کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: ایک ہی برتن سے پوری جماعت وضو کر سکتی ہے
حدیث نمبر: 204
نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، نا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، نا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : إِنَّكُمْ تَعُدُّونَ الآيَاتِ عَذَابًا ، وَإِنَّا كُنَّا نَعُدُّهَا بَرَكَةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَدْ كُنَّا نَأْكُلُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَنَحْنُ نَسْمَعُ تَسْبِيحَ الطَّعَامِ ، قَالَ : " وَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ ، فَوَضَعَ يَدَهُ فِيهِ فَجَعَلَ الْمَاءُ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ " ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَيَّ عَلَى الطَّهُورِ الْمُبَارَكِ ، وَالْبَرَكَةُ مِنَ اللَّهِ " ، حَتَّى تَوَضَّأْنَا كُلُّنَا
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بیشک تم آیات (معجزات اور نشانیوں ) کو عذاب شمار کرتے ہو، اور ہم اُنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں برکت شمار کرتے تھے۔ ہم رسول الله صل اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھایا کرتے تھے اور کھانے کی تسبیح سنا کرتے تھے۔ فرمایا کہ نبی اکرم صل اللہ علیہ وسلم کے پاس پانی کا برتن لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک اُس میں رکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُنگلیوں کے درمیان سے پانی پھوٹنے لگا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مبارک پانی کی طرف آؤ اور برکت اللہ تعالٰی کی طرف سے ہے۔ “ حتیٰ کہ ہم سب نے وضو کر لیا۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب المسح على الخفين / حدیث: 204
تخریج حدیث صحيح بخاري