کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ سر کا مسح ہاتھوں پر بچی ہوی تری سے ہو گا نہ کہ اصل پانی سے جس طرح کہ پانی سے ( کوئی عضو ) دھویا جاتا ہے
حدیث نمبر: Q157
قَالَ أَبُو بَكْرٍ‏:‏ خَبَرُ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ‏:‏ ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الْإِنَاءِ حَتَّى غَمَرَهَا الْمَاءُ، ثُمَّ رَفَعَهَا بِمَا حَمَلَتْ مِنَ الْمَاءِ، ثُمَّ مَسَحَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ كِلْتَيْهِمَا أَوْ جَمِيعًا‏.‏
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
امام ابو بکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی عبد خیر کی روایت میں ہے۔ پھر انہوں نے اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا حتیٰ کہ وہ پانی میں ڈوب گیا، پھر اُسے اس پر لگے ہوئے پانی سمیت اوپر اُٹھایا، پھر اُسے اپنے بائیں ہاتھ پر ملا، پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کا مسح کیا۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الوضوء وسننه / حدیث: Q157