کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: خوف کی نماز میں نمازی ایک دوسرے کی حفاظت کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 944
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ فَكَبَّرَ وَكَبَّرُوا مَعَهُ ، وَرَكَعَ وَرَكَعَ نَاسٌ مِنْهُمْ ، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدُوا مَعَهُ ، ثُمَّ قَامَ لِلثَّانِيَةِ فَقَامَ الَّذِينَ سَجَدُوا وَحَرَسُوا إِخْوَانَهُمْ ، وَأَتَتِ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى فَرَكَعُوا وَسَجَدُوا مَعَهُ وَالنَّاسُ كُلُّهُمْ فِي صَلَاةٍ وَلَكِنْ يَحْرُسُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا " .
مولانا داود راز
´ہم سے حیوہ بن شریح نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے محمد بن حرب نے زبیدی سے بیان کیا ، ان سے زہری نے ، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے ، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور دوسرے لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں کھڑے ہوئے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی تو لوگوں نے بھی تکبیر کہی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رکوع اور سجدہ کر لیا تھا وہ کھڑے کھڑے اپنے بھائیوں کی نگرانی کرتے رہے ۔ اور دوسرا گروہ آیا ۔ ( جو اب تک حفاظت کے لیے دشمن کے مقابلہ میں کھڑا رہا بعد میں ) اس نے بھی رکوع اور سجدے کئے ۔ سب لوگ نماز میں تھے لیکن لوگ ایک دوسرے کی حفاظت کر رہے تھے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب صلاة الخوف / حدیث: 944
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة