کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ” وہ نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھ نے رات کہاں گزاری ہے “ سے آپ کی مراد یہ ہے کہ اسے علم نہیں ہے کہ اس کا ہاتھ اس کے جسم پر کہاں لگا ہے
حدیث نمبر: 100
نا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، نا شُعْبَةُ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ ، فَلا يَغْمِسْ يَدَهُ فِي إِنَائِهِ أَوْ فِي وَضُوئِهِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ، فَإِنَّهُ لا يَدْرِي أَيْنَ أَتَتْ يَدُهُ مِنْهُ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم سے کوئی شخص نیند سے جاگے تو اپنا ہاتھ دھوئے بغیر اپنے وضو کے برتن کے پانی میں نہ ڈالے، کیونکہ اُسے معلوم نہیں کہ اُس کا ہاتھ اس کے جسم کے کسی حِصّے کو لگا ہے۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة / حدیث: 100
تخریج حدیث «صحيح البخارى: كتاب الوضوء: 157 ، صحيح مسلم: كتاب الطهارة: باب كراهة اغمس المتوضى وغيره يده المشكوك فى: 278 ، سنن ترمذي: 24 ، سنن نسائي: 1 ، سنن ابي داود: 94 ، سنن ابن ماجه: 387 ، مسند احمد: 455/2 ، موطا امام مالك: 33 ، سنن الدارمي: 759 ، و ابن حبان: 1064 ، 1065 ، من طريق خالد الخلداء عن عبدالله بن شفيق»