کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: (مسح کے متعلق) گذشتہ مجمل الفاظ کی تفسیر کرنے والی حدیث کا بیان
حدیث نمبر: Q190
وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ الرُّخْصَةَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ لِلَابِسِهَا عَلَى طَهَارَةٍ، دُونَ لَابِسِهَا مُحْدِثًا غَيْرَ مُتَطَهِّرٍ.
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ موزوں پرمسح کرنے کی رُخصت اُس شخص کے لئے ہے جس نے انہیں وضو کر کے پہنا ہوں جس نے بغیر طہارت کے بلا وضو پہنے ہوں اس کے لیے نہیں۔
حدیث نمبر: 190
نا أَبُو الأَزْهَرِ حَوْثَرَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَصْرِيُّ ، نا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَمْسَحُ عَلَى خُفَّيْكَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، إِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا وَهُمَا طَاهِرَتَانِ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی کہ اے اللّٰہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے موزوں پر مسح کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ، کیونکہ میں نے انہیں دونوں پاؤں کی طہارت کی حالت میں پہنا ہے۔ “
حدیث نمبر: 191
نا الْقَاسِمُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَعْرُوفٍ ، نا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ زَكَرِيَّا ، وَحُصَيْنٍ ، وَيُونُسَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، سَمِعَهُ مِنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ ؟ قَالَ : " إِنِّي أَدْخَلْتُ رِجْلَيَّ وَهُمَا طَاهِرَتَانِ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ موزوں پر مسح کرتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بلاشبہ میں نے دونوں پاؤں کو طہارت کی حالت میں ( موزوں میں ) داخل کیا ہے ۔ “
حدیث نمبر: 192
نا بُنْدَارٌ ، وَبِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبَانٍ ، قَالُوا : نا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، نا الْمُهَاجِرُ وَهُوَ ابْنُ مَخْلَدٍ أَبُو مَخْلَدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " رَخَّصَ لِلْمُسَافِرِ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمًا وَلَيْلَةً إِذَا تَطَهَّرَ فَلَبِسَ خُفَّيْهِ أَنْ يَمْسَحَ عَلَيْهِمَا "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
حضرت عبد الرحمان بن ابی بکرہ اپنے والد محترم سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات کی رخصت دی ہے کہ جب وہ وضو کرکے موزے پہنے تو اُن پر مسح کرلے۔