطَّعَامَ ، فَدَفَعَ الصَّبِيَّ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَحُفِرَ لَهَا إِلَى صَدْرِهَا وَأَمَرَ النَّاسَ ، فَرَجَمُوهَا ، فَيُقْبِلُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ بِحَجَرٍ فَرَمَى رَأْسَهَا فَتَنَضَّحَ الدَّمُ عَلَى وَجْهِ خَالِدٍ فَسَبَّهَا ، فَسَمِعَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّهُ إِيَّاهَا ، فَقَالَ : مَهْلًا يَا خَالِدُ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا صَاحِبُ مَكْسٍ لَغُفِرَ لَهُ " ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا وَدُفِنَتْ .
حضرت بریدہ رضی اللہ تعلی عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ماعز بن مالک اسلمی رضی اللہ تعالی عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میں اپنے اوپر ظلم کر چکا ہوں، میں نے زنا کیا ہے اور میں چاہتا ہوں آپ مجھے پاک کر دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کر دیا، جب اگلا دن آیا، وہ پھر آیا اور کہنے لگا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! تو آپﷺ نے دوبارہ واپس کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قوم کی طرف پیغام بھیجا اور پوچھا، ”کیا تم اس کی عقل میں کچھ فتور محسوس کرتے ہو یا اس میں کوئی قابل اعتراخ بات پاتے ہو؟‘‘ تو انہوں نے جواب دیا، ہمارے علم میں، اس میں پوری عقل ہے، ہمارے اچھے افراد میں سے ہے، ہماری معلومات یہی ہیں تو وہ سہ بارہ آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف پھر پیغام بھیجا اور اس کے بارے میں پوچھا، اس کی قوم نے آپ کو بتایا، اس میں کوئی قابل اعتراض بات نہیں ہے اور نہ اس کی عقل میں فتور ہے تو جب چوتھی بار آیا، اس کے لیے گڑھا کھودا گیا، پھر آپﷺ نے اس کو رجم کرنے کا حکم دیا، حضرت بریدہ رضی اللہ تعلی عنہ بیان کرتے ہیں، اس کے بعد آپ کے پاس ایک غامدیہ قبیلہ کی عورت آئی اور کہنے لگی، اللہ کے رسول! میں زنا کر چکی ہوں تو مجھے پاک کر دیجئے اور آپ نے اسے واپس کر دیا تو جب اگلا دن آیا، اس نے کہا، اے اللہ کے رسولﷺ! آپ مجھے واپس کیوں لوٹاتے ہیں، شاید آپﷺ مجھے ماعز کی طرح واپس لوٹانا چاہتے ہیں، اللہ کی قسم! میں تو حاملہ ہو چکی ہوں، آپﷺ نے فرمایا: ”اگر تمہیں اصرار ہے تو جاؤ حتی کہ تم بچہ جنو۔‘‘ تو جب اس نے بچہ جنا، وہ اسے ایک کپڑے میں لپیٹ کر لے آئی اور کہا، یہ بچہ میں جن چکی ہوں، آپﷺ نے فرمایا: ”جا اسے دودھ پلا حتی کہ اس کا دودھ چھوٹ جائے۔‘‘ تو جب اس نے اس کا دودھ چھڑوایا، وہ آپﷺ کے پاس بچہ لے کر آئی، اس کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا تھا اور کہنے لگی، اے اللہ کے نبی! میں اس کا دودھ چھڑا چکی ہوں اور یہ کھانا کھانے لگ گیا ہے تو آپﷺ نے بچہ ایک مسلمان کے حوالہ کیا، پھر اس کے بارے میں حکم دیا تو اس کے لیے اس کے سینہ تک گڑھا کھودا گیا اور آپﷺ کے حکم سے لوگوں نے اسے رجم کر دیا، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنہ پتھر لے کر آگے بڑھتے ہیں اور اس کے سر پر مارتے ہیں اور خون حضرت خالد رضی اللہ تعالی عنہ کے چہرہ پر پڑتا ہے، وہ اسے برا بھلا کہتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان کا اس کو برا بھلا کہنا سن لیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رک جاؤ، اے خالد! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس نے اس قدر سچی توبہ کی ہے، اگر ناجائز طور پر ٹیکس لینے والا بھی ایسی توبہ کرے تو اسے معافی مل جائے۔‘‘ پھر آپﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھنے کا حکم دیا اور نماز پڑھا کر اسے دفن کر دیا۔
حدیث نمبر: 1696
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ ، أَنَّ أَبَا الْمُهَلَّبِ حَدَّثَهُ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ " أَنَّ امْرَأَةً مِنْ جُهَيْنَةَ أَتَتْ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ حُبْلَى مِنَ الزِّنَا ، فَقَالَتْ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ ، فَدَعَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيَّهَا ، فَقَالَ : أَحْسِنْ إِلَيْهَا فَإِذَا وَضَعَتْ فَأْتِنِي بِهَا ، فَفَعَلَ فَأَمَرَ بِهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا ثُمَّ أَمَرَ بِهَا ، فَرُجِمَتْ ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : تُصَلِّي عَلَيْهَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَقَدْ زَنَتْ ، فَقَالَ : لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ ، وَهَلْ وَجَدْتَ تَوْبَةً أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا لِلَّهِ تَعَالَى ؟ " ،
ہشام نے مجھے یحییٰ بن ابی کثیر سے حدیث بیان کی، کہا: مجھے ابوقلابہ نے حدیث بیان کی کہ انہیں ابومہلب نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، وہ زنا سے حاملہ تھی، اس نے کہا: اللہ کے رسول! میں (شرعی) حد کی مستحق ہو گئی ہوں، آپ وہ حد مجھ پر نافذ فرمائیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ولی کو بلوایا اور فرمایا: ”اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو، جب یہ بچے کو جنم دے تو اسے میرے پاس لے آنا۔“ اس نے ایسا ہی کیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اس کے کپڑے اس پر کس کر باندھ دیے گئے، پھر آپ نے حکم دیا تو اسے رجم کر دیا گیا، پھر آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ سے عرض کی: اللہ کے نبی! آپ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں گے حالانکہ اس نے زنا کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس نے یقیناً ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اہل مدینہ کے ستر گھروں کے درمیان تقسیم کر دی جائے تو ان کے لیے بھی کافی ہو جائے گی۔ اور کیا تم نے اس سے بہتر (کوئی) توبہ دیکھی ہے کہ اس نے اللہ (کو راضی کرنے) کے لیے اپنی جان قربان کر دی ہے۔“
حدیث نمبر: 1696
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
یہی روایت امام صاحب ایک اور استاد سے یحییٰ بن ابی کثیر کی مذکورہ بالا سند سے ہی بیان کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 1696
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّهُمَا قَالَا : " إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَعْرَابِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنْشُدُكَ اللَّهَ إِلَّا قَضَيْتَ لِي بِكِتَابِ اللَّهِ ، فَقَالَ : الْخَصْمُ الْآخَرُ وَهُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ ، نَعَمْ فَاقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ ، وَأْذَنْ لِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُلْ قَالَ : إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا ، فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ وَإِنِّي أُخْبِرْتُ أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَوَلِيدَةٍ ، فَسَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّمَا عَلَى ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ ، وَأَنَّ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا الرَّجْمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ ، الْوَلِيدَةُ وَالْغَنَمُ رَدٌّ وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ وَاغْدُ يَا أُنَيْسُ إِلَى امْرَأَةِ هَذَا ، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا ، قَالَ : فَغَدَا عَلَيْهَا ، فَاعْتَرَفَتْ ، فَأَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَتْ " ،
لیث نے ابن شہاب سے، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ اور حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ ان دونوں نے کہا: بادیہ نشینوں میں سے ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، آپ میرے لیے اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کریں۔ (اس کے) مخالف فریق نے کہا: اور وہ اس سے زیادہ سمجھ دار تھا، جی ہاں، ہمارے درمیان اللہ کی کتاب کی رو سے فیصلہ کیجیے اور مجھے (کچھ کہنے کی) اجازت دیجیے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہو۔“ اس نے کہا: میرا بیٹا اس کے ہاں مزدور تھا، اس نے اس کی بیوی سے زنا کیا اور مجھے بتایا گیا کہ میرے بیٹے پر رجم (کی سزا) ہے، چنانچہ میں نے اس کی طرف سے ایک سو بکریاں اور ایک لونڈی بطور فدیہ دی، اور اہل علم سے پوچھا تو انہوں نے مجھے بتایا ہے کہ میرے بیٹے پر (تو) ایک سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے اور رجم اس کی عورت پر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تمہارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا، لونڈی اور بکریاں تجھے واپس ملیں گی، تمہارے بیٹے پر ایک سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے۔ اُنیس! (انس بن ضحاک اسلمی رضی اللہ عنہ مراد ہیں۔ عورت انہی کے قبیلے سے تھی) اس (دوسرے آدمی) کی عورت کے ہاں جاؤ، اگر وہ اعتراف کرے تو اسے رجم کر دو۔“ کہا: وہ اس کے ہاں گئے تو اس نے اعتراف کر لیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (کو رجم کرنے) کا حکم دیا، چنانچہ اسے رجم کر دیا گیا۔
حدیث نمبر: 1698
وحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ . ح وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ كُلُّهُمْ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
یہی روایت امام صاحب اپنے چار اساتذہ کی تین سندوں سے زہری ہی کی مذکورہ بالا سند سے بیان کرتے ہیں۔