کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: وضو کرتے وقت پانی کے استعمال میں میانہ روی مستحب ہے اور اسراف کرنا مکروہ ہے ۔ نیز پانی کے وسوسے سے بچنا چاہئے
حدیث نمبر: 122
نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، نا أَبُو دَاوُدَ ، نا خَارِجَةُ ابْنُ مُصْعَبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عُتَيِّ بْنِ ضَمْرَةَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ لِلْوُضُوءِ شَيْطَانًا يُقَالَ لَهُ وَلَهَانُ ، فَاتَّقُوا وَسْوَاسَ الْمَاءِ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” وضو کا ایک شیطان ہے جسے ولھان کہا جاتا ہے تو تم پانی کے وسوسوں سے بچو۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة / حدیث: 122
تخریج حدیث اسناده ضعيف جدا