کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے وضو کرنا مستحب ہے اگرچہ وہ ذکر بغیر وضو بھی جائز ہو
حدیث نمبر: 206
نا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، نا عَبْدُ الأَعْلَى ، نا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ الْمُنْذِرِ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : هُوَ ابْنُ أَبِي سَاسَانَ ، عَنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذِ بْنِ عُمَرَ بْنِ جُدْعَانَ ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ، فَلَمْ يَرُدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَضَّأَ ، ثُمَّ اعْتَذَرَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : " إِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَذْكُرَ اللَّهَ إِلا عَلَى طُهْرٍ " أَوْ قَالَ : " عَلَى طَهَارَةٍ " . وَكَانَ الْحَسَنُ يَأْخُذُ بِهِ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا مہاجر بن قنفذ بن عمر بن جدعان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کر رہے تھے، اُنہوں نے آپکو سلام کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے سلام کا جواب نہ دیا حتیٰ کہ وضو کر لیا ( اور سلام کا جواب دیا ) اس سے معذرت کی اور فرمایا: ” میں نے ناپسند کیا کہ میں بغیر طہارت کے اللہ تعالیٰ کا ذکر کروں۔ “ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ اس حدیث کے مطابق عمل کرتے تھے۔ یعنی سلام کا جواب با وضو حالت میں دیتے تھے۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب فضول التطهير والاستحباب من غير إيجاب / حدیث: 206
تخریج حدیث اسناده صحيح