کتب حدیث › صحيح ابن خزيمه › ابواب ❮کتاب:صحيح البخاريصحيح مسلمسنن ابي داودسنن ابن ماجهسنن نسائيسنن ترمذيصحيح ابن خزيمهصحیح ابن حبانمسند احمدموطا امام مالك رواية يحييٰموطا امام مالك رواية ابن القاسمسنن دارميسنن الدارقطنيسنن سعید بن منصورمصنف ابن ابي شيبهالمنتقى ابن الجارودالادب المفردصحيح الادب المفردمشكوة المصابيحبلوغ المراماللؤلؤ والمرجانشمائل ترمذيصحيفه همام بن منبهسلسله احاديث صحيحهمجموعه ضعيف احاديثمختصر صحيح بخاريمختصر صحيح مسلممختصر حصن المسلممسند الإمام الشافعيمسند الحميديمسند اسحاق بن راهويهمسند عبدالله بن مباركمسند الشهابمسند عبدالرحمن بن عوفمسند عبدالله بن عمرمسند عمر بن عبد العزيزالفتح الربانیمعجم صغير للطبرانيحدیث نمبر:جائیں❯ فہرستِ ابواب — صحيح ابن خزيمه باب باب حدیث 260–260 (203) بَابُ ذِكْرِ مَا كَانَ مِنْ إِبَاحَةِ الصَّلَاةِ بِلَا تَيَمُّمٍ عِنْدَ عَدَمِ الْمَاءِ قَبْلَ نُزُولِ آيَةِ التَّيَمُّمِ باب: اس بات کا بیان کہ آیت تیمّم کے نزول سے پہلے پانی کی عدم موجودگی میں بغیر تیمّم کیے نماز پڑھنا جائز تھا ۔ حدیث 261–261 (204) بَابُ الرُّخْصَةِ فِي النُّزُولِ فِي السَّفَرِ عَلَى غَيْرِ مَاءٍ لِلْحَاجَةِ تَبْدُو مِنْ مَنَافِعِ الدُّنْيَا باب: سفر میں دنیوی منفعت کے لیے کسی ایسی جگہ پڑاؤ ڈالنے کی رخصت ہے جہاں ضرورت کے لیے پانی نہ ہو حدیث 262–262 (205) بَابُ ذِكْرِ مَا كَانَ اللَّهُ- عَزَّ وَجَلَّ- فَضَّلَ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ قَبْلَهُ، وَفَضَّلُ أُمَّتَهُ عَلَى الْأُمَمِ السَّالِفَةِ قَبْلَهُمْ بِإِبَاحَتِهِ لَهُمُ التَّيَمُّمَ بِالتُّرَابِ عِنْدَ الْإِعْوَازِ مِنَ الْمَاءِ باب: اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سابقہ انبیائے کرام پر اور آپ کی امت کی سابقہ امتوں پر ، پانی کی عدم موجودگی میں مٹی سے تیمّ کرنے کی اجازت دے کر جو فضیلت عطا کی ہے اس کا بیان حدیث 263–263 (206) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ مَا وَقَعَ عَلَيْهِ اسْمُ التُّرَابِ فَالتَّيَمُّمُ بِهِ جَائِزٌ عِنْدَ الْإِعْوَازِ مِنَ الْمَاءِ، باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ جس چیز پر مٹی کا اطلاق ہوتا ہے پانی کی کمی اور قلت کے وقت اس سے تیمّم کرنا جائز ہے حدیث 264–264 (207) بَابُ إِبَاحَةِ التَّيَمُّمِ بِتُرَابِ السِّبَاخِ باب: شورزدہ کھاری زمین کی مٹی سے تیمّم کرنا جائز ہے حدیث 265–265 (208) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ التَّيَمُّمَ ضَرْبَةٌ وَاحِدَةٌ لِلْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ لَا ضَرْبَتَانِ، مَعَ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ مَسْحَ الذِّرَاعَيْنِ فِي التَّيَمُّمِ غَيْرُ وَاجِبٍ باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ چہرے اور ہاتھوں کے لیے تیمّم میں ایک ہی ضرب (ایک دفعہ ہاتھ زمین پر مارنا) ہے ۔ دوبار نہیں ۔ اس بات کی دلیل کے ساتھ کہ تیمّم میں ذراعین (کہنیوں تک بازو) کا مسح کرنا واجب نہیں ہے حدیث 266–267 (209) بَابُ النَّفْخِ فِي الْيَدَيْنِ بَعْدَ ضَرْبِهِمَا عَلَى التُّرَابِ لِلتَّيَمُّمِ باب: تیمم کے لیے دونوں ہاتھون کو مٹی پر مارنے کے بعد ان میں پھونک مارنے کا بیان حدیث 268–268 (210) بَابُ نَفْضِ الْيَدَيْنِ مِنَ التُّرَابِ بَعْدَ ضَرْبِهِمَا عَلَى الْأَرْضِ قَبْلَ النَّفْخِ فِيهِمَا، وَقَبْلَ مَسْحِ الْوَجْهِ وَالْيَدَيْنِ لِلتَّيَمُّمِ. باب: تیمّم کے لیے دونوں ہاتھوں کو زمین پر مارنے کے بعد ، ان میں پھونک مارنے سے پہلے اور چہرے اور ہاتھوں کے مسح سے پہلے ، دونوں ہاتھوں سے مٹی جھاڑنے کا بیان حدیث 269–270 (211) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْجُنُبَ يَجْزِيهِ التَّيَمُّمُ عِنْدَ الْإِعْوَازِ مِنَ الْمَاءِ فِي السَّفَرِ باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ جنبی شخص کے لیے سفر میں پانی کی عدم موجودگی میں تیمّم کرلینا کافی ہے حدیث 271–271 (212) بَابُ الرُّخْصَةِ فِي التَّيَمُّمِ لِلْمَجْدُورِ وَالْمَجْرُوحِ، وَإِنْ كَانَ الْمَاءُ مَوْجُودًا إِذَا خَافَ- إِنْ مَاسَّ الْمَاءُ الْبَدَنَ- التَّلَفَ أَوِ الْمَرَضَ أَوِ الْوَجَعَ الْمُؤْلِمَ باب: چیچک زدہ اور زخمی شخص کے لیے پانی کی موجودگی میں بھی تیمّم کرنے کی رخصت ہے جبکہ وہ بدن پر پانی لگنے سے ہلاک ہونے ، مرض بڑھنے یا شدید درد میں مبتلا ہونے سے خوف زدہ ہو حدیث 272–273 (213) بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّيَمُّمِ فِي الْحَضَرِ لِرَدِّ السَّلَامِ، وَإِنْ كَانَ الْمَاءُ مَوْجُودًا باب: حضر کی حالت میں سلام کا جواب دینے کے لیے تیمّم کرنا مستحب ہے اگرچہ پانی موجود ہو حدیث 274–274 اس باب کی تمام احادیث ❮ پچھلا باب اگلا باب ❯