کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: عورت کے غسل جنابت سے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنا جائز ہے
حدیث نمبر: 109
نا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ وَهُوَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وَحَدَّثَنَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ . ح وَحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْتَسَلَتْ مِنَ الْجَنَابَةِ ، " فَتَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوِ اغْتَسَلَ مِنْ فَضْلِهَا " . هَذَا حَدِيثُ وَكِيعٍ ، وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : " فَتَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَضْلِهَا " . وَقَالَ أَبُو مُوسَى ، وَعُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ مِنْ فَضْلِهَا ، فَقَالَتْ لَهُ ، فَقَالَ : " الْمَاءُ لا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سے ایک زوجہ محترمہ نے غسل جنابت کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے بچے ہوئے پانی سے وضو یا غسل کیا۔ ‘‘ یہ وکیع کی حدیث ہے۔ احمد بن منیع کی روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے بچے ہوئے پانی سے وضو کیا۔ ابو موسیٰ اور عتبہ بن عبداللہ کی روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ( اور ) اُن کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے لگے تو اُنہوں نے عرض کی کہ ( اللہ کے رسول ، یہ پانی تومیرے غسل جنابت سے بچا ہوا ہے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” پانی کوکوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة / حدیث: 109
تخریج حدیث اسناده صحيح