کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: وضو کرنے والا ، وضو( میں سہولت ) کے لیے کسی پانی ڈالنے والے کی مدد لے سکتا ہے صوفیوں کے مذہب کے برعکس جو اسے تکبر سمجھتے ہیں
حدیث نمبر: 203
نا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ ، يَقُولُ : " سَكَبْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تَوَضَّأَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
عروہ بن مغیرہ بن شعبہ سےروایت ہےکہ اُنہوں نے اپنے والد محترم کو فرماتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب غزوہ تبوک میں وضو کیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( کے اعضائے وضو ) پر پانی ڈالا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح کیا۔