کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: سمندر کے پانی سے غسل اور وضو کرنے کی رخصت ہے کیونکہ اس کا پانی پاک اور اس کا مردار حلال ہے
حدیث نمبر: Q111
ضِدُّ قَوْلِ مَنْ كَرِهَ الْوُضُوءَ، وَالْغُسْلَ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ، وَزَعَمَ أَنَّ تَحْتَ الْبَحْرِ نَارًا، وَتَحْتَ النَّارِ بَحْرًا حَتَّى عَدَّ سَبْعَةَ أَبْحُرٍ، وَسَبْعَ نِيرَانٍ، وَكُرْهُ الْوُضُوءِ وَالْغُسْلِ مِنْ مَائِهِ لِهَذِهِ الْعِلَّةِ زَعْمٌ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
اس شخص کے قول کے برعکس جو سمندر کے پانی سے وضو اور غسل کرنے کو مکروہ سمجھتا ہے اس کا دعویٰ ہے کہ سمندر کے نیچے آگ ہے، اور آگ کےنیچے سمندر ہے، اس طرح سات سمندر اور سات آگ ہیں۔ اس مزعومہ علت کی وجہ سے وہ سمندر کے پانی سے وضو اور غسل کرنا مکروہ سمجھتا ہے۔
حدیث نمبر: 111
نا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَهُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ مِنْ آلِ ابْنِ الأَزْرَقِ ، أَنَّ الْمُغِيرَةِ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ وَهُوَ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا نَرْكَبُ الْبَحْرَ ، وَنَحْمِلُ الْقَلِيلَ مِنَ الْمَاءِ ، فَإِنْ تَوَضَّأْنَا مِنْهُ عَطِشْنَا ، أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ ؟ فَقَالَ : " هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ ، الْحَلالُ مَيْتَتُهُ " . هَذَا حَدِيثُ يُونُسَ ، وَقَالَ يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ : عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، وَلَمْ يَقُلْ : مِنْ آلِ ابْنِ الأَزْرَقِ ، وَلا مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ ، وَقَالَ : نَرْكَبُ الْبَحْرَ أَزْمَانًا
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ دریافت کرتے ہوئے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول ، ہم سمندری سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑا سا پانی لے جاتے ہیں۔ اگر ہم اس سے وضو کریں تو پیاسے رہ جائیں گے ، تو کیا ہم سمندری پانی سے وضو کرلیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اُس کا پانی پاک ہے، اُس کا مردار حلال ہے۔ یہ یونس کی حدیث ہے۔ امام صاحب کہتے ہیں کہ یحییٰ بن حکیم نے اپنی روایت میں « حدث » کی بجائے « عن » صفوان بن سلیم بیان کیا ہے۔ اُنہوں نے سعید بن سلمہ کے نام کے ساتھ « من اٰل ان الأزرق » اور مغیرہ کے نام کے ساتھ « من بني عبدالدار » نہیں کیا ( یعنی ان کے قبیلوں کا نام نہیں لیا ) ۔ نیز ان الفاظ کا اضافہ کیا ہے کہ ” ہم مدتوں سمندری سفر میں رہتے ہیں۔ “
حدیث نمبر: 112
نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، نا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنِ ابْنِ مِقْسَمٍ ، قَالَ أَحْمَدُ : يَعْنِي عُبَيْدَ اللَّهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْبَحْرِ ، قَالَ : " هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ ، وَالْحَلالُ مَيْتَتُهُ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سمندرکےمتعلق پوچھا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔ “