کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جوتوں پر مسح کرنا نفلی وضو میں تھا ، اس وضو میں نہیں تھا جو آپ پر اس حدث کی وجہ سے واجب ہوتا جو وضو کو واجب کرتا ہے
حدیث نمبر: 200
نا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَزَّازُ ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ ، نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ الرَّحْمَنِ الأَشْجَعِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، " أَنَّهُ دَعَا بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا ، ثُمَّ مَسَحَ عَلَى نَعْلَيْهِ " ، ثُمَّ قَالَ : " هَكَذَا وُضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلطَّاهِرِ مَا لَمْ يُحْدِثْ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
عبید خیر سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ اُنہوں نے پانی کا ڈونگا منگوایا پھر اُس سے ہلکا سا وضو کیا ، پھر اپنے جوتوں پر مسح کیا پھر فرمایا کہ طاہر ( با وضو ) شخص کا جب تک وضو نہ ٹوٹے، اُس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو اسی طرح تھا۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب المسح على الخفين / حدیث: 200
تخریج حدیث اسناده صحيح