کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دونوں قدموں پر مسح کرنا طہارت ( با وضو ہونے ) کی حالت میں تھا ۔ بے وضو ہونے کی حالت میں نہ تھا ۔
حدیث نمبر: 202
نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نا جَرِيرٌ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، كِلاهُمَا ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلَكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي النَّزَّالُ بْنُ سَبْرَةَ ، قَالَ : صَلَّيْنَا مَعَ عَلِيٍّ الظُّهْرَ ، ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الرَّحْبَةِ ، قَالَ : " فَدَعَا بِإِنَاءٍ فِيهِ شَرَابٌ فَأَخَذَهُ فَمَضْمَضَ ، قَالَ مَنْصُورٌ : أَرَاهُ قَالَ : وَاسْتَنْشَقَ ، وَمَسَحَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ ، وَرَأْسَهُ ، وَقَدَمَيْهِ ، ثُمَّ شَرِبَ فَضْلَهُ وَهُوَ قَائِمٌ " ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ نَاسًا يَكْرَهُونَ أَنْ يَشْرَبُوا وَهُمْ قِيَامٌ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعْتُ " ، وَقَالَ : " هَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ " ، هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ زَائِدَةَ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
حضرت نزال بن سبرہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی، پھر ہم ( مسجد کے ) صحن کی طرف چلے گئے، کہتے ہیں کہ اُنہوں نے پانی کا برتن منگوایا، اُنہوں نے وہ پانی لیا اور کُلّی کی، منصور کہتے ہیں کہ میرے خیال میں اُنہوں نے یہ کہا کہ اُنہوں نے ناک میں پانی ڈالا اور اپنے چہرے، دونوں بازؤوں، اپنے سر اور اپنے دونوں قدموں کا مسح کیا، پھر اپنا باقی ماندہ پانی پی لیا جبکہ آپ کھڑے تھے، پھر فرمایا کہ کچھ لوگ کھڑے ہو کر پینےکو ناپسند کرتے ہیں، بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی کیا جیسے میں نے کیا ہے۔ اور فرمایا کہ یہ اُس شخص کا وضو ہے جس کا وضو ٹوٹا نہ ہو ۔ یہ زائدہ کی حدیث کے الفاظ ہیں ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب المسح على الخفين / حدیث: 202
تخریج حدیث صحيح بخاري