کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: وضو میں پاؤں پر مسح کرنے اور انہیں نہ دھونے پر وعید کا بیان
حدیث نمبر: Q166
وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ الْمَاسِحَ لِلْقَدَمَيْنِ التَّارِكَ لِغَسْلِهِمَا مُسْتَوْجِبٌ لِلْعِقَابِ بِالنَّارِ، إِلَّا أَنْ يَعْفُوَ اللَّهُ وَيَصْفَحَ- نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عِقَابِهِ-‏.‏
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ پاؤں کو دھونے کی بجائے اُن کا مسح کرنے والا آگ کے عذاب کا مستحق ہے ۔ سوائے اس کے کہ اللہ تعالی معاف فرمادے اور درگزر کرے، ہم اللہ تعالی کے عذاب سے اُس کی پناہ مانگتے ہیں۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الوضوء وسننه / حدیث: Q166
حدیث نمبر: 166
نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : تَخَلَّفَ عَنَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ سَافَرْنَاهُ ، فَأَدْرَكَنَا وَقَدْ أَرْهَقَتْنَا الصَّلاةُ صَلاةُ الْعَصْرِ ، وَنَحْنُ نَتَوَضَّأُ ، فَجَعَلْنَا نَمْسَحُ أَرْجُلَنَا ، فَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاثًا : " وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ " . هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ عَفَّانَ بْنِ مُسْلِمٍ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے پیھچے رہ گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس پہنچے اور ہمیں عصر کی نماز نے جلدی میں ڈال دیا تھا اور ہم ( جلدی جلدی ) وضو کر رہے تھے۔ ہم اپنے قدموں کا مسح کر رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہ دیکھ کر کہ ہم پاؤں پوری طرح دھونے کے بجائے اُن کا مسح کر رہے ہیں ) دو یا تین بار بآوازِ بلند فرمایا: ” ( خشک رہ جانے والی ) ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔ “ یہ عفان بن مسلم کی حدیث ہے۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الوضوء وسننه / حدیث: 166
تخریج حدیث صحيح بخاري